أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِىۡ رَحۡمَتِهٖ‌ ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِيۡنُ ۞

ترجمہ:

پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل فرمالے گا، یہی واضح کامیابی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل فرمالے گا، یہی واضح کامیابی ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا :) کیا تمہارے سامنے میری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں، پس تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے اور جب (تم سے) کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے، ہم محض گمان کرتے تھے اور ہم یقین کرنے والے نہ تھے (الجاثیہ : 30-32)

حقیقی کامیابی کا مصداق

اللہ تعالیٰ مؤمنین اور صالحین کو اپنی رحمت میں داخل کرلے گا، رحمت سے مراد اس کی جنت ہے اور چونکہ جنت رحمت کا محل ہے اس لیے جنت پر رحمت کا اطلاق فرمادیا اور فرمایا : یہی واضح کامیابی ہے کیونکہ جنت میں اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا دیدار عطا فرمایا جائے گا اور اس کے دیدار سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت گزاروں کا حال بیان فرمایا ہے اور اس کے منکروں اور مجرموں کا حال اس سے متصل دوسری آیت میں ہے :

الجاثیہ : ٣٠ میں فرمایا : ” اور جن لوگوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا :) کیا تمہارے سامنے میری آیات نہیں پڑھی جاتی تھیں، پس تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے “

جو لوگ دور دراز کے علاقے میں رہتے ہوں اور ان کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو…آیا وہ مکلف ہیں یا نہیں ؟

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عذاب کے استحقاق کو اس پر معلق کیا ہے کہ ان آیات تلاوت کی جائیں اور وہ ان کو قبول کرنے سے تکبر کریں اور اس سے یہ واضح ہوا کہ احکام شرعیہ کے وارد ہونے کے بعد سزا کا استحقاق ثابت ہوتا ہے اور بغیر وردوشرع کے کوئی چیز فرض یا واجب نہیں ہوتی، اس کے برخلاف معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ عقل سے بھی کوئی چیز فرض یا واجب ہوجاتی ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دنیا کے دور دراز ملکوں میں جہاں کسی زمانہ میں اسلام کی دعوت نہیں پہنچی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت نہیں کی گئیں آیا ان کو ایمان نہ لانے کی وجہ سے عذاب ہوگا یا نہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ ان سے مواخذہ نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو ڈھانپ لے گی اور یہ لوگ معذور اور مغفور ہیں او یہ لوگ حکما اصحاب فترت ہیں، اسی طرح جو شخص مجنون ہو یا اس کی سخت بڑھاپے میں اسلام کو پایا ہو اور وہ سخت لاغری کی بناء پر احکام شرعیہ پر عمل نہ کرسکتا ہو یا جو شخص نابالغی کے زمانے سے بستر پر ہو اور صرف آکسیجن پر زندہ ہو، اس کو نلکی سے غذا دی جاتی ہو اور فراغت بھی بستر پر ہوتی ہو اور جو شخص بہرا اور گونگا ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی۔ قرآن مجید میں ہے :

وما کنا معذبین حتی نبعث رسول (بنی اسرائیل :15)

اور ہم ان کو اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ان میں رسول نہ بھیج دیں

اور یہاں رسول سے مراد احکام شرعیہ کی تبلیغ ہے تو جب تک کسی شخص کے پاس احکام شرعیہ نہ پہنچ جائیں وہ احکام شرعیہ کا مکلف نہیں ہوگا، اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے عذر پیش کریں گے، ایک وہ آدمی جو زمانہ فترت میں فوت ہوگیا، دوسرا وہ آدمی جس نے سخت بڑھاپے میں اسلام کو پایا، تیسرا وہ آدمی جو بہرا اور گونگا ہو، چوتھا وہ آدمی جو بےعقل ہو، اللہ ان کی طرف ایک رسول کو بھیجے گا اور ان سے فرمائے گا : اس رسول کی اطاعت کرو، پس وہ رسول ان کے پاس آئے گا، پھر آگ بھڑکائی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا اس آگ میں داخل ہوجائو، سو جو اس آگ میں داخل ہوجائیں گا ان پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی اور جو اس میں داخل نہیں ہوگا اس اس پر عذاب ثابت ہوجائے گا۔ (الفردوس بما ثور الخطاب ج ١ ص ٣٧٩، رقم الحدیث : ١٥٢٣ )

اس روایت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آخرت دارالتکلیف نہیں ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خواہش کرنے والوں کی خواہشوں کو معاف کردے گا اور لوگوں کا حساب ان کے اعمال کے اعتبار سے لیا جائے گا۔ (الفردوس بما ثور الخطاب ج ١ ص ٢٥٣، رقم الحدیث : ٩٨٠)

زندیق دہریہ کو کہتے جو نہ آخرت پر ایمان لاتا ہے اور نہ خالق پر، وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ وہ کسی چیز کے حرام ہونے کو مانتا ہے۔

اصول میں یہ مقرر ہے کہ جس شخص تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی وہ محض اپنی عقل کی وجہ سے مکلف نہیں ہے، پس جو شخص کسی پہاڑ کے غار میں بالغ ہوا ہو اور اس نے اتنی عمر نہ پائی ہو کہ وہ غور وفکر کرکے اپنے خالق کی معرفت حاصل کرسکے اور فوراً امر گیا ہو تو وہ ایمان لانے کا مکلف نہیں ہے اور اس کو معذور قرار دیا جائے گا، کیونکہ کسی شخص کی مہلت پانا اور اتنا زمانہ پالینا کہ وہ غور و فکر کرکے خالق کی معرفت حاصل کرسکے اس کے حق میں رسول کی تبلیغ کے قائم مقام ہے اور جب اس نے اپنی زندگی میں اتنی مہلت پائی اور غور و فکر نہیں کیا تو پھر وہ معذور نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 30