صحیح البخاری : مقبولیت
مقبولیت
اللہ تعالی نے امام بخاری کی صحیح کو بے پناہ مقبولیت عطا فرمائی ۔ قرآن کریم کے بعد جس کتاب پر سب سے زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے “صحیح بخاری‘‘ ہے۔”صحیح بخاری پر سب سے زیادہ کام کیا گیا اس کی بے شمار شروع کی گئی ہیں اس کی تعلیقات متابعات، شواہد اور رجال کی تحقیق پر الگ الگ کتابیں لکھی گئیں اور امام بخاری کے زمانہ سے لے کر آج تک تمام دینی مدارس میں انتہائی اہتمام اور شکوہ کے ساتھ صحیح بخاری کا درس دیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جس طرح امام بخاری مقبول تھے اسی طرح ان کی صحیح بھی بارگاہ رسالت میں شرف پذیرائی رکھتی ہے ۔ ابوزید مروزی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بیت الحرام میں رکن اور مقام کے درمیان سویا ہوا تھا میں خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا۔ حضور نے فرمایا: ابوزید! شافعی کی کتابیں کب تک پڑھتے رہو گے میری کتاب کیوں نہیں پڑھتے میں نے عرض کیا: حضور! آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا:محمد بن اسماعیل کی جامع اور انور شاہ کشمیری بیان کرتے ہیں کہ امام عبد الوہاب شعرانی نے لکھا ہے کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ ساتھیوں کے ساتھ صحیح بخاری پڑھی ہے جن میں سے حنفی تھا۔ (فیض الباری ج1 ص ۲۰۴ مطبع حجازی ۱۳۵۷ ه )
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ عرفاء سے منقول ہے کہ اگر کسی مشکل میں صحیح بخاری کو پڑھا جائے تو وہ حل ہو جاتی ہے اور جس کشتی میں صحیح بخاری‘‘ ہووہ غرق نہیں ہوتی اور حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ خشک سالی میں صحیح بخاری کی قراءت سے بارش ہوجاتی ہے۔ (مرقاة المفاتیحج1 ص ۵۴ مكتبہ حقانیہ پشاور)