أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ‌ۚ حَتّٰٓى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا‌‌ ۚ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَهُمۡ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے بعض لوگ وہی ہیں جو غور سے آپ کیا بت سنتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ آپ کے پاس نکلتے ہیں تو اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا کہا تھا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور انہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی ہے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کو سننے میں منافقین کی کیفیت

محمد : ١٦ میں فرمایا : اور ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو غور سے آپ کی بات سنتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا کہا تھا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور انہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی ہے

محمد : ١٥ کے اخیر میں یہ بیان فرمایا تھا کہ کفار کا آخرت میں کیا حال ہوگا ان کو پینے کے لئے ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا اور اس آیت : (محمد : ١٦) میں یہ بیان فرمایا ہے کہ دنیا میں منافقین کے کیا کرتوت ہیں جن لوگوں کے لئے ان کے اعمال دنیا میں مزین کردئیے گئے ہیں ان میں سے بعض کفار ہیں جو دنیا کی نعمتوں سے نفع اٹھاتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور اور مویشی کھاتے ہیں اور ان میں سے بعض منافقین ہیں جیسے عبد اللہ بن ابی ابن سلول، رفاعتہ بن التابوت، زید بن الصل، حارث بن عمرو، مالک بن و خشم وغیر ہم یہ لوگ جمعہ کے خطبہ میں حاضر ہوتے تھے اور خطبہ کو غور سے سنتے تھے اور جب آپ خطبہ میں منافقین کا ذکر فرماتے تو پھر خطبہ سننے سے اعراض کرتے اور جب مسجد سے باہر آتے تو لوگوں سے سوال کرتے کہ آپ نے کیا فرمایا تھا، یہ کلبی اور مقاتل کا قول ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں جاتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات سنتے، مسلمان آپ کے ارشادات کو یاد رکھتے تھے اور کفار یاد نہیں رکھتے تھے اور جب آپ کی مجلس سے اٹھتے تو اہل علم سے آپ کے ارشادات کے متعلق سوال کرتے تھے کہ آپ نے کیا فرمایا تھا، عکرمہ نے کہا : اہل علم سے مراد حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : میں ان اہل علم سے ہوں جن سے سوال کیا جاتا تھا، ایک روایت یہ ہے کہ اہل علم سے مراد حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ہیں، قاسم سے روایت ہے کہ اس سے مراد حضرت ابو الدرداء (رض) ہیں اور ابن زید نے کہا : اس سے مراد عام صحابہ ہیں، اور وہ یہ کہتے تھے کہ ابھی آپ نے فرمایا ہے، یہ استہزائ، کہتے تھے یعنی ہم نے آپ کے قول کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ گویا آپ کی مجلس میں بیٹھنے والوں کی دو قسمیں تھیں، ایک وہ لوگ تھے جو آپ کے ارشادات کو سمجھتے تھے اور آپ کے ارشادات کو سن کر نفع اٹھاتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے، یہ مسلمان تھے اور دوسرے وہ تھے جو آپ کے ارشادات کو غفلت اور بےتوجہی سے سنتے تھے اور ان پر عمل کرکے ان سے نفع نہیں اٹھاتے تھے اور یہ منافقین تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ یعنی یہ لوگ ایمان لائیں گے، پھر فرمایا : ان لوگوں نے (کفر میں) اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 16