أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاہد ہونے اور ” وتعزروہ وتوقروہ “ کا معنی

الفتح : ٨ میں فرمایا : بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

قتادہ نے کہا : آپ اس کی شہادت دیں گے کہ آپ نے اپنی امت کو تبلیغ کردی تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ اپنی امت کے تام اعمال پر شاہد ہیں، خواہ وہ اعمال اطاعت ہوں یا معصیت ہوں۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے افعال کا اب مشاہدہ فرما رہے ہیں اور قیامت کے دن ان کے اعمال پر گواہی دیں گے۔

جو آپ کی اطاعت کرتا ہے آپ اس کو جنت کی بشارت دیتے ہیں اور جو آپ کی نافرمانی کرتا ہے آپ اس کو دوزخ کی آگ سے ڈراتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 8