أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ لَا يُغۡنِىۡ مَوۡلًى عَنۡ مَّوۡلًى شَيۡـئًا وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

جس دن کوئی دوست کیسی دوست کے کام نہیں آسکے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

اے مجرمو ! آج (نیکوں سے) الگ ہوجائو

الدخان : ٤١ میں فرمایا : ” جس دن کوئی دوست کیسی دوست کے کام نہیں آسکے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی “

اس مراد یہ ہے کہ دوست خواہ قریب ہو یا بعید وہ اس کے کسی کام نہیں آسکے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے، یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا، اس کا معنی یہ ہے، کہ جس سے مدد متوقع ہوتی ہے وہ یا دین میں قریب ہوتا ہے یا نسب میں قریب ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو مولی اور مددگار کہا جاتا ہے اور جب قیامت کے دن کسی کو ان کی مدد نہیں حاصل ہوسکے تو ان کے علاوہ دوسروں کی مدد توبہ طریق اولیٰ حاصل نہیں ہوگی، یہ آیت اس آیت کے مشابہ ہے :

واتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ولا یقبل منھا عدال ولا تنفعھا شفاعۃ ولا ھم ینصرون (البقرہ :123)

اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ کسی شخص کی طرف سے کوئی فدیہ (جرمانہ) قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے سکے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 41