يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَـكُمۡ ۞- سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 33
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَـكُمۡ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عمال کو ضائع نہ کرو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عمال کو ضائع نہ کرو بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا پھر وہ کفر کی حالت میں مرگئے اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا سو (اے مسلمانو ! ) تم ہمت نہ ہارو اور ان کو صلح کی دعوت نہ دو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال ہرگز ضائع نہیں کرے گا دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان پر برقرار رہو اور متقی بن جائو تو وہ تمہارے اجر تمہیں عطا فرمائے گا اور تم سے تمہارے اموال طلب نہیں فرمائے گا (محمد : ٣٦۔ ٣٣)
مسلمانوں کے اعمال ضائع ہونے کی توجیہات
اس سے پہلی آیتوں میں یہودیوں اور منافقوں سے خطاب تھا ان کی بری روش پر تنبیہ کی گئی تھی اور اصلاح کی کوشش کی گئی تھی، اور اس آیت (محمد : ٣٣) میں اہل ایمان سے خطاب ہے اور ان سے ارشاد فرمایا ہے : اللہ کیا اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔ اپنے اعمال کو ضائع نہ کرنے کی حسب ذیل توجیہات کی گئی ہیں :
(١) تم اپنے ایمان اور اللہ اور رسول کی اطاعت پر برقرار رہو اور شرک نہ کرنا ورنہ تمہارے اعمال باطل ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
……(الزمر : ٦٥) اگر آپ نے (بھی بالفرض) شرک کیا تو آپ کے اعمال باطل ہوجائیں گے۔
(٢) تم رسول کی اطاعت کرتے ہوئے آپ کی تعظیم کو برقرار رکھنا، اگر کسی موقع پر تم سے تعظیم رسول میں فرق آگیا تو تمہارے اعمال باطل ہوجائیں گے، قرآن مجید میں ہے :
……(الحجرات : ٢)
اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ (ان سے) اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم آپس میں اونچی آواز سے بات کرتے ہو ورنہ تمہارے اعمال باطل ہوجائیں گے اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا
(٣) تم جب کسی مسلمان بھائی کی مدد کے لئے اس کو صدقہ یا خیرات دو تو بعد میں اس پر احسان نہ جتائو، یا اس کو طعنہ دے کر اذیت نہ پہنچائو، مثلاً کہو : تم وہی تو ہو جو کل تک بھوکے مر رہے تھے اور میں تمہیں کھانا کھلاتا، قرآن مجید میں ہے :
………(البقرہ : ٢٦٤) اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کرو۔
(٤) اپنے اسلام لانے کا کبھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان نہ جتانا، قرآن مجید میں ہے :
…………(الحجرات : ١٧)
(اعراب) اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں، آپ کہیے : تم اپنے اسلام لانے کا مجھ پر احسان نہ جتائو، بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان لانے کی ہدایت دے دی، اگر تم سچے ہو
نفل عبادات کا شروع کرنے کے بعد واجب ہونا
اس آیت سے فقہاء احناف اور فقہاء مالکیہ نے یہ مسئلہ بھی مسبط کیا ہے کہ نفل نماز یا نفل روزہ شروع کرکے اس کو پورا کرنا لازم اور واجب ہے، کیونکہ اگر نفل نماز یا روزہ شروع کرکے اس کو پورا نہ کیا اور توڑ دیا تو وہ عمل باطل ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ نے اعمال باطل کرنے سے منع فرمایا ہے، اس لئے اگر اس سے نفل نماز شروع کرکے توڑ دی تو اس پر واجب ہے کہ اس کو قضاء کرکے دوبارہ پڑھے، نفل کے شروع کرنے میں تو اس کو اختیار تھا لیکن شروع کرنے کے بعد اس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس کو پورا کرے یا نہ کرے اور اگر کسی وجہ سے اس کو پورا نہیں کیا تو پھر اس کو قضاء کرنا لازم ہے، امام شافعی کے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے کہ فرض عبادت کے ثواب کو باطل نہ کرو اور اگر فرض کو شروع کرکے فاسد کردیا تو اس فرض کو دوبارہ ادا کرو، اور نفل اس طرح نہیں ہے، کیونکہ وہ اس پر واجب نہیں ہے، ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اعمال کا لفظ ہے اور اعملا کا لفظ فرائض اور نوافل دونوں کو شامل ہے اور فقہاء شافعیہ اس آیت کی فرائض کے ساتھ جو تخصیص کرتے ہیں اس تخصیص پر قرآن اور حدیث میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 33