نیشاپور میں امام محمد بن یحیی الذھلی کے ساتھ خلق قرآن کا مناقشہ

250ھ میں امام بخاری نے نیشاپور آنے کا پروگرام بنایا اس خبر کو سنتے ہی اہالیان نیشاپور میں فرحت و مسرت کی لہردوڑ گئی ۔ اس زمانہ میں محمد بن یحیی ذہلی نیشاپور کی علمی ریاست کے والی تھے۔ محمد بن یحیی ذہلی نے شہر کے لوگوں کو امام بخاری کے استقبال کی تلقین کی چنا نچہ لوگوں کے ایک انبوہ کثیر نے محمد بن یحیی کی قیادت میں شہر سے تین مرحلہ آگے جاکر امام بخاری کے استقبال کی تلقین کی اور انتہائی تزک و احتشام سے امام بخاری کو شہر میں لے کر آئے ۔ امام مسلم بن حجاج کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے اتنا عظیم الشان استقبال نہ کسی عالم کا دیکھا نہ کسی حاکم کا۔

امام بخاری نے نیشاپور میں درس حدیث دینا شروع کیا ان کے درس میں ہر وقت اژدہام رہتا تھا اور بے حساب لوگ امام بخاری سے علم حدیث کا استفادہ کرتے تھے ۔ بعض حاسدین کو امام بخاری کی شہرت اور مقبولیت بری لگی اور انہوں نے محمد بن یحیی کو امام بخاری کا مخالف بنادیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ محمد بن یحیی ذہلی قرآن کریم کے الفاظ کو بھی قدیم مانتے تھے اس پر بڑی شدت سے قائم تھے کسی شخص نے جاکر امام بخاری سے پوچھا کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ امام بخاری ٹالتے رہے جب اس نے زیادہ اصرار کیا تو آپ نے کہا: القرآن كلام الله غير مخلوق اس نے پھر اصرار کیا قرآن کے الفاظ کا حکم بتلائیے تو آپ نے کہا: افعالنا مخلوقة والفاظنا من افعالنا‘‘ (ہمارے افعال مخلوق ہیں اور الفاظ بھی ہمارے افعال ہیں ) بس پھر کیا تھا شور مچ گیا کہ امام بخاری الفاظ قرآن کومخلوق مانتے ہیں جب ذہلی تک یہ خبر پہنچی تو وہ تمام عنایات منقطع کر کے یکسر مخالف ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ بخاری کے درس میں کوئی شخص نہ جائے چنانچه مسلم بن حجاج کے سوا تمام لوگوں نے امام بخاری کے درس میں جان بند کر دیا۔ آخرکار جب امام بخاری اہل نیشاپور سے مایوس ہو گئے تو آپ نے نیشا پور سے بخارا کی طرف روانگی کا قصد کر لیا ۔

(تاریخ بغداد ج ۲ص 29-31  تاریخ دمشق ج 55 ص 27-28 سیر اعلام النبلاء ج 10 ص 311-313 طبقات الشافعیہ الکبری ج 1 ص 436-439 ھدی الساری  ص 482 مع فتح الباری ج 1 دار المعرفہ بیروت)

.