أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ وَهُمۡ عَنۡ دُعَآئِهِمۡ غٰفِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا جو ان کو پکارے جو قیامت تک ان کی فریاد نہ سن سکیں اور وہ ان (کافروں) کی پکار سے بیخبر ہیں

بتوں کے نہ سننے کی قیامت تک کی تخصیص

الاحقاف : ٥ میں فرمایا : اور اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہوگا، جو ان کو پکارے جو قیامت تک ان کی فریاد نہ سن سکیں اور وہ ان (کافروں) کی پکار سے بیخبر ہیں

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ سب سے گمراہ اور جاہل ہیں جو اپنے مصائب میں بتوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کی پکار اور فریاد کو سن نہیں سکتے، وہ ان کی پکار کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔

اس آیت میں فرمایا ہے : وہ قیامت تک ان کی پکار کو نہیں سنتے، حالانکہ وہ بت ان کی پکار کو دنیا میں بھی کبھی نہیں سنتے، پھر قیامت کا ذکر کیوں فرمایا ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے مصائب کی بہ نسبت قیامت کے دن کی مصیبت ان کے لئے بہت سخت ہوگی اس دن وہ بت ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے جن کی وہ دنیا میں عبادت کرتے رہے تھے، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا :

ان علیک لعنتی الی یوم الدین (ص : ٧٨) بیشک قیامت کے دن تک میری تجھ پر لعنت ہے

ہر چند کہ اللہ تعالیٰ کی ابلیس پر ابدی لعنت ہے لیکن اس کا قیامت کے دن اظہار بہت سخت ہوگا۔

اور اس آیت میں فرمایا : وہ بت ان کی فریاد اور چیخ و پکار سے غافل ہیں، کیونکہ وہ بت جمادات ہیں وہ کس طرح ان کی فریاد کا جواب دے سکتے ہیں ؟ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مشرکین تو فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے اور وہ زندہ ہیں اور ان کی فریاد کو سنتے ہیں ان کو مشرکین کی فریاد سننے سے غافل کہنا کس طرح درست ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مسخر ہیں وہ مختار نہیں ہیں، ان کو جس کام پر لگا دیا ہے وہ اسی کام کو کر رہے ہیں وہ از خود کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جب تک اس چیز کی طرف اللہ سبحانہٗ ان کو متوجہ نہ فرمائے اس لئے وہ بھی مشرکین کی فریاد سننے سے غافل ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 5