أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِىۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ‌ ۚ فَاِنۡ تُطِيۡـعُوۡا يُـؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا‌ ۚ وَاِنۡ تَتَـوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡـتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

آپ ان پیچھے کردئیے جانے والے اعرابیوں سے کہیے کہ عنقریب تم کو سخت جنگ جو قوم (مرتدین اہل یمامہ) کی طرف بلایا جائے گا تم ان سے قتال کرتے رہو گے حتی ٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے، پس اگر تم نے اس حکم کی اطاعت کرلی تو تم کو عمدہ اجر دیا جائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی جس طرح اس سے پہلے روگردانی کرتے رہے ہو تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ان پیچھے کردئیے جانے والے اعرابیوں سے کہیے کہ عنقریب تم کو سخت جنگ جو قوم (مرتدین اہل یمامہ) کی طرف بلایا جائے گا تم ان سے قتال کرتے رہو گے حتی ٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے، پس اگر تم نے اس حکم کی اطاعت کرلی تو تم کو عمدہ اجر دیا جائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی جس طرح اس سے پہلے روگردانی کرتے رہے ہو تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ اندھے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے، اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی، اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور جس نے روگردانی کی اللہ اس کو دردناک عذاب دے گا۔ (الفتح : ١٧۔ ١٦)

سخت جنگجو قوم کے متعلق متعدد اقوال

الفتح : ١٦ میں فرمایا ہے : آپ ان پیچھے کر دئیے جانے والے اعرابیوں سے کہیے کہ عنقریب تم کو سخت جگ جو قوم کی طرف بلایا جائے گا۔ اس جنگ جو قوم سے مراد کون سی قوم ہے ؟ علامہ الماوردی متوفی ٤٥٠ ھ نے لکھا ہے : اس کے متعلق پانچ قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس رضی عنہما نے فرمایا : اس سے مراد اہل فارس (ایران) ہیں۔

(٢) حسن اور عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا : اس سے مراد اہل روم ہیں۔

(٣) سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد اہل ہوازن اور غطفان ہیں جن سے حنین میں جنگ ہوئی تھی۔

(٤) زہری نے کہا : اس سے مراد مسلیمہ کذاب کی قوم بنو حنیفہ ہے۔

(٥) حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : یہ جنگ جو قوم ابھی تک نہیں آئی (یہ قول ظاہر آیت کے خلاف ہے) ۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٣١٦، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ ابو عبد اللہ مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

حضرت رافع بن خدیج (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اس آیت کو پہلے پڑھتے تھے اور ہم کو معلوم نہیں تھا کہ اس جنگ جو قوم سے کون سی قوم مراد ہے، حتیٰ کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں بنو حنیفہ کے خلاف جنگ کی دعوت دی، تب ہمیں منکشف ہوا کہ اس جنگ جو قوم سے مراد بنو حنیفہ ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ٢٤٨ )

حضرت ابوبکر اور عمر (رض) عنما کی خلافت اور امامت پر دلیل

اس آیت میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) عنما کی امامت اور خلافت کی صحت کی دلیل ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) نے مسلمانوں کو بنو حنیفہ سے لڑنے کی دعوت دی اور حضرت عمر (رض) نے مسلمانوں کو فارس اور روم کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دی اور اس جنگ جو قوم کے خلاف لڑنے کی دعوت دینے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ہوسکتے کیونکہ منافقین کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے :

……(التوبہ : ٨٣) آپ کہیے کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ روانہ نہیں ہوگے اور تم کبھی میرے ساتھ دشمن کے خلاف جہاد نہیں کرو گے۔

اس آیت سے معلوم ہوگیا کہ بنو حنیفہ کے خلاف ان اعراب کو قتال کی دعوت دینے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ تھے، ہوسکتا ہے کہ کوئی کہے کہ اس سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہوں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی کو اپنے زمانہ خلافت میں دشمنانِ اسلام سے جہاد کرنے کا موقع نہیں ملا، ان کی زیادہ تر جنگیں اپنوں سے ہوئیں، پہلے حضرت عائشہ ام المومنین سے جنگ جمل ہوئی، پھر حضرت معاویہ (رض) سے جنگ صفین ہوئی، اگرچہ ان جنگوں میں حق پر حضرت علی (رض) تھے اور اخیر میں آپ کی جنگ خارجیوں کے ساتھ ہوئی، بہرحال اگر یہ جنگ جو قوم بنو حنیفہ تھی تو اس کے داعی حضرت ابوبکر تھے اور ان کے حکم کی اطاعت کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی :

……(الفتح : ١٦) اگر تم نے اس حکم کی اطاعت کی تو تم کو اللہ تعالیٰ اجر حسن عطا فرمائے گا۔

پس معلوم ہوا کہ اس جنگ جو قوم کے خلاف قتال کی دعوت دینے والا امام برحق ہے اور وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں، سو ان کی امامت اور خلافت کا برحق ہونا ثابت ہوگیا ہے اور حضرت عمر کی خلافت حضرت ابوبکر کی خلافت کی فرع ہے، سو وہ بھی برحق ہے اور اگر اس جنگ جو قوم سے مراد اہل فارس اور روم ہیں تو ان کے خلاف جنگ کے داعی حضرت عمر (رض) ہیں تو ان کی خلافت برحق ہوئی اور ان کی خلافت حضرت ابوبکر کی خلافت کی فرع ہے، لہٰذا حضرت ابوبکر کی خلافت بھی برحق ہوئی، سو یہ آیت حضرت ابوبکر اور حضرت (رض) دونوں کی خلافت اور امامت پر دلیل ہے۔

مرتد کے قتل کرنے کا وجوب اور اس کو تین دن کی مہلت دینے پر دلائل

ہمارے فقہاء کے نزدیک مرتد کا قتل کرنا واجب ہے اور اس کی دلیل بھی اس آیت میں ہے، کیونکہ اصحاب مسلیمہ کذاب مرتد تھے، یہ پہلے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، پھر مرتد ہو کر مسلیمہ پر ایمان لے آئے اور ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : ”……“ (الفتح : ١٦) تم ان سے قتا کرتے رہو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں، اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے۔

شمس الائمہ محمد بن احمس سرحسی حنفی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

جب کوئی مسلمان مرتد ہوجائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا، اگر وہ اسلام لے آیا تو فبہا ورنہ اس کو اسی جگہ قتل کردیا جائے گا، ہاں اگر وہ مہلت طلب کرے تو اس کو مہلت دی جائے گی، مرتدین کو قتل کرنے کے وجوب پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :”……“ (الفتح : ١٦) تم ان سے قتال کرتے رہو، حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوجائیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مرتدین کے بارے میں ہے اور حدیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) عنما بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

………… جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کرو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠١٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٣٥١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٤٥٨، سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٠٧٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٣٥، مصنف ابن اببی شیبہ ج ١٠ ص ١٣٩، مسند احمد ج ا ص ٣٦٩ )

حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت معاذ (رض) اور دیگر اصحاب، رسول کا یہی قول ہے کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے۔ نیز مرتدین مشرکین عرب کے قائم مقام ہیں، بلکہ ان کا جرم ان سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار تھے اور قرآن مجیدان کی لغت پر نازل ہوا تھا اور جب انہوں نے شرک کیا تو انہوں نے اس کی کوئی رعایت نہیں کی اور یہ مرتد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین رکھنے والا تھا اور شریعتِ اسلام کے محاسن کو پہنچانتا تھا اور جب یہ مرتد ہوا تو اس نے اس دین کی کوئی رعایت نہیں کی، لہٰذا جس طرح مشرکین عرب کے لئے صرف تلوا رہے یا اسلام ہے، اور کوئی تیسری چیزان سے قبول نہیں کی جاتی، اسی طرح مرتدین سے تلوار یا اسلام کے سوا اور کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی، ہاں جب وہ مہلت طلب کرے تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مرتد کو، کوئی ٩ نہ کوئی شبہ لاحق ہوا ہے، جبھی وہ دین اسلام سے پھر گیا، سو ہم پر واجب ہے کہ ہم اس کے شبہ کو زائل کریں یا وہ خود تین دن تک غور و فکر کرے اور ہوسکتا ہے کہ تین دن میں اس پر منکشف ہوجائے کہ اسلام ہی برحق دین ہے اور اس کو تین دن سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جائے گی۔

تین دن مہلت دینے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : مغرب میں ایک شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہوگیا، حضرت عمر نے پوچھا : پھر تم نے کیا کیا ؟ اس نے کہا : ہم نے اس کو فوراً قتل کردیا، حضرت عمر نے فرمایا : تم نے اس کو تین دن کی مہلت کیوں نہ دی ؟ تم اس کو قید کرلیتے اور ہر روز ایک روٹی دیتے رہتے، شاید وہ توبہ کرلیتا اور حق کی طرف رجوع کرلیتا پھر ہات اٹھا کر دعا کی : اے اللہ ! میں اس فعل سے راجی نہیں ہوں اور میں اس موقع پر موجود نہ تھا، یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے، اس میں حضرت عمر نے فرمایا : اگر میرے سامنے یہ معاملہ پیش آتا تو میں اس شخص کو تین دن کی مہلت دیتا، اگر وہ توبہ کرلیتا تو فبہا ورنہ میں اس کو قتل کردیتا، اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مرتد کو تین دن تک کی مہلت دی جائے، اگر وہ توبہ کرلے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ (المبسوط ج ١٠ ص ١٠٨۔ ١٠٧، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

حسب ذیل آثار میں یہ دلیل ہے کہ مرتد کے سامنے تین بار اسلام کو پیش کیا جائے اگر وہ انکار کرے تو پھر اس کو قتل کردیا جائے۔

امام ابن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ روایت کرتے ہیں :

……(مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ١٣٨)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مرتد سے توبہ کے لئے تین بار کہا جائے اگر وہ توبہ کرے تو اس کو چھوڑ دیا جائے اور اگر انکار کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔

……(مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ١٣٨)

ابن شہاب کہتے ہیں کہ (مرتد کو) تین بار اسلام کی دعوت دی جائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کی گردن ماردی جائے۔

……(مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ١٣٩)

ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا کہ جو انسان اسلام کے بعد کفر کرے اس کو اسلام کی دعوت دی جائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔

کیا مرتد کو قتل کرنا آزادی فکر کے خلاف ہے ؟

بعض مخالفین اسلام اور مستشرقین قتل مرتد کے حکم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حکم ا ازادی فکر اور حریت اعتقاد کے خلاف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے فکر کو علی الاطلاق اور بےلگام نہیں چھوڑا۔ مثلاً اگ رکسی شخص کا یہ نظریہ ہو کر زنا کرنا اور چوری کرنا درست ہے تو کیا اس کو مسلمانوں کی لڑکیوں سے بدکاری کرنے اور مسلمانوں کے اموال چرانے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے گا ؟ اور اگر کسی کا یہ نظریہ ہو کر قتل کرنا درست ہے تو اس کو قتل کرنے کے لئے بےمہار چھوڑ دیا جائے گا اور اگر ان اخلاقی مجرموں کو سزا دی جائے تو کیا یہ آزادی فکر اور حریف اعتقاد کے خلاف ہوگا ؟

تمام دنیا کے ملکوں میں یہ قاعدہ ہے اگر کوئی شخص حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرے اور حکومت کو الٹنے اور انقلاب کے پروگرام بنائے تو ایسے شخص کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے، پھر کیا ایسے شخص کو موت کی سزا دینا آزادی فکر اور حریت اعتقاد کے خلاف نہیں ہے ؟ جب کہ تمام دنیا میں باغیوں اور ملک کے غداروں کو موت کی سزا دی جاتی ہے اور جب ملک کے غدار کو موت کی سزا دینا حریف فکر اور آزادی رائے کے خلاف نہیں ہے تو دین کے غدار کو موت کی سزا دینا کیونکر آزادی رائے کے خلاف ہوسکتا ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انصاف اور امن کے لئے آزادی رائے اور حریت فکر کو بےلگام اور بےمہار نہیں چھوڑا جاسکتا، ورنہ کسی کی جا، مال، عزت اور آبرو کا کوئی تحفظ نہیں ہوگا، اس لئے ضروری ہے کہ فکر اور اعتقاد کے لئے حدود اور قیود مقرر کی جائیں اور ان حدود کا تقرر یا عقل محض سے ہوگا یا وحی الٰہی سے، اگر ان حدود کا تقرر عقل محض سے کیا جائے تو ان حدود میں غلطی، خطاء ظلم اور جور کا امکان ہے۔ اس لئے ان حددد اور قیود میں وحی پر اعتماد کرنا ہوگا اور یہ وحی الٰہی ہے جس نے مرتد کی سزا قتل کرنا بیان کی ہے، جیسا کہ ہم قرآن مجید، احادیثِ صریحہ اور آثار صحابہ وتابعین سے واضح کرچکے ہیں۔

بعض مستشرقین کہتے ہیں کہ مرتد کو قتل کی سزا دینا خود قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :”……“ (البقرہ : ٢٥٦) دین (قبول کرنے) میں جبر نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت کافر اصلی کے متعلق ہے، یعنی جو ابتداء کافر ہو، مرتد کے بارے میں نہیں ہے، کیونکہ پوری آیت اس طرح ہے :

……(البقرہ : ٢٥٦ )

دین (قبول کرنے) میں جبر نہیں ہے، ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے جو شخص شیطان کے حکم کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو بیشک اس نے ایسا مضبوط دست تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔

اور کافر اصلی کے مقابلہ میں شریعت نے مرتد کے متعلق زیادہ سخت احکام دئیے ہیں، جن کی تفصیل ہم ” مرتد کو علی الفور قتل کرنے پر فقہاء احناف کے دلائل “ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 16