فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰٓى اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡهُمۡ فَشُدُّوۡا الۡوَثَاقَ ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الۡحَـرۡبُ اَوۡزَارَهَا ۛۚ ذٰ لِكَ ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانْـتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰـكِنۡ لِّيَبۡلُوَا۟ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍؕ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَلَنۡ يُّضِلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ۞- سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 4
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰٓى اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡهُمۡ فَشُدُّوۡا الۡوَثَاقَ ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الۡحَـرۡبُ اَوۡزَارَهَا ۛۚ ذٰ لِكَ ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانْـتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰـكِنۡ لِّيَبۡلُوَا۟ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍؕ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَلَنۡ يُّضِلَّ اَعۡمَالَهُمۡ ۞
ترجمہ:
سو جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو، حتیٰ کہ جب تم ان کا خون بہا چکوتو ان کو مضبوطی سے گرفتار کرلو (پھر تم کو اختیار ہے) خواہ تم ان پر احسان کرکے ان کو بلا معاوضہ چھوڑ دو یا ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دو حتیٰ کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے، یہی حکم ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو (از خود) ان سے انتقام لیتا، (لیکن وہ یہ چاہتا ہے) کہ وہ تم میں سے ایک فریق کو دوسرے فریق کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کے راستہ میں قتل کیے جاتے ہیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا
محمد : ٤ میں فرمایا : سو جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مارو حتیٰ کہ جب تم ان کا خون بہا چکو تو ان کو مضبوطی سے گرفتار کرلو۔
جن کافروں کے متعلق جہاد کا حکم ہے ان کا مصداق
جب اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں اور کافروں کو ممیز اور ممتاز کردیا تو ان کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : کفار سے مراد وہ شرک ہیں جو بتوں کی عبادت کرتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ کفار سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام کے مخالف ہیں خواہ وہ مشرک ہوں یا اہل کتاب ہوں، بہ شرطی کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو، نہ وہ ذمی ہیں، الماوردی اور ابن العربی کا بھی یہی مختار ہے اور یہی قول صحیح ہے۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٢٩٣، احکام القرآن ج ٤ ص ١٢٩ )
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کی گردنیں مارو، یہ نہیں فرمایا کہ ان کو قتل کرو، کیونکہ گردنیں مارنے میں شدت اور سختی کا مبالغہ ہے۔
پھر فرمایا : حتیٰ کہ جب تم ان کو خون بہا چکو یعنی جب تم ان کو بہ کثرت قتل کر چکو تو ان کو مضبوطی سے گرفتار کرلو، تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔
اس کے بعد فرمایا : (پھر تم کو اختیار ہے) خواہ تم ان پر احسان کرکے ان کو بلامعاوضہ چھوڑ دو ، یا ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دو ، حتیٰ کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے، یہی حکم ہے۔
کفار کا خون بہانے کے بعد ان کو گرفتار کرنے کے متعلق مذاہب فقہاء
اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل پانچ اقوال ہیں :
(١) قتادہ، ضحاک، ابن جریج اور العوفی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت بت پرستوں کے متعلق ہے، ان کو فدیہ لے کر چھوڑنا جائز ہے اور نہ ان پر احسان کرکے انہیں بلامعاوضہ چھوڑنا جائز ہے، ان کے نزدیک اس آیت کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اور اس کی ناسخ حسب ذیل آیتیں ہیں :
………(التوبہ : ٥) پس مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو۔
………(الانفال : ٥٧) پس اگر آپ کا میدانِ جنگ میں ان سے سامنا ہو تو ان لوگوں کو مار مار کر بھگا دیں جو ان کے پیچھے ہیں۔
………(التوبہ : ٣٦) اور تمام مشرکین سے قتال اور جہاد کرو۔
بہ کثرت کو فیوں کو یہی قول ہے، عبد الکریم جوزی نے کہا ہے کہ حضرت ابوبکر کی طرف لکھا گیا کہ چند مشرکین کو قید کرلیا گیا ہے اور یہ لکھا گیا کہا انہوں نے اتنے اتنے فدیہ کی پیش کش کی ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے لکھا کہ ان کو قتل کردو، مشرکیں میں سے ایک شخص کو قتل کرنا ان کے نزدیک اتنے اتنے فدیہ سے زیادہ بہتر ہے۔ (تفسیر عبد الرزاق رقم الحدیث : ٢٨٦٤ )
(٢) امام ابوحنیفہ کا مشہور مذہب اور مجاہد اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک یہ آیت تمام کفار کے متعلق ہے اور یہ آیت منسوخ ہے، انہوں نے کہا : جب مشرک کو قید کرلیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے کہ اس پر احسان کرکے یا اس سے فدیہ لے کر اس کو رہا کردیا جائے اور مشرکین کی طرف اس کو واپس کردیا جائے، البتہ قیدی عورتوں کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ عورتوں کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، اور اس آیت کی ناسخ یہ آیت ہے :
……(التوبہ : ٥) پس مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو۔
کیونکہ سورة توبہ آخر میں نازل ہوئی ہے، پس ہر مشرک کو قتل کرنا واجب ہے، سو اعورتوں اور بچوں کے کیونکہ حدیث میں ہے کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٣١)
اسی طرح جن اہل کتاب سے جزیہلیا جائے ان کو بھی قتل نہ کیا جائے، کیونکہ اگر ان مشرکین کو فدیہ لے کر یا بغیر فدیہ کے چھوڑ دیا گیا تو یہ خدشہ ہے کہ وہ پھر مسلمانوں سے جنگ کرنا شروع کردیں گے۔ امام عبد الرزاق نے بھی اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ”……“ الانفال : ٥٧ اور التوبہ : ٥ سے منسوخ ہے۔ (تفسیر عبد الرزاق رقم الحدیث : ٢٨٧٠)
(٣) ضحاک اور ثوری نے بیان یا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ ”……“ کے لئے ناسخ ہے، ابن المبارک نے ازابن جریج از عطا روایت کیا ہے کہ قیدیوں کو احسان کرکے چھوڑ دیا جائے یا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور کسی مشرک قیدی کو قتل نہ کیا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد : ٤ میں فرمایا ہے۔ اشعت نے کہا کہ حسن بصری قیدی کے قتل کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے اور انہوں نے کہا کہ سربراہ مملکت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ جب اس کے پاس قیدی آئیں تو وہ ان کو قتل کردے، لیکن اس کو تین چیزوں میں سے ایک چیز کا اختیار ہے، یا ان کو بلا معاوضہ چھوڑ دے یا فدیہ لے کر چھوڑ دے یا ان کو غلام بنا لے۔
(٤) سعید بن جبیر نے کہا : جب تک مشرکین کو اچھی طرح قتل کرکے ان کا خون نہ بہایا جائے اس وقت تک ان کو قید کرنا جائز نہیں ہے اور جب ان کو قید کرلیا جائے تو پھر سربراہِ مملکت جو مناسب سمجھے ان کے متعلق وہ فیصلہ کرے۔
(٥) حضرت ابن عمر (رض) ، حسن، عطائ ‘ امام مالک، امام شافعی، ثوری، اوزاعی، ابو عبید اور بہ کثرت علماء کا یہ مذہب ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور سربراہِ مملکت کو ہرحال میں اختیار ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفاء راشدین نے تمام صورتوں پر عمل کیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن الحارث کو جنگ بدر میں قتل کردیا تھا اور بدر کے باقی قیدیوں سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا تھا اور ثمامہ بن اثال پر احسان کرکے اس کو بلامعاوضہ چھوڑ دیا تھا جب کہ وہ آپ کی قید میں تھا اور حضرت سلمہ بن اکوع سے ایک قیدی باندی لے کر اس کے بدلہ میں مشرکین کے قبضہ سے مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اہل مکہ سے کچھ لوگ آئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو گرفتار کرلیا اور ان پر احسان کرکے ان کو چھوڑ دیا اور آپ نے ہوازن کے قیدیوں پر احسان کرکے ان کو چھوڑ دیا اور یہ تمام واقعات احادیثِ صحیح سے ثابت ہیں، سورة الانفال : ٦٧ کی تفسیر میں ہم نے ان تمام چیزوں کو باحوالہ بیان کیا ہے، النحاس نے کہا ہے کہ ان دونوں آیتوں پر عمل کیا گیا ہے اور یہ محکم ہیں منسوخ نہیں ہیں اور یہ بہترین قول ہے کیونکہ نسخ دلیل قطعی سے ثابت ہوتا ہے، پس جب ان دونوں آیتوں (التوبہ : ٥ اور محمد : ٤) پر عمل کرنا ممکن ہے تو پھر ان میں سے کسی ایک کو منسوخ قرار دینے کی کیا ضرروت ہے ؟ اور جب کفار سے مقابلہ ہوگا تو ہم کافروں کو قتل کریں گے اور جب کفار ہماری قید میں ہوں گے تو ہم انہیں قتل بھی کرسکتے ہیں اور فدیہ لے کر یا ان پر احسان کر کے ان کو آزاد بھی کرسکتے ہیں اور جس صورت میں مسلمانوں کا فائدہ ہوگا ہم اس پر عمل کریں گے۔ یہ قول اہل مدینہ، امام شافعی اور ابو عبید سے منقول اور امام طحاوی نے نقل کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے اور مشہور ان کا وہ قول ہے جس کو ہم نے پہلے نقل کیا ہے۔ (الجامع لاحکام القرٓان جز ١٦ ص ٢١١۔ ٢٠٩، ملخصا، دار الفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
جہاد کا حکم کب ختم ہوگا ؟
اس کے بعد فرمایا : حتیٰ کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے یہی حکم ہے۔
مجاہد اور ابن جبیر نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ تم کفار کے خلاف اسی طرح جہاد کرتے رہو حتیٰ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہو۔ اور حسن بصری نے کہا : حتیٰ کہ ہر یہودی، عیسائی اور ہر دین والا اسلام لے آئے اور بکری بھیڑیے کے شر سے محفوظ ہوجائے۔ الفراء نے کہا : حتیٰ کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں اور کفر چلا جائے۔ کلبی نے کہا : حتیٰ کہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہوجائے۔ ایک قول یہ ہے : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم اس وقت تک ان کو قید میں رکھو حتیٰ کہ کفار سے تمہاری جنگ ختم ہوجائے اور تمہارے دشمن اپنے ہتھیار رکھ دیں یا ان کو کھلی شکست ہوجائے یا تمہارا ان سے صلح کا معاہدہ ہوجائے۔
اس کے بعد فرمایا : اور اگر اللہ چاہتا تو (از خود) ان سے انتقام لیتا ( لیکن وہ یہ چاہتا ہے) کہ وہ تم میں سے ایک فریق کو دوسرے فریق کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کے راستہ میں قتل کیے جاتے ہیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا
اللہ تعالیٰ ان سے از خود بدلہ لے لیتا، اس کا ایک محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بغیر جنگ کے ہلاک کردیتا اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کا ایک لشکر بھیج کر ان کو ہلاک کردیتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ تم کو آزمائے اور تم میں سے اطاعت گزاروں کو ظاہر کرے کہ کون جنگ کی مصیبتوں پر صبر کرکے اجرو ثواب کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب کے لئے میدانِ جہاد میں شرکت کرتا ہے اور کون جنگ کی ہولناکیوں اور مصائب سے گھبرا کر جہاد میں شرکت سے گزیز کرتا ہے۔
اسیرانِ جنگ کے بارے میں اسلام کی ہدایات
ہر چند کہ اسیرانِ جنگ کو غلام بنانا جائز ہے لیکن اسلام میں جنگی قیدیوں کے بارے میں دو صورتیں اور بھی ہیں، قرآن مجید میں ہے :”………“ (محمد : ٤) ” مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو “ سے منسوخ ہے ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ اما ابوحنیفہ کے نزدیک بھی جنگی قیدیوں کو قیدیوں سے تبادلہ میں یا بلا معاوضہ چھوڑدینا جائز ہے، اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور اس طرح یہ مسئلہ اتفاقی ہے۔
علامہ علائو الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں : اگر جنگی قیدی اسلام قبول نہ کریں تو امیر چاہے تو ان کو قتل کردے یا ان کو غلام بنا لے یا ان سے فدیہ لے کر ان کو آزاد کردے، یہ حکم مشرکینِ عرب اور مرتدین کے ماسوا میں ہے اور قیدیوں کو بلا معاوضہ چھوڑ دینا حرام ہے۔ امام شافعی نے اس کو جائز قرار دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” فاما منا بعد واما فدائ “ ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم “ سے منسوخ ہے۔ (شرح مجمع) اسی طرح جنگ کے ختم ہونے کے بعد ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑنا بھی حرام ہے، البتہ جنگ کے اختتام سے پہلے مال کے بعدبدلہ میں چھوڑنا جائز ہے، لیکن مسلمان قیدیوں سے تبادلہ جائز نہیں ہے۔ (درصدر الشریعۃ) امام محمد اور امام ابو یوسف نے کہا ہے کہ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنا جائز ہے اور امام ابوحنیفہ سے بھی یہی روایت ذیادہ ظاہر ہے۔ (شمنی) (الدررمع الروج ٦ ص ١٧١، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں : علامہ زیلعی نے ذکر کیا ہے کہ ” سیر کبیر “ میں لکھا ہے کہ ظاہر روایت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جنگی قیدیوں کو فدیہ کے بدلے میں چھوڑ دینا جائز ہے اور ان سے منقول دو روایتوں میں یہی زیادہ ظاہر روایت ہے اور ” فتح القدیر “ میں ہے کہ امام محمد اور امام ابو یوسف کا بھی یہی قول ہے اور یہی ائمہ ثلاثہ کا قول ہے اور ” صحیح مسلم “ اور دیگر کتب حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ نے دو مسلمانوں کے بدلہ میں ایک مشرک کو چھوڑ دیا اور مکہ میں قید کیے جانے والے مسلمانوں کے بدلہ میں ایک عورت کو چھوڑ دیا، (علامہ شامی کہتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ فقہ حنفی کی کتابوں میں جو یہ لکھا ہے کہ فدیہ لے کر قیدی چھوڑنا حرام ہے اس سے مراد مالی فدیہ ہے، جب کہ مال کی ضرورت نہ ہو اور ضرورت کے وقت مالی فدیہ کے عوض بھی جنگی قیدی چھوڑنا جائز ہے اور مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں چھوڑنا بھی جائز ہے۔ (رد المختار ج ٦ ص ٥١، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ :” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ کا حکم جنگی قیدیوں سے متعلق نہیں ہے کیونکہ ان کو غلام بنانا بالاجماع جائز ہے، اس سے ثابت ہوا کہ یہ آیت ” فاما منا بعد واما فدائ “ کے لئے ناسخ نہیں ہے۔ لہٰذا جنگی قیدیوں کو بلا معاوضہ چھوڑ دینا اور قیدیوں سے تبادلہ میں رہا کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔
جنگی قیدیوں کے غلام بنانے کی مشروعیت کا سبب
غلاموں کے بارے میں اسلام نے جو احکام دئیے ہیں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد ہر شخص پر یہ واضح ہوگا کہ اسلام کی نظر میں انسان کو انسان کا غلام بنانا ایک ناپسندیدہ فعل ہے، چونکہ بعثت سے پہلے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا ایک عام دستور تھا اور قیدیوں کے تبادلہ میں یا انہیں احساناً رہا کرنے کا رواج نہیں تھا۔ اس لئے اسلام نے قیدیوں کے غلام بنانے کو اباحت کے درجہ میں جائز رکھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو اور صورتیں بھی بیان کردیں کہ مال کے بدلہ میں یا مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں جنگی قیدی آزاد کردیے جائیں یا بطور احسان بلامعاوضہ جنگی قیدی چھوڑ دئیے جائیں۔ اس سلسلے میں تحقیق یہ ہے کہ اگر کسی کافر ملک نے مسلمان قیدیوں کو غلام بنایا ہو تو مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ کافر ملک کے جنگی قیدیوں کو غلام بنالیں کیونکہ ”……“ (الشوریٰ : ٤٠) ” اور برائی کا بدلہ تو اسی کی مثل برائی ہے “ اور اگر کافر ملک نے مسلمان قیدیوں کو غلام نہ بنایا ہو، بلکہ انہوں نے مسلمانوں کو قید کر رکھا ہو اور ان کی رہائی کے عوض وہ اپنے جنگی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں تو تبادلہ میں جنگی قیدی چھوڑ دینے چاہیں اور اگر کافروں نے ہمارے قیدیوں کو تبرعاً بلا معاوضہ چھوڑ دیا ہو تو ان کی بہ نسبت مکارم اخلاق سے متصف ہونے کے ہم زیادہ لائق ہیں۔ اس لئے ایسے موقع پر ہمیں بھی ان کے قیدیوں کو احساناً اور تبرعاً بلا معاوضہ چھوڑ دینا چاہیے، اس تحقیق سے واضح ہوگیا کہ اسلام میں جنگی قیدیوں کو لوندی غلام بنانے کی عام اجازت نہیں ہے بلکہ اس کو ایک خاص ضرورت میں بوجہ مجبوری جائز کیا گیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل اور تحقیق ” شرح صحیح مسلم “ کتاب الجہاد “ (جلد خامس) میں ملاحظہ فرمائیں۔
جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے فوائد اور ثمرات
پہلی چیز تو یہ ہے کہ جب کوئی جنگی قیدی غلام بن کر کسی مسلمان کے پاس رہے گا تو اس کو مسلمانوں کے مکارم اخلاق کو دیکھنے کو موقع ملے گا اور یہ محسوس کرے گا کہ قید خانہ کی ہولناک اذیتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا غلام بن کر رہنا کہیں بہتر ہے، کیونکہ اسلام نے غلاموں کے بارے میں جو ہدایت دی ہیں ان پر عمل کرنے کے بعد غلامی کا صرف نام رہ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :”………“ (النسائ : ٣٦) ” ماں باپ، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار ہمسایوں، اجنبی ہمسایوں، رفقاء مجلس، مسافروں اور غلاموں اور باندیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو “۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارا ماتحت کردیا ہے، پس جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو وہ اس کو وہ چیز کھلائے جس کو وہ خود کھائے اور کپڑے پہنائے جن کو وہ خود پہنے اور ان کو ان کی قوت برداشت سے زیادہ مکلف نہ کرے۔ (صحیح البخاری ج ٢ ص ٩، کراچی) نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے غلاموں کی اپنی اولاد کی طرح عزت اور توقیر کرو اور ان کو وہ کھلائو جو خود کھاتے ہو، وہ پہنائو جو خود پہنتے ہو، ان کی قوت برداشت سے زیادہ ان کو مکلف نہ کرو اگر ان کو کوئی مشکل کام سونپو تو اس میں ان کی مدد کرو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٢٦٤، کراچی) نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے یا پیٹے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس غلام کو آزاد کردے۔ (سنن ابو دائود ج ٢ س ٣٤٧، کراچی) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا سے جاتے وقت نماز کے بعد اگر کسی کی فکر تھی تو وہ لونڈیوں اور غلاموں کی تھی، رفیقِ اعلیٰ سے وصال کے وقت جو آخری کلمہ آپ کی زبان پر تھا وہ یہی تھا :”……“ (سنن ابو دائود ج ٢ س ٣٤٥، کراچی) ” نماز اور لونڈی، غلام “۔ کسی مسلم معاشرہ میں جب کوئی کافر غلام مسلمانوں کو ان احکام پر عمل کرتے ہوئے دیکھے گا تو وہ یقینا اسلام سے متاثر ہوگا۔
دوسری چیز یہ ہے کہ لوگوں کا اسلام سے دور رہنا اور اسلام کو قبول نہ کرنا زیادہ تر اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات اور اسلام کے احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور جب کسی کافر شخص کو غلام ہونے کی وجہ سے اسلام کی تعلیمات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ مسلمانوں کے مثالی معاشرہ کا مطالعہ کرے گا اور اسلام کی حقانیت کے دلائل سے آگاہ ہوگا تو وہ اپنے کفر پر قائم نہ رہ سکے گا، یہی وجہ ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بہ کثرت کافر غلام مسلمان ہوگئے اور یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اسلام کی تعلیمات اور ترغیبات کی وجہ سے کوئی سملمان کسی شخص کو ہمیشہ اپنی غلامی میں نہیں رکھتا اور جلد یا بدیر اس کو بالآخر آزاد کردیتا ہے۔
اس بحث کے تمام عنوانات کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ اسلام نے لونڈیوں اور غلاموں کو فروغ نہیں دیا، بلکہ اسلام نے ایسی ہدایات دی ہیں جن پر عمل کرنے سے بتدریج غلامی ختم ہوجاتی ہے اور فی الواقع دنیا میں اسی طرح ہوا، رہا جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کے جواز کا معاملہ تو وہ اس زمانہ کے حالات کی وجہ سے تھا۔ جنگی قیدیوں کو غلام بنانا لازم اور واجب نہیں ہے، بلکہ چار مباح صورتوں ( جزیہ لے کر آزاد کرنا، بلا معاوضہ رہا کرنا، معاوضہ لے کر رہا کرنا اور غلام بنانا) میں سے ایک صورت ہے اور اب چونکہ تمام دنیا سے غلامی کی لعنت ختم ہوچکی ہے اور اسلام باقی مذاہب کی بہ نسبت مکارمِ اخلاق اور حقوق انسانیت کا زیادہ محافظ ہے، اس لئے اب اسلام میں اس کے جواز کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ جن حالات میں اسلام نے غلام بنانے کی اجازت دی تھی اب مہذب دنیا میں وہ حالات نہیں رہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 4