مِنۡ وَّرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۚ وَلَا يُغۡنِىۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـئًـا وَّلَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌؕ ۞- سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 10
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مِنۡ وَّرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۚ وَلَا يُغۡنِىۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـئًـا وَّلَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌؕ ۞
ترجمہ:
ان کے پیچھے دوزخ ہے اور ان کے کیے ہوئے عمل ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور نہ وہ ان کے کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا مددگار بنا لیا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے
الجاثیہ : ١٠ میں فرمایا : ” ان کے پیچھے دوزخ ہے اور ان کے کیے ہوئے عمل ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور نہ وہ ان کے کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا مددگار بنا لیا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے “
اس آیت میں ” الوراء “ کا لفظ ہے، وراء اس جانب کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کے سامنے یا پیچھے کی چیزیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ (الکشاف ج ٤ ص ٢٩٠) یعنی جہنم ان کے سامنے ہے کیونکہ یہ اس عذاب کی طرف متوجہ ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہے، یا ان کے پیچھے جہنم ہوگا کیونکہ یہ جہنم سے اعراض کرکے دنیا کی متوجہ ہوں گے۔
ان کا کوئی عمل ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا نہیں سکے گا، اور یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں کی یا جن شخصیات کی عبادت کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کو دوزخ کے عذاب سے نجات نہیں دلاسکے گا اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔
القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 10