أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَارۡتَقِبۡ اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو آپ انتظار کیجئے، بیشک وہ (بھی) انتظار کرنے والے ہیں

الدخان : ٥٩ میں فرمایا : ” سو آپ انتظار کیجئے، بیشک وہ (بھی) انتظار کرنے والے ہیں “

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتظار اور کفار مکہ کے انتظار کے الگ الگ محمل

آپ انتظار کیجئے کہ کفار کے لیے جو سزا مقدر کی گئی ہے وہ ان کو کب ملتی ہے، کیونکہ ان کی سزا سے متقین کو نصیحت حاصل ہوگی اور وہ بھی اتنظار کررہے ہیں کہ آپ کے اوپر آفات اور مصائب نازل ہوں، پس عنقریب آپ کی امید پوری ہوگی اور ان کو سزا ملے گی اور آپ پر کوئی آفت اور مصیبت نازل نہیں ہوگی اور وہ جس چیزکا انتظار کررہے ہیں وہ ان کو حاصل نہیں ہوگی اور وہ ناکام اور نامراد ہوں گے۔

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی : آپ نے تبلیغ اسلام اور اللہ تعالیٰ کے پیغام اٹھانے پر جو مشقت اٹھائی ہے آپ اس پر اجروثواب کا انتظار کیجئے اور انہوں نے اللہ سبحانہ ‘ کے پیغام کو مسترد کرکے جس ہٹ دھرمی کا اظہار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید کو جھٹلایا ہے اور بار بار کہا ہے کہ وہ عذاب کب نازل ہوگا سو وہ اس عذاب کا انتظار کرنے والے ہیں۔

قرآن مجید کے آسان ہونے پر ایک اعتراض کا جواب

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ الدخان : ٥٨ میں فرمایا ہے : ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کیا ہے اور المزمل : ٥ میں فرمایا ہے : انا سنلقی علیک قولا ثقیلا (المزمل :5)

بے شک ہم آپ پر بہت بھاری بات نازل کریں گے۔

بظاہر ان دونوں آیتوں میں تعارض ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید بہت آسان بھی ہے اور بہت ثقیل اور دشوار بھی ہے، قرآن مجید پڑھنے میں آسان ہے اور چونکہ اس کے احکام پر عمل کرنا نفس پر بہت دشوار ہے اس لیے یہ عمل کے لحاظ سے ثقیل ہے۔

امام جعفر صادق نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر قرآن مجید کا پڑھنا آسان نہ کردیا ہوتا تو مخلوق میں اتنی طاقت کہاں تھی کہ وہ خالق لم یزل کا کلام اپنی زبان پر لاسکتی۔

سورۃ الدخان کا خاتمہ

الحمد للہ رب العٰلمین ! آج مورخہ ٢١ محرم ١٤٢٥ ھ ؍١٣ مارچ ٢٠٠٤ بروز ہفتہ بعد نماز ظہر، سورة الدخان کی تفسیر ختم ہوگئی، الہ العٰلمین ! جس طرح آپ نے یہاں تک تفسیر مکمل کرادی ہے، قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرادیں اور اس تفسیر کو موافقین کے لیے موجب استقامت اور مخالفین کے لیے موجب ہدایت بنادیں اور محض اپنے فضل و کرم سے میری، میرے والدین اور میرے اساتذہ کی مغفرت فرمائیں، اس کتاب کو تاروز قیامت فیض آفریں رکھیں۔

واخر دعونا ان الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام

علی سیدنا محمد خاتم النبین وعلی آلہ و اصحابہ

وازواجہ وعترتہ اجمعین

القرآن – سورۃ نمبر 44 الدخان آیت نمبر 59