أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ۞

ترجمہ:

جو (کتاب) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لیے شدید درد ناک عذاب ہے

الجاثیہ : ١١ میں فرمایا : ” یہ (کتاب) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لیے شدید درد ناک عذاب ہے “

آیات مذکورہ کے اشارات

یہ قرآن مجید انتہائی ہدایت دینے والی کتاب ہے گویا کہ یہ عین ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کفر کیا ہے ان کے لیے بہت سخت درد پہنچانے والا عذاب ہے، ان آیات میں حسب ذیل اشارات ہیں :

(١) بعض لوگوں کے سامنے جب قرآن مجید کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ بظاہر ان آیات کو سن رہے ہوتے ہیں لیکن وہ غفلت کی وجہ سے یا قرآن مجید کو غیراہم سمجھنے کی وجہ سے حقیقت میں قرآن مجید کو نہیں سنتے، ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے، کیونکہ وہ تکبر کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور ان آیات کے تقاضوں پر عمل نہیں کرتے، اس آیت کی وعید کے خطرہ میں وہ لوگ بھی ہیں جو حضور قلب کے بغیر بےتوجہی اور بےدھیانی سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں یا قرآن مجید کی تلاوت کو سنتے ہیں۔

(٢) جب کوئی عالم ربانی قرآن مجید کی کسی آیت سے کوئی نکتہ بیان کرے تو اس کو قبول کرنا چاہیے اور عناد اس کو رد نہیں کرنا چاہیے اور جب کوئی عالم دین قرآن مجید اور احادیث سے کوئی نظریہ پیش کرے تو اس کو محض تعصب اور ہٹ دھرمی سے یا اندھی تقلید کی بناء پر رد نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جب عالم دین قرآن و حدیث کے حوالے سے کوئی بات کہے تو اس کو رد کرنا درحقیقت قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کو رد کرنا ہے۔

(٣) قرآن مجید ہدایت ہے لیکن ان کے لیے ہدایت ہے جو قرآن مجید کو مانتے ہیں، نہ کہ ان کے لیے جو قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں، پس جو شخص قرآن مجید کی عبارات اور اس کے اشارات کا اقرار کرتا ہے وہ دوزخ کے عذاب کی رسوائی سے نجات پائے گا اور جو اس کا انکار کرے گا وہ دوزخ کے رسوا کرنیوالے عذاب میں گرجائے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 11