یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اورکھیل بنالیا ہے انہیں اور کافر وں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اگر ایمان رکھتے ہوتواللہ سے ڈرتے رہو۔

{ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا:وہ لوگ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اورکھیل بنالیا ہے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ رفاعہ بن زید اور سُوَید بن حارث نامی دو آدمی اظہار ِاسلام کے بعد منافق ہوگئے ۔بعض مسلمان اُن سے محبت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنا اور دل میں کفر چھپائے رکھنا دین کو ہنسی اور کھیل بنانا ہے اور ایسے لوگوں اور ان کے علاوہ مشرکوں کافروں کو دوست بنانے سے بھی منع کردیا گیا کیونکہ خدا عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں سے دوستی کرنا ایمان دار کا کام نہیں۔اس پر مزید تفصیل اگلی آیت کے تحت موجود ہے۔