أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان کے تمام کاموں کب بُرائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان کا احاطہ کرلے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور ان کے تمام کاموں کب بُرائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ اکا احاطہ کرلے گا اور (ان سے) کہا جائے گا : آج ہم تمہیں اسی طرح فراموش کردیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے یہ (سزا) اس لیے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا مذاق بنالیا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، پس آج وہ اس دوزخ سے نہیں نکالے جائیں گے اور نہ ان سے اللہ کی رضا جوئی طلب کی جائے گی پس اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جو تمام آسمانوں کا رب ہے اور تمام زمینوں کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہیں اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمینوں میں بڑائی ہے اور وہی بہت غالب، بےحد حکمت والا ہے (الجاثیہ : 33-37)

برے کاموں کی آخرت میں بری اور ڈرائونی صورتیں

کفار مکہ دنیا میں جن کاموں کو اچھا سمجھ کر کرتے تھے، قیامت کے دن ان پر منکشف ہوگا کہ وہ کام برے تھے اور ان کے کیے ہوئے کام بہت ڈرائونی اور خراب صورتوں میں ظاہر ہوں گے، ان کے کیے ہوئے کاموں سے مراد شرک اور کفر ہے اور وہ گناہ ہیں جن کی طرف ان کی طبیعت اور ان کا نفس مائل ہوتا تھا اور جن کاموں کی ان کو خواہش ہوتی تھی اور ان کاموں میں ان کو لذت محسوس ہوتی تھی، وہ ان کاموں کو بہت اچھا سمجھتے تھے اور قیامت کے دن ان پر منکشف ہوگا کہ وہ بہت برے کام تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ حرام کام خنزیر کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور حرص چوہے کی شکل میں ظاہر ہوگی او شہوت گدھے کی صورت میں اور غضب بھیڑئیے کی صورت میں اور تکبر چیتے کی صورت میں، بخل کتے کی صورت میں اور کینہ اونٹ کی صورت میں، اذیت سانپ اور بچھو کی صورت میں، لواطت ہاتھی کی صورت میں، سازش لومڑی کی صورت میں، نوحہ گیڈر کی صورت میں، ریاکاری کوّے کی صورت میں اور کھیل کود الّو کی صورت میں ظاہر ہوں گی او یہ لوگ جو قیامت میں شک کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اس کی سزا میں ان کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ان کا احاطہ کرلے گا۔ (روح البیان ج ٨ ص ٦١٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 33