زراعت اور پھلوں کی زکوۃ یعنی عشر کے احکام
[زراعت اور پھلوں کی زکوۃ یعنی عشر کے احکام]
ﷲ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
{ وَهُوَ ٱلَّذِیۤ أَنشَأَ جَنَّـٰتࣲ مَّعۡرُوشَـٰتࣲ وَغَیۡرَ مَعۡرُوشَـٰتࣲ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّیۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَـٰبِهࣰا وَغَیۡرَ مُتَشَـٰبِهࣲۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦۤ إِذَاۤ أَثۡمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ یَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوۤا۟ۚ إِنَّهُ لَا یُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِینَ}.(الأنعام: 142)
( اور وہی ہے جس نے پیدا کیے ہیں باغات کچھ چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور کچھ بغیر اس کے، اور کھجور اور کھیتی، الگ الگ ہیں کھانے کی چیزیں ان کی، اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک جیسے اور (ذائقہ میں) مختلف۔ کھاؤ اس کے پھل سے جب وہ پھلدار ہو، اور ادا کرو اس کا حق جس دن وہ کٹے، اور فضول خرچی نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا فضول خرچی کرنے والوں کو)۔
اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَیِّبَـٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّاۤ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ }. ( البقرة: 267 )
(اے ایمان والو! خرچ کرو عمدہ چیزوں سے جو تم نے کمائی ہیں اور اس سے جو نکالا ہے ہم نے تمہارے لیے زمین سے)
رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : ” فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ “.
(صحيح البخاري: 1483)
( جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا عثری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کرتے ہوں، اُس میں عشر ہے اور جس زمین کے سیراب کرنے کے لیے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہوں، اُس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ )
انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ حضور (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ’’ہر اُس شے میں جسے زمین نے نکالا، عشر یا نصف عشر ہے۔‘‘(کنز العمال)
عشر اور نصف عشر کی تعریف:
زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اُس پیداوار کی زکاۃ فرض ہے اور اس زکاۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے، اگرچہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔
عشر واجب ہونے کے لیے کن چیزوں کا ہونا شرط نہیں:
عشر واجب ہونے کے لیے عاقل، بالغ ہونا شرط نہیں، مجنون اور نابالغ کی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی عشر واجب ہے۔
عشر میں سال گزرنا بھی شرط نہیں، بلکہ سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے۔
اس میں نصاب بھی شرط نہیں، ایک من بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے۔ اور یہ شرط بھی نہیں کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو۔ اور یہ شرط بھی نہیں کہ کاشتکار زمین کا مالک ہو۔
جس پر عشر واجب ہوا، اُس کا انتقال ہوگیا اور پیداوار موجود ہے تو اس میں سے عشر لیا جائے گا۔
جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اُن میں عشر نہیں۔ جیسے ایندھن، خود رو گھاس، جھاؤ، کھجور کے پتّے، ہر قسم کی ترکاریوں کے بیج کہ اُن کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہوتی ہیں، بیج مقصود نہیں ہوتے۔ اسی طرح جو بیج دوا ہیں مثلاً میتھی، کلونجی۔
کس میں عشر واجب اور کس میں نصف عشر؟
جو کھیت بارش کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے۔ اور جس کی آبپاشی ٹیوب ویل سے ہو، یا نہری پانی سے ہو جس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے۔ اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں بارش کے پانی سے سیراب ہوتا ہو اور کچھ دنوں ٹیوب ویل سے، تو اگر اکثر بارش کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ٹیوب ویل سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔
گندم، مکئ، جَو، جوار، باجرا، دھان اور ہر قسم کے غلّے، اخروٹ، بادام اور ہر قسم کے میوے، روئی، پھول، گنا، خربوزہ، تربوز، کھیرا، ککڑی، بینگن اور ہر قسم کی ترکاری سب میں عشر واجب ہے، تھوڑی پیداوار ہو یا زیادہ۔
جس چیز میں عشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کُل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیاجائے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ مصارف زراعت، اور کام کرنے والوں کی اُجرت یا بیج وغیرہ نکال کر باقی کا عشر یا نصف عشر دیا جائے۔
مکان یا مقبرہ میں جو پیداوار ہو اُس میں عشر نہیں۔
کھیتی تیار ہونے سے پہلے بیچ ڈالی تو عشر مشتری (خریدار) پر ہے، اگرچہ مشتری نے یہ شرط لگائی کہ پکنے تک زراعت کاٹی نہ جائے بلکہ کھیت میں رہے۔ اور بیچنے کے وقت کھیتی تیار تھی تو عشر بائع (بیچنے والے) پر ہے۔
عشری زمین عاریۃً (یعنی بطور قرض) دی تو عشر کاشتکار پر ہے مالک پر نہیں۔
زمین بٹائی پر دی تو عشر دونوں پر اپنے اپنے حصے کے مطابق واجب ہوگا۔
(کسی کو اپنی زمین اس طرح کاشت کے لیے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہوگی دونوں میں مثلاً نصف نصف یا ایک تہائی دو تہائیاں تقسیم ہوجائے گی۔ اس کو مزارعت کہتے ہیں، اسی کو ہمارے ہاں بٹائی پر کھیت دینا کہتے ہیں)۔
زمین جو زراعت کے لیے ٹھیکے پر دی جاتی ہے اس کا عشر کاشتکار پر لازم ہوگا۔
عشر کے مصارف:
عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے ہیں، یعنی جنہیں زکوۃ دے سکتے ہیں انہیں عشر بھی دے سکتے ہیں، اور جنہیں زکوۃ دینا جائز نہیں انہیں عشر بھی نہیں دے سکتے۔
(ملخص از بھارشریعت وغیرہ)
حافظ محمد سعد عامر