أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ۞

ترجمہ:

اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے کسی رزق کو طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔ بیشک اللہ ہی سب سے بڑا رزق دینے والا اور سب سے زبردست قوت والا ہے۔ (الذریت : ٥٨۔ ٥٦ )

” الالیعبدون “ کے معانی اور محامل

(١) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ میں نے تمام جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ‘ بلکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جن جنات اور انسانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ عمل تھا کہ وہ اس کی عبادت کریں گے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ میں نے ان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ‘ اس آیت میں ہرچند کہ جنات اور انسانوں کا ذکر بہ طریق عموم فرمایا ہے لیکن اس سے مراد خصوص ہے اور اس کا معنی ہے : جنات اور انسانوں میں سے جو اہل سعادت ہیں ان کو میں نے صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھ کو واحد مستحق عبادت مانیں اور میں ان کے ظہور کے زمانوں میں اپنے رسولوں کو بھیج کر ان کی زبانوں سے اپنی عبادت کے جو طریقے بتائوں ان کے مطابق میری عبادت کریں اور میرے رسولوں کی اطاعت کریں۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ جو بچے اور دیوانے ہیں وہ عبادت کے مکلف نہیں ہیں ‘ حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ ان کو بھی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس۔ (الاعراف : ١٧٩) اور بیشک ہم نے بہت زیادہ جنات اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔

اس آیت کا بھی اسی طرح یہ معنی ہے کہ جن جنات اور انسانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ وہ اس کا کفر کریں گے اور اللہ کے اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی عبادت کا مستحق مانیں گے اور ان کو تخلیق میں اور عبادت میں اس کا شریک قراردیں گے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں صرف جنات اور انسانوں کو اختیار دیا ہے اور عمل کی آزادی دی ہے اور اس کو ازل میں علم تھا کہ کون کون اپنے اختیار سے اس کی عبادت کرے گا اور کون کون اپنے اختیار سے شرک اور کفر کرے گا اور باقی مخلوق تکوینی اور غیر اختیاری طور پر اس کی عبادت کرتی ہے ‘ پس الذریت : ٥٥ میں ان اہل سعادت جنات اور انسانوں کا ذکر فرمایا جن کو اس نے ان کے حسن اختیار کی وجہ سے عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور الاعراف : ١٧٩ میں ان اہل شقاوت جنات اور انسانوں کا ذکر فرمایا جن کو اس نے ان کے سوء اختیار کی وجہ سے جہنم کے لیے پیدا فرمایا۔

(٢) اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے واحد مانیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

ومآ امرو الا لیعبدو آ الھا واحدا ج (التوبہ : ٣١) ان (یہودیوں اور عیسائیوں) کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ واحد معبود کی پرستش کریں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف واحد معبود کی پرستش کریں تو پھر یہودی اور عیسائیوں کے لیے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ اس حکم کی مخالفت کریں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو یہ حکم جبراً نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کو اس حکم پر عمل کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ (الکشف والبیان ج ٦ ص ٠ ١٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

(٣) علی بان ابی طلحہ نے حضرت ابنعباس (رض) سیروایت کیا ہے کہ میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ خوشی یا نا خوشی سے صرف میری عبادت کریں۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٣٧٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

(٤) مجاہد نے یہ کہا ہے کہ اس آیت کا معنی ہے : میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں۔

علامہ ثعلبی نے کہا : یہ قول اس لیے حسن ہے کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیتوں میں اس کی تائید ہے :

ولئن سالتہم من خلقہم لیقولن اللہ۔ (الزخرف : ٨٧) اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے (ان کو پیدا کیا ہے) ۔

ولئن سالتہم من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم۔ (الزخرف : ٩) کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ ان کو اس نے پیدا کیا ہے جو بہت غالب ہے اور بہت علم والا ہے۔

رہا مومن تو وہ اللہ تعالیٰ کو مصائب میں اور خوش حالی میں یاد کرتا ہے اور رہا کافر تو وہ اللہ کو صرف مصائب میں یاد کرتا ہے ‘

قرآن مجید میں ہے :

واذا غشیہم موج کا لظلل دعوا اللہ مخلصین الہ الدین۔ (لقمان : ٣٢) اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کو پکارتے ہیں۔

(الکشف والبیان ج ٩ ص ١٢٠‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

حدیث ” کنت کنزا مخفیا “ کی تحقیق

(٥) اسی قول کے مموافق علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے :

اس آیت میں جو فرمایا ہے : تاکہ وہ میری عبادت کریں ‘ اس کا معنی ہے : تاکہ وہ مجھے پہچان لیں اور اللہ تعالیٰ کو پہچاننا اس کی عبادت کرنے کا سبب ہے ‘ سو آیت میں مسبب کا ذکر ہے اور اس سے سبب کا ارادہ فرمایا ہے اور یہ مجاجز مرسل ہے ‘ اور اس میں نکتہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ ‘ کی وہ معرفت معتبر ہے جو اس کی عبادت سے حاصل ہو نہ کہ وہ معرفت جو بغیر عبادت کے حاصل ہو جیسا کہ فلاسفہ عقلی دلائل سے اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرتے ہیں اور یہ عمدہ قول ہے ‘ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ جنات اور انسانوں کو پیدا نہ کرتا تو اس کی معرفت حاصل نہ ہوتی ‘ اس کے وجود کی معرفت حاصل ہوتی نہ اس کی توحید کی ‘ اس کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ (روح المعانی جز ٢٧ ص ٣٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ آلوسی نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اس کا متن حافظ سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے اس طرح ذکر کیا ہے :

میں ایک غیر معروف خزانہ تھا ‘ میں نے پسند کیا کہ میں پہچانا جائوں ‘ سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا میں نے انہیں اپنی پہچان کرائی ‘ پس انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ حافظ سیوطی نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ (الدررالمنتشرہ رقم الحدیث : ٣٥٥۔ ص ٢٢٧‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ محمد بن عبدالرحمان سخاوی متوفی ٩٠٢ ھ لکھتے ہیں :

ابن تیمیہ نے کہا : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام نہیں ہے اور اس کی کوئی سند معروف نہیں ہے ‘ صحیح نہ ضعیف۔ علامہ زرکشی اور ہمارے شیخ نے بھی اسی طرح تحقیق کی ہے۔ (المقاصد الحسنۃ رقم الحدیث : ٨٣٨۔ ص ٣٣٢)

ملاعلی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھعلامہ سخاوی کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

لیکن اس حدیث کا معنی صحیح ہے اور یہ اس آیت سے مستفاد ہے :” وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ “ (الذریت : ٥٦) میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ‘ جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے۔ (الاسرار المرفوعۃ رقم الحدیث : ٦٩٨۔ ص ١٧٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی ١١٦٢ ھ نے اس عبارت کو نقل کیا ہے۔ (کشف الخفاء و مزیل الا لباس ج ٢ ص ١٣٢‘ مکتبہ الغزالی ‘ دمشق)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠ ١٢٧ ھ اس حدیث کے معنی پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

علامہ سید نورالدین سمہودی نے ” الا نوارالسنیۃ “ میں اس حدیث کا ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے :

کنت کنزاً مخفیا فاحیت ان اعرف فخلقت ھذا الخلق لیعر فونی فبی عرفونی۔ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا ‘ پس میں نے پسند کیا کہ میں پہچانا جائوں تو میں نے اس مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ مجھے پہچانے سو میری وجہ سے اس نے مجھ کو پہچان لیا۔

اور ” المقاصد الحسنۃ “ میں ” کنت کنزا لا اعراف “ کے الفاظ ہیں ‘ اور اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ خفاء میں کسی کی طرف نسبت کا معنی ہے ‘ پس ضروری ہے کہ اس میں ایک ذات مخفی ہو اور ایک وہ ذات ہو جس سے وہ مخفی ہے اور جب کوئی مخلوق نہیں تھی تو وہ ذات نہیں تھی جس سے وہ مخفی ہو لہٰذا خفاء متحقق نہیں ہوگا۔

اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ خفاء موجودات خارجیہ سے ہے ‘ کیونکہ اشیاء کا وجود خارجی سے پہلے وجود ذہنی نہیں ہوتا ‘ پس گویا کہ اللہ سبحانہ ‘ موجودات خارجیہ سے مخفی اور غیر معروف تھا ‘ پھر اس نے چاہا کہ کسی موجود خارجی میں اس کی معرفت حاصل ہو تو اس نے مخلوق کو پیدا کیا کیونکہ اس مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول خود اس مخلوق کے وجود کی فرع ہے ‘ پھر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے واسطے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ تجلیات ان میں ان کی صلاحیت اور استعداد کے اعتبار سے حاصل ہوتی ہیں۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ خفاء سے مراد اس کا لازمی معنی ہے کہ اللہ عزوجل کی معرفت کسی کو بھی حاصل نہیں تھی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ علامہ سخاوی نے ” مخفیاً “ کی جگہ ” لا اعرف “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ ” مخفیا “ کو با افعال سے پڑھا جائے اور اس میں ہمزہ سلب ماخذ کے لیے ہے یعنی اللہ بہت زیادہ ظاہر تھا اور جب کوئی چیز شدت ظہور میں ہو تو جہالت کو واجب کرتی ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ظہور کے لیے حجاب ہوجائے اور پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آفتاب کے شدید ظہور کی وجہ سے اکثر لوگ اس کو نہیں دیکھ سکتے ؟ ہاں ! جب اس پر بادلوں کا حجاب آجائے تو اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ (روح المعانی جز ٢٧ ص ٣٩‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

ایک سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ” کنز “ کے اطلاق کی کیا دلیل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام دیلمی نے اپنی ” مسند “ میں حضرت انس سے روایت کیا ہے :” کنزالمؤمن ربہ “ مومن کا خزانہ اس کا رب ہے (اسی طرح ایک حدیث میں ہے):

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے ایک سفر میں فرمایا : اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہاری رہ نمائی اس چیز پر نہ کروں جو ” جنز من کنوز الجنۃ “ ہے ؟ (جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ! ) میں نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! ‘ آپ نے فرمایا : کہ ہو :” لاحول و لا قوۃ الا بااللہ “۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٩ ٦٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥٢٦‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٦١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٢٤ )

ہم ” الا لیعبدون “ کے معانی اور محامل بیان کررہے تھے اس کے ضمن میں حدیث ” کنت کنزاً مخفیاً “ کی تحقیق آگئی ‘ اب ہم پھر اصل مبحث کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

” الا لیعبدون “ کے بقیہ معانی اور محامل

(٦) عکرمہ نے کہا ” الا لیعبدون “ اپنے معنی پر محمول ہے ‘ یعنی میں نے جنات اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت اور میری اطاعت کریں تاکہ میں عبادت گزاروں کو ثواب عطا کروں اور منکروں کو سزا دوں۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٣٧٥)

عبودیت کا اصل معنی عاجزی کرنا اور تذلل اختیار کرنا ہے۔ اور اصطلاح میں اس کا معنی ہے کہ انسان ان تمام اقوال اور افعال کو اختیار کرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہو اور ان سے راضی ہو ‘ اور ان تمام اقوال اور افعال کو ترک کر دے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان طریقوں سے عاجزی اور تذلل کو اختیار کرے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں اور محض اپنی عقل سے کسی طریقہ کو اختیار نہ کرے۔

(٧) حافظ جلال الدین سیوطی (رح) لکھتے ہیں :

امام ابن شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابو الجوازء (رض) سے روایت کیا ہے :

میں ان کو رزق دیتا ہوں اور میں ان کو کھانا کھلاتا ہوں اور میں نے ان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ٢٣٨۔ رقم الحدیث : ٣٥٦٤٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اے ابن آدم ! میری عبادت کرنے کے لیے فارغ ہو ‘ میں تیرا سینہ غنا سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو دور کر دوں گا اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے ہاتھوں کو مشغول رکھوں گا اور تیرے فقر کو دور نہیں کروں گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٦٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٠٧‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٥٨ )

امام طبرانی نے ” مسند الثامیین “ اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابو الدرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں اور جن اور انس (قیامت کی) عظیم خبر ہیں ‘ پیدا میں کرتا ہوں اور یہ عبادت میرے غیر کی کرتے ہیں ‘ رزق میں دیتا ہوں اور یہ شکر میرے غیر کا ادا کرتے ہیں۔ (الدرالمنثور ج ٧ ص ٥٤٧‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

جب جنات اور انسانوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو ان میں سے اکثر کے عبادت۔۔۔۔ نہ کرنے کی توجیہ

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں تو پھر چاہیے تھا کہ سب اس کی عبادت کرتے ‘ حالانکہ بعض اس کی عبادت کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر اختیار کے جبراً عبادت کرے کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ ان کو عمل کرنے یا نہ کرنے کی آزادی ہے ‘ اور ان سب کو اس بات کا مکلف کیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ‘ سو جو عبادت کریں گے ‘ وہ اجر اور ثواب پائیں گے اور جو اس کے خلاف کریں گے وہ سزا کے مستحق ہوں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم عمل کرو ‘ ہر انسان کے لیے اسی چیز کو آسان کیا جائے گا جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ (مسند احمدج ١ ص ٨٢) اور یہ صرف جنات اور انسانوں کی خصوصیت ہے کہ ان کو عمل کرنے کی آزادی عطا کی ہے ورنہ تمام کائنات غیر اختیاری طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہے۔

جنات اور انسانوں کی وجہ تخلیق بیان کی گئی ہے ‘ باقی کائنات کی وجہ تخلیق کیوں نہیں بیان کی گئی ؟

دوسرا سوال یہاں پر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف جنات اور انسان کا خالق تو نہیں ہے ‘ وہ تو تمام کائنات کا خالق ہے ‘ پھر صرف جنات اور انسانوں کو ذکر کیوں فرمایا کہ اس نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات میں سے صرف جنات اور انسانوں کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اس کی عبادت اور اطاعت کریں ‘ ورنہ کائنات کا ذرہ ذرہ تکوینی اور جبری طور پر اس کی اطاعت کررہا ہے ‘ بادل اسی کے حکم سے بارش برساتے ہیں ‘ سورج اور چاند ‘ ستاروں کا طلوع اور غروب اسی کے حکم سے ہوتا ہے ‘ کیا پہاڑ ‘ کیا دریا اور کیا سمندر سب اسی کی اطاعت میں سرنگوں ہیں ‘ حتیٰ کہ ہر انسان خواہ وہ مومن ہو یا کافر اس کا پیدا ہونا ‘ مرنا ‘ جینا ‘ بیمار اور صحت مند ہونا ‘ فقیر یا تو نگر ہونا اسی کے حکم سے ہے ‘ جو انسان اپنے اختیار سے اس کی اطاعت نہیں کرتے ان کے جسم کے تمام اعضاء اسی کے حکم سے کام کررہے ہیں ‘ ان کا معدہ کھانا ہضم کرتا ہے ‘ جگر خون بناتا ہے ‘ ان کا مثانہ اور بڑی آنت فضلہ خارج کرتے ہیں ‘ ان کاموں میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے ‘ ہر انسان کے اندرونی اعضاء یہ تمام کام صرف اللہ عزوجل کے حکم سے کررہے ہیں ‘ اسی لیے فرمایا ہے :

ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا۔ (مریم : ٩٣) آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز رحمن کی عبادت گزار اور طاعت شعار ہے۔

رہا یہ سوال کہ اس آیت میں جنات کو پہلے ذکر فرمایا ہے اور انسان کو بعد میں اس کا کیا سبب ہے ؟ تو اس کا سبب ظاہر ہے جنات کو واقع میں انسانوں سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان کا ذکر بھی انسان سے پہلے کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض ہونے میں فقہاء اسلام کے مذاہب

اس آیت میں جو فرمایا ہے : میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات اور انسانوں کو پیدا کرنے کی علت اور ان کی تخلیق کا سبب اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور یہی ان کو پیدا کرنے کی غرض ہے ‘ اس وجہ سے متکلمین کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کی کوئی غرض ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔

علامہ محمد السفار ینی جنبلی متوفی ١١٨٨ ھ اس مسئلہ کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

بعض مالکیہ اور شافعیہ اور ظاہریہ اور اشعریہ اور جہمیہ کا یہ مختار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض نہیں ہوتے اور شیخ ابن تیمیہ ‘ ابن القیم اور شیعہ اور معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے افعال کی علت اور حکمت ہوتی ہے ‘ اسی طرح اللہ سبحانہ ‘ جو حکم دیتا ہے اس کی بھی علت اور غرض ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض ہونے کے ثبوت میں شیخ ابن تیمیہ کے دلائل

شیخ ابن تیمیہ نے کہا کہ اکثر اہل سنت نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کسی علت اور حکمت کی بناء پر ہوتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کی بہت آیات میں اللہ تعالیٰ کے افعال کی علت اور حکمت بیان کی گئی ‘ جیسا کہ ان آیات میں ہے :

من اجل ذلک ج کتبنا علی بنی اسرآء یل انہ من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ط (المائدہ : ٣٢) اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جس نے کسی شخص کو بغیر کسی شخص کے قتل کے یا بغیر زمین میں فساد پھیلانے کے قتل کردیا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔

مآافآء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل لا کی لا یکون دولۃ بین الاغنیآء منکم ط۔ (الحشر : ٧) کفار سے جنگ کے بغیر ان کا جو مال (فئی) ان کی بستیوں سے تمہارے ہاتھ آجائے ‘ سو وہ مال اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا اور (رسول کے) قرابت داروں کا ‘ اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے ‘ تاکہ یہ مال (صرف) تمہارے دولت مندوں کے درمیان گردش کرتا نہ رہے۔

وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھآ الا لنعلم من یتبع الرسول ممن ینقلب علی عقبیہ ط (البقرہ : ١٤٣) اور پہلے آپ جس قبلہ پر تھے ہم نے اس کو صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم یہ ظاہر کردیں کہ ان لوگوں میں سے کون رسول کا (سچا) پیروکار ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے۔

اور ان آیات کی اور بہت نظائر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکیم ہے ‘ اس نے احکام کو کسی نہ کسی حکمت اور مصلحت کی وجہ سے مشروع فرمایا ہے ‘ اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوں اور معتزلہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ حکمت اور مصلحت کے مطابق کام کرے اور معتزلہ کے اپنے مؤقف پر حسب ذیل دلائل ہیں :

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لا اغراض ہونے کے ثبوت میں معتزلہ کے دلائل

ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلہم کالذین امنوا وعملو الصلحت لا سوآء محیا ھم ومما تہم ط سآء ما یحکمون۔ (الجاثیہ : ٢١) کیا جو لوگ برے کام کرتے ہیں ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مثل کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ‘ ان کا مرنا اور جینا برابر ہوجائے یہ بہت بُرا فیصلہ ہے جو وہ کررہے ہیں۔

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ فاسقین اور صالحین کی موت اور حیات ایک جیسی کردینا بہت قبیح اور بُرا کام ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے قبیح ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کرتا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جو کام قبیح ہو اور حکمت اور مصلحت کے خلاف ہو ‘ اس سے اجتناب کرنا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے اور اسی طرح کا استدلال اس آیت سے بھی کیا گیا ہے :

ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ (القیامۃ : ٣٦) کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر انکار کیا ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ انسان کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا ‘ اللہ اس کو کسی چیزکا حکم دے گا نہ کسی چیز سے منع کرے گا ‘ اس کو ثواب دے گا نہ اس کو سزا دے گا ‘ ایسا گمان کرنا باطل ہے ‘ اور اللہ اس بات سے بلند ہے کہ وہ ایسا کام کرے کیونکہ یہ کام اس کی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اور یہ کام اس قدر قبیح ہے کہ اس کی نسبت اس حکیم مطلق کی طرف کرنا جائز نہیں ہے ‘ اسی طرح اس آیت میں ارشاد ہے۔

افحسبتم انما خلقنکم عبثاوانکم الینا لا ترجعون۔ (المؤمنون : ١١٥) کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس گمان سے بلندو برتر قرار دیا ہے کہ وہ انسان کو بےمقصد اور بےکار پیدا کرے اور چونکہ ایسا کرنا بہت قبیح ہے اور اس کی حکمت کے منافی ہے اس لیے ایسے فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا جائز نہیں ہے اور جس طرحان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمت اور مصلحت کے خلاف کوئی کام کرے اسی طرح عقل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ (لوامع الانوار الہیۃ ج ١ ص ٢٨٦۔ ٢٨٥‘ ملخصا ‘ المکتب الاسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

شیخ ابن تیمیہ اور معتزلہ کے دلائل پر مصنف کا تبصرہ

علامہ محمد السفارینی جنبلی متوفی ١١٩٨ ھ نے شیخ ابن تیمیہ جنبلی اور معتزلہ کی طرف سے جو دلائل فراہم کیے ہیں ان سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اعفال کی کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت ہوتی ہے لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس حکمت اور مصلحت کے مطابق فعل کا کرنا واجب ہے ‘ بلکہ اس کے خلاف پر دلیل قائم ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

لایسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ (الا نبی ائ : ٢٣) اللہ جو کچھ کرتا ہے ‘ اس سے اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔

اگر اللہ پر کسی کام کا کرنا واجب ہوتا تو اس کام کے ترک کرنے یا اس کے خلاف کرنے پر اس سے سوال کرنا جائز ہوتا ‘ حالانکہ اللہ سبحانہ ‘ کے کسی فعل پر اس سے سوال کرنا جائز نہیں ہے نیز اللہ تعالیٰ فعال مطلق ہے اس کے افعال کسی حکمت اور مصلحت کے پابند نہیں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ان اللہ یفعل ما یشآء۔ (الحج : ١٨) بیشک اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

نیز شیخ ابن تیمیہ اور معتزلہ نے جو دلائل قائم کیے ہیں ان سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کی حکمت اور مصلحت ہوتی ہے ‘ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان افعال کی کوئی غرض بھی ہوتی ہے ‘ حکمت اور مصلحت اور غرض میں یہ فرق ہے کہ حکمت اور مصلحت فعل پر مترتب ہوتی ہے ‘ مقدم نہیں ہوتی اور غرض فعل پر مقدم ہوتی ہے اور فاعل کو اس فعل پر ابھارتی ہے اور اس غرض سے فاعل کو اس فعل سے کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور کوئی کمال حاصل ہوتا ہے اور اس فائدہ اور اس کمال کا حصول ہی اس کی غرض ہوتی ہے ‘ ہم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تمام صفات ِکمالیہ کا جامع ہے اور تمام کمالات اس کو بالفعل حاصل ہیں اور اسے کسی کمال کے حصول کے لیے کوئی فعل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض نہیں ہیں اور اس کے افعال کی کوئی غرض نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل بالاغراض نہ ہونے پر امام رازی کے دلائل

امام فخر الدین بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کا فعل کسی غرض کے لیے نہیں ہوتا ورنہ لازم آئے گا کہ وہ اس غرض سے کمال حاصل کرے حالانکہ وہ فی نفسہ کامل ہے ‘ پس یہ بات کس طرح صحیح ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کا فعل کسی غرض اور کسی علت کی وجہ سے ہے ؟ اور معتزلہ نے اس کے انکار میں بہت مبالغہ کیا ہے ‘ ان کا استدلال اس سے ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے بعض افعال کے بعد ” لام “ کا ذکر ہے اور ” لام “ تعلیل اور علت کے لیے آتا ہے ‘ جیسے الذریت : ٥٦ میں ہے :” الا لیعبدون “ یعنی جنات اور انسانوں کو عباد ت کی غرض سے پیدا کیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض آیات میں لام کا علت کے لیے ہونا صحیح نہیں ہے ‘ جیسا کہ ان آیات میں ہے :

اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل۔ (بنی اسرائیل : ٧٨) آفتاب کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک نماز قائم کیجئے۔

اور آفتاب ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک کا وقت نماز پڑھنے کی علت اور غرض نہیں ہے۔

یایھا النبی اذاطلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن۔ (الطلاق : ١) اے نبی ! (مسلمانوں سے کہیے :) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو ان کو ان کی عدت ( کے شروع) میں طلاق دو ۔

اور عدت کی ابتداء کا وقت طلاق دینے کی علت اور غرض نہیں ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔ یہاں پر لام مقام مقارنت کے لیے ہے ‘ یعنی اس وقت میں نماز پڑھو جو آفتاب ڈھلنے کے مقارن ہو اور اس وقت میں طلاق دو ‘ جو عدت کے ابتدائی وقت کے مقارن ہو۔

اسی طرح الذریت : ٥٦ کا معنی ہے : میں نے جنات اور انسانوں کو اس وقت میں پیدا کیا ہے جو ان پر عبادت کو فرض کرنے کے مقارن تھا اور جو چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہاں پر تعلیل حقیقی مراد نہیں ہے اور رغرض کا معنی معتبر نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منافع سے مستغنی ہے اس لیے اس کا کوئی فعل ایسا نہیں ہوسکتا جس کی منفعت اس کی طرف راجع ہو یا اس کے غیر کی طرف راجع ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر رہے کہ وہ بغیر کسی واسطے کے غیر تک منفعت پہنچا دے پھر اس کو کسی فعل کے واسطے کی کیا ضرورت ہے ؟ اور جو آیات اس پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کسی غرض پر مبنی نہیں ہوتے وہ بہت زیادہ ہیں ‘ بعض ازاں یہ ہیں :

یضل من یشآئ۔ (الرعد : ٢٧) اللہ جس میں چاہے گمراہی پیدا کردیتا ہے۔

خالق کل شیئ (الرعد : ١٦) اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔

ویفعل اللہ مایشآئ (ابراہیم : ٢٧) اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

یحکم مایرید۔ (المائدہ : ١) اللہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔

اور اس مبحث پر سیر حاصل گفتگو کرنا متکلمین کا مذہب ہے نہ کہ مفسرین کا۔ (تفسیر کبیر ج ١٠ ص ١٩٣‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض نہ ہونے پر علامہ تفتازانی کے دلائل

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتاز انی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں :

اشاعرہ کا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لا غراض نہیں ہیں اور ان کے دلائل حسب ذیل ہیں :

(١) اگر اللہ تعالیٰ کسی غرض کے لیے کوئی فعل کرے تو وہ اپنی ذات میں ناقص ہوگا اور اس غرض سے کمال حاصل کرے گا۔

(٢) اگر ممکنات میں سے کوئی سے چیز اللہ تعالیٰ کے کسی فعل کی غرض ہو تو وہ غرض ابتداء حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس فعل کے پیدا کرنے کے بعد اس کے واسطے سے حاصل ہوگی اور یہ باطل ہے ‘ کیونکہ ہر چیزابتدائً اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

(٣) اگر ہر فعل کی کوئی غرض ہو اور اس میں مخلوق کا کوئی نفع ہو تو کفار کو جو اللہ تعالیٰ دائمی عذاب دے گا تو اللہ تعالیٰ کے اس فعل میں بھی کسی کا نفع ہونا چاہیے حالانکہ اس میں کسی کا کوئی نفع نہیں ہے۔

علامہ تفتازانی اس کے بعد لکھتے ہیں :

حق یہ ہے کہ بعض افعال کی غرض ہوتی ہے جیسے احکام شرعیہ کی حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں جیسے حدود اور کفارات کا واجب ہونا اور نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دینا اور اس طرح کے اور محرمات کی وجوہات اور بعض قرآن مجید کی نصوص سے بھی بعض افعال کی اغراض ثابت ہیں ‘ مثلاً یہ آیات ہیں :

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ (الذریات : ٥٦) اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔

من اجل ذلک ج کتبنا علی بنی اسرآ ئیل۔ (المائدہ : ٣٢) اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا۔

فلما قضی زیدمنھا وطرا زوجنکھا لکی لا یکون علی المؤمنین حرج۔ (الاحزاب : ٣٧) اس عورت کو آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مؤمنوں پر (اپنے لے پالکوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں) تنگی نہ رہے۔

اور اسی وجہ سے قیاس بھی حجت شرعیہ ہے کیونکہ اس میں دو حکموں کے درمیان علت مشترک ہوتی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ علامہ تفتازانی نے جس قاعدہ کو حق لکھا ہے وہ حق نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے کسی فعل کی کوئی غرض نہیں ہوتی ‘ علامہ تفتازانی نے جو مثالیں دی ہیں وہ حکمت اور مصلحت کی مثالیں ہیں اور غرض اور حکمت میں فرق کو ہم معتزلہ کے رد میں ذکر کرچکے ہیں۔

اس کے بعد علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ انسان کو مکلف کرنے کی غرض یہ ہے کہ اس کے لیے ثواب پیش کیا جائے کیونکہ جب تک انسان پر مشقت احکام پر عمل کر کے ثواب کا استحقاق ثابت نہ کرلے اس کو ثواب عطا کرنا حسن نہیں ہے اور اس کے حسب ذیل دلائل ہیں :

(١) ومن یطع اللہ ورسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر۔ (النسائ : ١٣) جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس کو اللہ ان جنتوں میں داخل کردے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں۔

(٢) اس پر سب کا اجماع ہے کہ مکلف کرنے کی اس کے سوا اور کوئی غرض نہیں ہے۔

(٣) بغیر کسی منفعت کے استحقاق کے پر مشقت احکام کا مکلف کرنا اضرار اور اظلم ہے ‘ اس لیے اس کی جزاء میں منفعت پیش کرنا ہی وجہ حسن ہے اور یہ دلائل مردود ہیں ‘ اول : اس لیے کہ اعمال کی جزاء اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ‘ ورنہ عقلاً یہ بات کیسے درست ہوگی کہ ایک کلمہ پڑھنے کی وجہ سے انسان دائمی جنت کا مستحق ہوجائے ؟ اور ثانی : اس لیے کہ اجماع کا دعویٰ غلط ہے اور یہ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے کہ مکلف کرنے کی غرض صرف ثواب عطا کرنا ہو ؟ مکلف کرنے کی غرض آزمائش بھی ہوسکتی ہے اور یہ غرض بھی ہوسکتی ہے کہ بندہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور بھی کوئی غرض ہوسکتی ہے جو ہماری عقل میں نہ آئے ‘ اور یہ سب گفتگو اس صورت میں ہے جب اللہ تعالیٰ کے افعال کی غرض تسلیم کرلی جائے حالانکہ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض نہیں ہیں۔ (شرح المقاصد ج ٤ ص ٣٠٣۔ ٣٠١‘ ملخصا ‘ منظورات الشریف الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ کے افعال معلل با لاغراض ہونے کے متعلق شارحین حدیث کا نظریہ

حافظ شہاب الدین احمد بنعلی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں :

اس آیت (الذریت : ٥٦) میں قدر یہ کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ وہ اس آیت سے اس پر استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کا معلل با لاغراض ہونا واجب ہے ‘ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی ایک فعل کا کسی غرض پر مبنی ہونا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل کسی غرض پر مبنی ہو اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کا اغراض پر مبنی ہونا ‘ جائز ہے واجب نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ٩ ص ٥٧٩‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 56