وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 19
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور ہر فریق کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں اور ان کو ان کے اعمال کا پورا صلہ دیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا
تفسیر:
نیکوکار اور بدکار کی پوری پوری جزاء
الاحقاف : ١٩ میں فرمایا : اور ہر فریق کے لئے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں اور ان کو ان کے اعمال کا پورا صلہ دیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا ذکر کیا جو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرتا ہے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کے مختلف درجات ہیں، سو جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ جس مرتبہ اور جس درجہ کی نیکی کرے گا اس کو اسی مرتبہ اور اسی درجہ کا آخرت میں اجر وثواب حاصل ہوگا اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلے دو آیتوں میں دو شخصوں کا ذکر فرمایا ہے ایک مومن ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا ہے اور ایک کافر ہے جو اپنے ماں باپ کا نافرمان ہے اور دونوں کو آخرت میں اپنے اپنے اعمال کی جزاء ملے گی۔ بعض آثار میں وارد ہے کہ جنت میں درجات ہیں اور دوزخ میں درکات ہیں۔
ابن زید نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : اہل دوزخ کے درجات نیچے کی جانب ہیں اور اہل جنت کے درجات اوپر کی جانب ہیں، اللہ تعالیٰ ہر فریق کو اس کے دنیا میں کئے ہوئے کاموں کا پورا پورا صلہ دے گا، نیک کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق عزت اور کرامت عطا فرمائے گا اور برے کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اپنی وعید کے مطابق سزا دے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، برے کام کرنے والے کو اسی کی برائی کے مطابق ہی سزا دے گا اور جو کام اس نے نہیں کئے اس کو ان کی سزا نہیں ملے گی اور نہ دوسروں کے گناہ اس پر لادے جائیں گے اور نہ نیکی کرنے والے کی نیکیوں کے اجر وثواب میں کوئی کمی کی جائے گی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤١٩٥)
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 19