قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَرُوۡنِىۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِى السَّمٰوٰتِؕ اِیْتُوۡنِىۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 4
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَرُوۡنِىۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ اَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٌ فِى السَّمٰوٰتِؕ اِیْتُوۡنِىۡ بِكِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ هٰذَاۤ اَوۡ اَثٰرَةٍ مِّنۡ عِلۡمٍ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞
ترجمہ:
آپ کہیے تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو کیا تم نے دیکھا ہے کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، ذرا مجھے بھی دکھائو انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس اس سے پہلی کوئی کتاب لائو یا (پہلے) علم کا کچھ بقیہ حصہ اگر تم سچے ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو، کیا تم نے دیکھا ہے کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، ذرا مجھے بھی دکھائو کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس اس سے پہلی کوئی کتاب لائو یا پہلے علم کا کچھ بقیہ حصہ اگر تم سچے ہو اور اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا جو ان کو پکارے جو قیامت تک ان کی فریاد نہ سن سکیں اور وہ ان (کافروں) کی پکار سے بیخبر ہیں اور جب لوگوں کو (میدان حشر) میں جمع کیا جائے گا تو (ان کے خود ساختہ معبود) ان کے دشمن ہوں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کفار اس حق کے متعلق کہتے ہیں جو ان کے پاس آچکا ہے یا کھلا ہوا جادو ہے یا کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اس کو گھڑ لیا ہے، آپ کہیے کہ اگر (بالفرض) میں نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہوتا تو تم مجھے اللہ کے عذاب سے بالکل بچا نہیں سکتے تھے، تم اس (قرآن) کے متعلق جو کچھ کہہ رہے ہو اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے، میرے اور تمہارے درمیان بچا نہیں سکتے تھے، تم اس (قرآن) کے متعلق جو کچھ کہہ رہے ہو اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی کافی گواہ ہے اور وہ بہت بخشنے والا ہے، بےحد مہربان ہے (الاحقاف : ٨۔ ٤)
” اثارۃ “ کا معنی
الاحقاف : ٤ میں ” اثارۃ “ کا لفظ ہے جس کا ایک معنی خط اور لکیریں ہے، اس کا دوسرا معنی کسی چیز کا بقیہ حصہ ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے : مخصوص علم۔ مجاہد نے کہا کہ اس کا معنی ہے : تمہارے پاس کوئی ایسی روایت ہے جو تم سے پہلے لوگوں سے منقول ہو۔ عکرمہ اور مقاتل نے کہا : کیا انبیاء سابقین سے اس سلسلہ میں کوئی روایت ہے ؟ حسن نے کہا : کیا تم نے کسی چیز سے اس کو مستنبط کیا ہے کہ زمین اور آسمان کے بنانے میں کسی اور کا بھی حصہ ہے ؟ زجاج نے کہا : ” اثارۃ “ ” شجاعۃ “ اور ” سماحۃ “ کی طرح مصدر ہے اور اس کا معنی علامت ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٦ ص ١٧١، جامع البیان جز ٢٦ ص ٥۔ ٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
زمین پر لکیریں ڈال کر غیب کی باتیں معلوم کرنے کے سلسلہ میں یہ حدیث ہے :
حضرت معاویہ بن الحکم سلمی (رض) ایک طویل حدیث کے ضمن میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نیا نیا زمانہ جاہلیت سے نکلا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام میں داخل کیا ہے، بیشک ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں، آپ نے فرمایا : تم ان کے پاس نہ جایا کرو، اور انہوں نے کہا : اور ہم میں سے بعض لوگ براشگون نکالتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جو صرف ان کے سینوں میں ہے، پس وہ اس کے درپے نہ ہوں۔ انہوں نے کہا : ہم میں سے بعض لوگ زمین پر لکیریں کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا : انبیاء سابقین میں سے ایک نبی لکیریں کھینچتے تھے، سو جس کی لکیریں ان کے موافق ہوجائیں وہ ٹھیک ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٣٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٩٣٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٢١٨)
کاہن، عراف، بدشگونی اور رمال کی تعریفات اور ان کا شرعی حکم
اس حدیث میں کاہن کا ذکر ہے، کاہن وہ شخص ہے جو مستقبل کی باتیں بتاتا ہے اور معرفت اسرار کا دعویٰ کرتا ہے اور عراف وہ شخص ہے جو چرائی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کا پتا بتاتا ہے۔ عرب میں کاہن ہوتے تھے جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں بہت سی چیزوں کی معرفت ہے اور بعض یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا جنات سے رابطہ ہے اور وہ آ کر ان کو غیب کی خبریں بتاتے ہیں اور بعض نجومی کو کاہن کہتے ہیں۔ اور حدیث میں کاہن کے پاس جانے کی ممانعت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی وہ اس چیز سے بری ہوگیا جس کو اللہ عزوجل نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا۔
اور اس حدیث میں بدشگونی کا ذکر ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو لوگ ازخود اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں اس کی پیروی نہیں کرنی چاہیے اور تم جو کام کرنے جا رہے ہو کسی بدشگونی کی وجہ سے اس کو ترک نہ کرو۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدشگونی پر عمل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اور اس حدیث میں لکیریں کھینچنے کا ذکر ہے اور فرمایا ہے کہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچتے تھے پس جس کی لکیریں اس کے موافق ہوئیں، اس کا فعل درست ہے۔ اس حدیث کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے۔
صحیح یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جس کی لکیر اس نبی کی لکیر کے موافق ہوئی وہ مباح ہے اور ہمارے پاس اس موافقت کو جاننے کا کوئی علم یقینی نہیں ہے لہٰذا لکیریں کھینچ کر غیب کی باتیں معلوم کرنا جائز نہیں ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے : جس کی لکیر اس نبی کی لکیر کے موافق ہوئی وہ درست ہے اور موافقت پر معلق کئے بغیر یہ نہیں فرمایا کہ وہ حرام ہے تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ اس ممانعت میں اس نبی کا فعل بھی داخل ہے جو لکیریں کھینچتے تھے۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نبی کے احترام میں صرف ہمارے فعل کا حکم بیان فرمایا، سو اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اس نبی (علیہ السلام) کا فعل ممنوع نہیں ہے اسی طرح تمہارا فعل بھی ممنوع نہیں ہوگا بہ شرطی کہ تمہیں اس کی موافقت کا علم ہوجائے لیکن تمہارے پاس اس کے علم کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں۔
علامہ خطابی نے کہا : اس حدیث میں لکیریں کھینچ کر علم حاصل کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ اس نبی کے فعل کی کئی علامت نہیں ہے تو ہمیں اس سے منع کیا گیا ہے۔
قاضی عیاض نے کہا : مختاریہ ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فعل کو ہمارے لئے مباح نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ٣ ص ١٨٠٧۔ ١٨٠٦، مکتبہ نزار مصطفیٰ ، بیروت، ١٤١٧ ھ)
ذاتی اور عطائی علم غیب کی تحقیق
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
قاضی ابوبکر ابن العربی متوفی ٥٤٣ ھ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے غیب پر دلالت کرنے والے کوئی اسباب باقی نہیں رکھے جن سے غیب پر استدلال کیا جائے، ماسوا سچے خوابوں کے، کیونکہ ان سے غیب پر استدلال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے، اس سلسلے میں یہ حدیث ہے اس کی عبارت امام ترمذی کی ہے اور متعدد ائمہ حدیث نے اس کو روایت کیا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے لہٰذا میرے بعد کوئی رسول ہوگا نہ نبی ہوگا، لوگوں پر یہ بات شاق گزری تو آپ نے فرمایا : لیکن مبشرات باقی ہیں، مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ مبشرات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ مسلمان کا خواب ہے جو نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٨٨، صحیح مسلم الرقم المسلسل : ٥٨٦٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠١٨، مسند احمد ج ٣ ص ٢٦٧ )
اور اسی طرح فال کی بھی حدیث میں اجازت دی گئی ہے، حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان میں بہترین چیز فال ہے۔ مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! فال کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ اچھی اور نیک بات جس کو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے (جیسے صلح حدیبیہ کے موقع پر جب سہیل بن عمرو آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملہ کو سہل کردیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٣٢) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل کا نام سن کر اس لفظ سے سہل کی فال نکالی) ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٥٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٦٠٧، عالم الکتب، بیروت)
اور رہی بدشگونی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اس حدیث مذکور میں اس کی تصریح ہے اور فال اس کو کہتے ہیں کہ انسان کوئی کام کرنا چاہتا ہو اس موقع پر کوئی کلام سن کر اس سے اس کام کے نیک اور اچھے ہونے پر استدلال کرے اور اگر اس موقع پر کوئی بات سن کر اس سے اس کام کے برے ہونے پر استدلال کرے یا اس کام میں ناکام ہونے پر استدلال کرے تو یہ بدشگونی ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے کہ فال سے خوش ہونا چاہیے اور خوشی خوشی اپنی پیش آمدہ مہم کی طرف روانہ ہونا چاہیے اور جب اپنی مہم پر روانہ ہوتے وقت کوئی ایسا کلام سنے جس سے اس مہم میں ناکامی پر استدلال کیا جائے تو اس بدشگونی سے اعراض کرے اور اس کی وجہ سے اپنی مہم کو ترک نہ کرے۔ (احکام القرآن لابن العربی ج ٤ ص ١٢٥ )
خلاصہ یہ ہے کہ غیب کا علم صرف مومن کے سچے خواب کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے یا فال کے ذریعہ اور اولیاء اللہ کے الہامات سے بھی غیب کا علم حاصل ہوتا ہے لیکن یہ تمام غیوب ظنی ہیں، قطعی علم غیب صرف وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی وحی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور یہ علم غیب عطائی ہے جس کو علماء کی اصطلاح میں ماعلیہ دلیل یا علم غیب بالواسطہ کہا جاتا ہے، رہا وہ غیب جو بغیر کسی ذریعہ اور واسطہ کے ہو اور جس کے حصول کی کوئی دلیل اور سبیل نہ ہو وہ غیب ذاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 4