حٰمٓ ۞- سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 1
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حٰمٓ ۞
ترجمہ:
حا میم
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
حا میم اس کتاب کا نازل کرنا اللہ کی جانب سے ہے جو بہت غالب، بےحد حکمت والا ہے بیشک آسمانوں اور زمینوں میں مؤمنوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں اور تمہاری تخلیق میں اور ان جانداروں میں جن کو زمین میں پھیلایا گیا ہے یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور رات اور دن کے اختلاف میں اور اللہ نے آسمان سے جو رزق نازل کیا ہے، پھر اس (پانی) سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہی کیا (اس میں) اور ہوائوں کو چلانے میں اصحاب فہم و فراست کے لیے ضرور نشانیاں ہیں یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کی ہوم آپ کے سامنے حق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، سو اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد وہ کس کتاب پر ایمان لائیں گے (الجاثیہ :1-6)
حدیث ” کنت کنزا مخفیا “ کی تحقیق
الجاثیہ : ١ میں فرمایا : حامیم، اس کا معنی ہے : اس سورت کی ابتداء حا میم سے ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حٰم ٓ کی حا سے اللہ تعالیٰ کیحیات کی طرف اشارہ ہے اور اس کی میم سے اس کی مؤدت اور محبت کی طرف اشارہ ہے، گویا کہ فرمایا : مجھے اپنی حیات اور اپنی محبت کی قسم ! مجھے اپنے اولیاء اور احباء سے ملاقات کی بہ نسبت اور کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔
علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :
میں کہتا ہوں کہ حا سے حب ازلی کی طرف اشارہ ہے جو مقدم ہے اور میم سے معرفت ابدیہ کی طرف اشارہ ہے جو مؤخر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود علیہالسلام سے فرمایا تھا :
کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق۔
میں ایک مخفی خزانہ تھا، پس میں نے پسند کیا کہ میں پہنچانا جائوں تو میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔
اس حدیث میں قدسی سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت معرفت پر مقدم ہے۔ (روح البیان ج ٨ ص ٥٨٤، داراحیاء التراث، بیروت، ١٤٢١ ھ) (الدرالمستثرۃ فی الاحادیث المنتشر ۃ ص ٢٢٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :
ابن تیمیہ نے کہا : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام سے بالکل نہیں ہے، اس کی کوئی سند معروف نہیں ہے، صحیح نہ ضعیف، علامہ زرکشی اور علامہ عسقلانی نے بھی اس کی اتباع کی ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے اور قرآن مجید کی اس آیت سے مستفاد ہے :
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذریات : 56)
میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں
حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ (الاخبار الموضوعۃ ص ١٧٩، رقم الحدیث : ٦٩٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٥ ھ)
علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی ١١٦٢ ھ، ملا علی قاری کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اکثر صوفیاء کے کلام میں یہ حدیث ہے، انہوں نے اس حدیث پر اعتماد کیا ہے اور اس پر اپنے قواعد کی بنیاد رکھی ہے۔ (کشف الخفاء مزیل الالباس ج ٢ ص ١٣٢، مکتبۃ الغزالی دمشق)
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 1