أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ ارۡتَدُّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدَى‌ۙ الشَّيۡطٰنُ سَوَّلَ لَهُمۡ ؕ وَاَمۡلٰى لَهُمۡ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ہدیات کے واضح ہونے کے بعد (اسلام سے) پیٹھ موڑ کر پیچھے لوٹ گئے، شیطان نے ان کو دھوکا دیا اور ان کو طویل زندگی کی امید دلائی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ہدیات کے واضح ہونے کے بعد (اسلام سے) پیٹھ موڑ کر پیچھے لوٹ گئے، شیطان نے ان کو دھوکا دیا اور ان کو طویل زندگی کی امید دلائی اس کی وجہ یہ ہے کہ منافقوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کے کلام کو ناپسند کرتے تھے کہ ہم بعض کاموں میں تمہاری موافقت کریں گے، اور اللہ ان کی چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے پس اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے وقت ان کے چہروں اور ان کی سرینوں پر ماریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جس سے اللہ ناراض ہوا اور اللہ کی رضا کو انہوں نے ناپسند کیا سو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا (محمد : ٢٨۔ ٢٥ )

نیل اعمال کو آخر عمر تک ملتوی کرنے کی مذمت

اس آیت میں ان اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے جو ” تورات “ کے مطالعہ سے یہ جان چکے تھے کہ آپ ہی آخری نبی ہیں کیونکہ ” تورات “ میں آپ کی صفات بیان کی گئی تھیں اور آپ کے مبعوث ہونے کا ذکر تھا، اس کے باوجود انہوں نے تعصب کی وجہ سے یا دنیاوی نذرانوں کے فوت ہوجانے کے خدشہ سے آپ کی نبوت کو ماننے سے انکار کیا اور اسلام لانے سے اعراض کیا، اسی طرح اس آیت سے ہر اس شخص کی طرف اشارہ ہے جو اسلام کی حقانیت واضح ہونے کے باوجود اسلام قبول نہ کرے۔

اس آیت (محمد : ٢٥) میں جو فرمایا ہے کہ شیطان نے ان کو دھوکا دیا اور ان کو طویل زندگی کی امید دلائی، اس کا معنی یہ ہے کہ شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ابھی تمہاری زندگی بہت زیادہ ہے، تم جہاں تک ہو سکے اس دنیا کی لذتوں سے فیض یاب ہو، پھر عمر کے آخری حصہ میں اسلام قبول کرلینا، جیسے بعض نوجوان کہتے ہیں : ہم ابھی سے ڈاڑھی کیوں رکھیں، جب بوڑھے ہوجائیں گے تو ڈاڑھی رکھ لیں گے، بعض لوگ کالا خضاب لگا کر ڈاڑھی کالی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بوڑھے ہوجائیں گے تو کالا خضاب ترک کرکے مہندی لگالیں گے، اسی طرح بعض لوگ نمازوں کے سلسلہ میں یہی کہتے ہیں، اسی طرح بعض امیر لوگوں پر حج فرض ہوتا ہے اور وہ آخر عمر تک حج کو ٹالتے رہتے ہیں، جب میں ١٩٩٤، میں حج کرنے گیا تو میں نے تمام اسلامی ملکوں کی بہ نسبت سب سے زیادہ پاکستان، ہندوستان اور بنگہ دیش کے بوڑھے لوگوں کو حج کرتے ہوئے دیکھا اور سب سے زیادہ نوجوانوں کو حج کرتے ہوئے جو دیکھا وہ انڈونیشیا اور ملائشیا کے مسلمان تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 25