يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡـرٰىۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 16
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡـرٰىۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
جس دن ہم بہت سخت گرفت کے ساتھ پکڑیں گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں
سخت گرفت کے ساتھ پکڑنے کی متعدد تفسیریں
الدخان : ١٦ میں فرمایا : ” جس دن ہم بہت سخت گرفت کے ساتھ پکڑیں گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں “
اس آیت کا ایک محمل یہ ہے کہ اگر تم عذاب دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور تم نے اپنے وعدہ کو پورا نہ کیا تو ہم تم سے اس دن انتقام لیں گے جس دن ہم بہت سخت گرفت کے ساتھ پکڑیں گے، اسی وجہ سے اس قصہ کو فرعون کے قصہ کے ساتھ متصل ذکر فرمایا ہے کیونکہ جب قوم فرعون پر انواع و اقسام کے عذاب نازل کیے گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا کہ اگر ان سے یہ عذاب دور کردیا گیا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں گے، پھر وہ ایمان نہیں لائے حتیٰ کہ انہیں غرق کردیا گیا۔
دوسرا محمل یہ ہے کہ جس دن ہم سخت گرفت کے ساتھ پکڑیں گے اس دن ہم تمام کافروں سے انتقام لیں گے۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ دھوئیں کا انتظار کیجئے اور سخت گرفت والے دن کا انتظار کیجئے۔
حضرت ابن عباس، حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن مسعود نے کہا ہے کہ سخت گرفت والے دن سے مراد جنگ بدر کا دن ہے اور حسن اور عکرمہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے۔
الماوردی نے کہا ہے کہ دھواں دنیا میں ہوگا یا بھوک اور قحط قیامت سے پہلے ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سخت گرفت والے دن سے مراد قیامت کا وقوع ہو کیونکہ وہ دنیا میں گرفت کا آخری دن ہے۔
انتقام سے مراد سزا ہے، اسی طرح عقوبت سے مراد بھی سزا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 16