أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ ہی سب سے بڑا رزق دینے والا اور سب سے زبردست قوت والا ہے

الذریت : ٥٨ میں فرمایا : بیشک اللہ ہی سب سے بڑا رزق دینے والا اور سب سے زبردست قوت والا ہے۔

اس آیت میں ” رزق “” قوت “ اور ” متین “ کے الفاظ قابل تشریح ہیں :

” رزق “ کے معانی

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

’ رزق “ کا اطلاق اس عطا پر ہوتا ہے جو مسلسل ہو ‘ خواہ وہ عطا دنیاوی ہو یا اخروی اور کبھی اس کا اطلاق نصیب اور حصہ پر بھی ہوتا ہے اور کبھی رزق کا اطلاق اس غذا پر بھی ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں پہنچتی ہے ‘ کہا جاتا ہے : سلطان نے لشکر کو رزق عطا کیا اور علم عطا کرنے پر بھی رزق کا اطلاق کیا جاتا ہے ‘ عطاء دنیوی پر رزق کا اطلاق ان آیات میں ہے :

وانفقوا من مارزقنکم من قبل ان یاتی احدکم الموت۔ (المنافقون : ٠ ١) ہم نے تم کو جو کچھ عطا کیا اس میں سے خرچ کرو ‘ اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی ایک پر موت آئے۔

یعنی ہم نے تم کو مال ‘ عزت ‘ مرتبہ اور علم عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔

وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ (الواقعہ : ٨٢) تم نے ہماری نعمتوں سے یہ حصہ لیا ہے کہ تم ہمیں جھٹلاتے ہو۔

وفی السمآء رزقکم۔ (الذریت : ٢٢) اور آسمان میں تمہارا رزق ہے۔

اس سے مراد بارش ہے جس سے جان داروں کی حیات حاصل ہوتی ہے ‘ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ انسان کو رزق اس کے مقسوم اور اس کے حصہ کے اعتبار سے ملتا ہے۔

فلیاتکم برزق منہ۔ (الکہف : ١٩) سو وہ اس سکہ کے عوض تمہارے پاس رزق لے آئے۔

اس آیت میں رزق سے مراد وہ کھانا ہے جو غذا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

والنخل بسقت لھا طلع نضید۔ رزقا للعباد لا۔ (قٓ: ١١۔ ١٠) کھجوروں کے بلند درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں۔ بندوں کی روزی کے لیے۔

اس آیت میں رزق سے مراد غذائیں ہیں اور اس کو عموم پر محمول کرنا بھی جائز ہے اور اس سے مراد طعام اور لباس اور استعمال کی دوسری چیزیں ہوں اور یہ تمام چیزیں زمینوں سے حاصل ہوتی ہیں اور آسمان سے نازل ہونے والے پانی سے اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور عطاء اخروی پر رزق کا اطلاق ان آیات میں ہے :

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا ط بل احیآء عند ربہم یرزقون۔ (آل عمران : ١٦٩) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں ان کو مردہ گمان مت کرو ‘ بلکہ وہ اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں ان کو رزق دیا جاتا ہے۔

اس آیت میں رزق سے مراد وہ اخروی نعمتیں ہیں جو ان کو آخرت میں عطا کی جائیں گی۔

ولھم رزقہم فیھا بکرۃ وعشیا۔ (مریم : ٦٢) ان کے لیے جنت میں صبح اور شام رزق ہوگا۔

دنیا اور آخرت کی نعمتوں پر بہ طور عموم رزق کا اطلاق ان آیتوں میں ہے :

ان اللہ ھوالرزاق ذوالقوۃ المتین۔ (الذریت : ٥٨) بیشک اللہ ہی سب سے بڑا رزق دینے والا اور سب سے زبردست قوت والا ہے۔

اس آیت میں رزق کا عام معنی مراد ہے ‘ رازق اس کو کہتے ہیں : جو رزق کا خالق اور رزق کا عطا کرنے والا ہو ‘ رزق کا مسبب اللہ تعالیٰ ہے ‘ انسان اللہ کے رزق کو پہنچانے کا ذریعہ اور ظاہری سبب ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر رازق کا اطلاق نہیں کیا جاتا ‘ قرآن مجید میں ہے :

وجعلنا لکم فیھا معایش ومن لستم لہ برزقین۔ (الحجر : ٢٠) اور ہم نے تمہارے لیے زمین میں روزی کے ذرائع بنادیئے ہیں اور ان کے لیے (بھی) جن کے تم رازق نہیں ہو۔

یعنی ان کے لیے جن کے لیے تم رزق کا سب نہیں ہو اور نہ تمہارا انکے رزق میں کوئی دخل ہے۔

ویعبدون من دون اللہ مالا یملک لھم رزقا من السموت والارض شیئا ولا یستطیعون۔ (النحل : ٧٣) اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمینوں سے انہیں بالکل رزق نہیں دے سکتے اور نہ اس کی کوئی طاقت رکھتے ہیں۔

یعنی ان کے بناوٹی معبود کسی وجہ سے بھی رزق کا سب نہیں ہیں ” ظاہری سبب ہیں ہیں نہ باطنی “ (المفردات ج ١ ص ٢٥٨۔ ٢٥٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الاز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

رازق اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کیونکہ وہ تمام مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے ‘ وہی رزق کو پیدا کرتا ہے اور تمام مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اور ان تک پہنچاتا ہے ‘ رزق کی دو قسمیں ہیں : ظاہری رزق اور باطنی رزق ‘ ظاہری رزق وہ خوراک ہے جس سے بدن کی نشوو نما ہوتی ہے اور باطنی رزق قلب اور نفس کی غذا ہے جیسے معارف اور علوم ‘ قرآن مجید میں ہے :

وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ (ھود : ٦) زمین کے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔

حدیث میں ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے رحم کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے ‘ وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے ‘ اے میرے رب ! یہجما ہوا خون ہے ‘ اے میرے رب ! یہ گوشت کا ٹکڑا ہے ‘ پھر جب اللہ اس کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : اس کو مذکر بنائوں یا مؤنث ؟ بدبخت بنائوں یا نیک بخت ؟ اس کا رزق کتنا ہے ؟ اس کی مدت حیات کتنی ہے ؟ پھر اسکی ماں کے پیٹ میں یہ سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٦) (لسان العرب ج ٦ ص ١٤٦‘ دارصا در ‘ بیروت ‘ ٢٠٠٣ ئ)

قوت کے معانی

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

قوت کبھی قدرت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

خذوا مآ اتینکم بقوۃ۔ (البقرۃ : ٦٣) ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس کو قوت سے پکڑ لو۔

اور کبھی کسی چیز میں جس چیز کی صلاحیت ہوتی ہے اس کو قوت کہتے ہیں ‘ جیسے کہتے ہیں : کھجور کی گٹھلی بالقوہ کھجور کا درخت ہے ‘ اور قوت کا استعمال کبھی بدن میں ہوتا ہے اور کبھی قلب میں ہوتا ہے اور کبھی معاون میں ہوتا ہے اور کبھی قدرت الٰہییہ میں ہوتا ہے ‘ بدن میں قوت کے استعمال کی مثال ہی آیت ہے :

وقالوا من اشد منا قوۃ ط (حٰمٓ السجدۃ : ١٥) قوم عاد نے کہا : ہم سے زیادہ بدنی قوت والا کون ہے ؟

قلب میں قوت کے استعمال کی مثال ہے :

ییحی خذالکتب بقوۃ ط (مریم : ١٢) اے یحییٰ ! اس کتاب کو (دل کی) قوت سے پکڑ لیں۔

خارجی معاون میں اس کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے :

لوان لی بکم قوۃ۔ (ھود : ٨٠) (لوط نے کہا :) کاش ! میرے پاس تم سے مقابلہ کے لیے کوئی خارجی معاون ہوتا۔

یعنی میرے پاس کوئی لشکر ہوتا یا میری حمایت میں کوئی مضبوط قبیلہ ہوتا۔

ان اللہ ھوالرزاق ذوالقوۃ المتین۔ (الذریت : ٥٨) بیشک اللہ ہی سب سے بڑا رزق دینے والا اور سب سے زبردست قوت والا ہے۔

یعنی اللہ کی قوت تمام مخلوق کی قوتوں سے زیادہ ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٤١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

” متین “ کا معنی

علامہ راغب حسین متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

” متین “ صفت مشبہ کا صیغہ ہے ‘ اس کا معنی ہے : مضبوط اور محکم ‘ ریڑھ کی ہڈی کے دائیں اور بائیں حصہ کو ” متین “ کہا جاتا ہے ‘ اس سے ” متن “ فعل بنا لیا گیا ہے ‘ یعنی اس کی پشت مضبوط اور قوی ہوگئی۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٩٦)

علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی ٨١٧ ھ لکھتے ہیں :

” متن “ کا معنی ہے : سخت ہونا ‘ ریڑھ کی ہڈی کی دونوں جانبوں کو بھی ” متن “ کہتے ہیں : (القاموس ص ١٢٣٣‘ مئوسستہ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٤ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 58