اِنَّ الَّذِيۡنَ يُنَادُوۡنَكَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 4
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُنَادُوۡنَكَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
(اے رسول مکرم ! ) بیشک جو لوگ آپکو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم ! ) بیشک جو لوگ آپکو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اور اگر یہ لوگ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانا والا ہے۔ اے ایمان والو ! اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو، کہیں تم ناواقفیت سے کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پیشیمان رہو۔ (الحجرات : ٦۔ ٤)
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ الحجرات : ٤ کے شان نزول میں روایت کرتے ہیں :
حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! بیشک میری تعریف کرنا نیک عمل ہے اور میری مذمت کرنا برا عمل ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ صرف اللہ عزوجل کی شان ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٦٧ )
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے اس کے شان نزول میں حسب ذیل اقوال نقل کیے ہیں :
(١) قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور حجرہ کے باہر سے آپ کو نداء کی : یا محمد ! میری تعریف کرنا نیک عمل ہے اور میری مذمت کرنا برا عمل ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرے سے باہر آئے اور فرمایا : تم پر افسوس ہے یہ تو صرف اللہ سبحانہ کی شان ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤٥٣٤، مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٨)
(٢) حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ آئے، انہوں نے کہا تھا کہ اس شخص کے پاس چلو، اگر یہ واقعی نبی ہیں تو ان کی اتباع کرکے ہم لوگوں میں سب سے زیادہ خوش قسمت ہوں گے اور اگر وہ فرشتے ہیں تو ہم ان کے پروں کے سائے میں زندہ رہیں گے، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ کو نداء کی : یا محمد ! اس وقت آپ اپنے حجرہ میں تھے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤٥٣١)
(٣) ایک قول یہ ہے کہ وہ بنو تمیم کا وفد تھا، مقاتل نے کہا : وہ نو افراد تھے۔
ان کے متعلق فرمایا : ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ انسان ہونے کی وجہ سے ان میں عقل تو تھی پھر ان کو بےعقل کیوں فرمایا ؟
ابن ابحر نے کہا : اس کا معنی ہے : وہ بےعلم ہیں اور علم کو عقل سے تعبیر کیا کیونکہ علم عقل کا ثمرہ ہے اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ فعل عقل والوں کے فعل کے خلاف تھا۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 4