أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت ہے، وہ جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، عذاب دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت ہے، وہ جس کو چاہتا ہے معاف کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، عذاب دیتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اور جب تم اموالِ غنیمت لینے کے لئے جائو گے تو عنقریب پیچھے کردئیے جانے والے لوگ یہ کہیں گے : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ، وہ اللہ کے کلام کو بدلنا چاہتے ہیں، آپ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ نے اسی طرح پہلے فرما دیا ہے، پھر عنقریب وہ کہیں گے کہ تم ہی سے حسد کرتے ( یہ بات نہیں ہے) بلکہ وہ لوگ بہت کم سمجھتے ہیں۔ (الفتح : ١٥۔ ١٤)

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ جن مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے ان کے لئے اجر اعظیم ہے، اور جن منافقوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برا گمان کیا ہے ان کے لئے دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگے ہے، اب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو مسلمانوں کو بخش دے گا اور وہ چاہے تو منافقوں کو عذاب دے گا، پھر اس کو اپنی چاہت کے ساتھ اس لئے مقید کیا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کو بخشا اور منافقوں کو عذاب دے گا، پھر اس کو اپنی چاہت کے ساتھ اس لئے مقید کیا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کو بخشا اور منافقوں کو عذاب دینا، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس پر کسی کا جبر نہیں ہے، اور فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت اور ان پر حکومت اللہ ہی کے پاس ہے اور جس کی اتنی عظیم الشان حکومت ہو اس کا دیا ہوا انعام بھی بہت بڑا ہوگا اور اس کی دی ہوئی سز ابھی بہت بڑی ہوگی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 14