اَمۡ لَمۡ يُنَبَّاۡ بِمَا فِىۡ صُحُفِ مُوۡسٰىۙ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 36
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَمۡ لَمۡ يُنَبَّاۡ بِمَا فِىۡ صُحُفِ مُوۡسٰىۙ ۞
ترجمہ:
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں ہوئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں ہوئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔ اور جو ابراہیم کے صحائف میں ہے جنہوں نے وفا کی۔ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور یہ کہ ہر انسان کو اسی کا عوض ملے گا جو اس نے عمل کیا۔ اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھا جائے گا۔ پھر اس کا پورا پورا عوض دیا جائے گا۔ اور یہ کہ آخر کار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچتا ہے۔ ( النجم : ٤٢۔ ٣٦)
مشرکین پر اللہ تعالیٰ کی حجت کی تقریر
یعنی جو شخص آپ سے روگردانی کر رہا ہے اور آپ کے پیغام پر ایمان نہ لانے کا دوسرے کافروں کو مشورہ دے رہا ہے اور یہ ضمانت دے رہا ہے کہ اگر آپ پر ایمان نہ لانے کا اس کو عذاب ہوا تو اس عذاب کو وہ بھگت لے گا، کیا اس نے سابقہ آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں لکھی ہوئی یہ خبر نہیں پڑھی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دو سے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کو اسی کا عوض ملے گا جو اس نے عمل کیا اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھ لیا جائے گا، پھر اس کو پورا پورا عوض دیا جائے گا اور یہ کہ آخر کار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچتا ہے۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 36
[…] النجم : ٣٦ میں پہلے موسیٰ کے صحیفوں کا ذکر ہے اور اس کے بعد النجم : 37 میں ابراہیم کے صحیفوں کا ذکر ہے، حالانکہ واقع میں پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی، پھر اس کے کافی عرصہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی ہے، تو حضرت ابراہیم سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کس وجہ سے کیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف یعنی ” تورات “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف سے زیادہ مشہور تھے، نیز یہودی مکہ مکرمہ میں آتے رہتے تھے اور ان کی زبانی مشرکین مکہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بہت زیادہ سنا تھا، اس لیے ان کی شہوت بھی مکہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ تھی اور مشرکین مکہ یہودیوں کی زبانی حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کی ان آیات کو سنتے رہتے تھے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کو اس کا عوض ملے گا جو اس نے کیا اور مشرکین کے نزدیک یہ آیات مشہور و معروف تھیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی شہرت کو بنیاد بنا کر مشرکین کو سرزنش فرما رہا ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تم دوسرے شخص کی جگہ اس کا عذاب اٹھانے کی ضمانت کیوں دے رہے ہو ؟ […]