عملیات میں ناکامی کی بعض وجوہات

عملیات اور روحانی علاج سیکھنے کے لیے مختلف ممالک سے دوست رابطے کرتے ہیں۔ بعض تو اس قدر جلد باز ہوتے ہیں کہ ایک وٹس ایپ میسج کے ذریعے ہی کُل اجازت مانگ لیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اسباق دیے جائیں یا تربیتی مراحل طے کروائے جائیں تو بھی ناکام ہو جاتے ہیں اور چند ایسے بھی آئے جنہیں کوئی ایک وظیفہ ہی کفایت کر گیا اور اسی سے فیض کا سلسلہ جاری ہو گیا۔

لیکن ۹۹ فیصد ناکام ہو جاتے ہیں، کچھ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

عملیات سیکھنے کے لیے اہتمام بہت کرتے ہیں لیکن روحانی طہارت اور قلبی صفائی نہیں کرتے۔ اہداف میں حبِ جاہ، مال دار بننے کے لیے شارٹ کٹ کی تلاش اور اپنی زندگی کو comfort zone تک پہنچانا ہی شامل ہوتا ہے جب کہ رضائے الٰہی مفقود۔ اسی لیے امام غزالی علیہ الرحمہ نے علم سے بھی پہلی تزکیہ نفس پر زور دیا ہے کیونکہ خراب باطن والے کو علم سکھانا ایسا ہی ہے جیسے خراب معدے والے کو شیرینی و حلوے کھلانا۔ صحیح مسلم کی روایت ہے؛

’’اِنَّ اللهَ لَايَنْظُرُ اِلٰی اَجْسَادِ کُمْ وَلَااِ لٰی صُوَرِکُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَاَعْمَالِكُمْ کہ اللہ تعالیٰ تمہارےجسموں اورچہروں کی طرف نظرنہیں فرماتاوہ توتمہارےدلوں اوراعمال پرنظرفرماتاہے۔

یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ ایسے لالچی اور فکری کمزور افراد کو واہ واہ تو مل جاتی ہے لیکن اللہ تعالٰی مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت و احترام نہیں ڈالتا۔

عملیات اور روحانیت کی راہ میں حائل دوسری بڑی رکاوٹ بخل اور کنجوسی ہے۔ جب آپ کے پاس کوئی مریض آ کر اپنی مفلسی، تنگ دستی اور غربت کا اظہار کرے اور اس کا روحانی علاج چاہے تو عامل کو چاہیے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں سے اسے بھی کچھ دے اور جو ممکن ہو سکے اس کی مالی مدد بھی کرے۔ خصوصا اپنے صدقات بروقت نکالا کرے۔ زکٰوۃ بروقت ادا کرے ، عیدین کے موقع پر اپنے آس پاس والوں اور مستحقین کو تحفے دیا کرے، سادات کرام کے ساتھ خصوصی شفقت و محبت کا اظہار کرے کیونکہ چلہ کشی اور لمبے چوڑے وظائف جہاں ناکام ہو جائیں، صدقات اور سادات کرام کی خدمت وہاں بھی کامیاب ہوتی ہے۔ مخلوق خدا کی خدمت رب تعالٰی کی بارگاہ تک پہنچنے کا سب سے مختصر راستہ ہے۔ لہٰذا عامل حضرات تعویذات اور علاج کے بدلے صرف پیسہ وصول ہی نہ کریں بلکہ مستحقین کی خدمت اپنی جیب سے بھی کیا کریں۔ لوگوں کے ساتھ تعلقات اچھے رکھے، خوشی غمی میں شریک ہوا کرے، دلجوئی کرے اور لوگوں سے ملتے وقت عاجزی اور نرمی سے کام لے۔ لیکن اس منزل تک پہنچنے کے لیے بھی آپ کو قناعت، توکل اور یقین کی دولت درکار ہو گی۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

۲۸ رمضان المبارک ۱۴۴۳ بمطابق ۲۹ اپریل ۲۰۲۲