:: ادب کی کمی اور علم کی زیادتی ::
(جڑوں تک پھیلی ہوئی خرابی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کثیر لوگ ادب کو صرف تعظیم و احترام کے معنی میں لیتے ہیں جبکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

آسان الفاظ میں ادب کی تعریف اس طرح بنتی ہے:
الأدب: هو عبارة عن حُسن العبادات والأخلاق والعادات
عبادات و اخلاق و عادات کے حُسن کا نام “ادب” ہے۔
اسکو مزید یوں بھی سمجھ سکتے ہیں:
الأدب: هو حُسن الأمور
کاموں کا حُسن “ادب” کہلاتا ہے۔

یعنی امورِ زندگی سے متعلق تمام کاموں کو اسکے حُسن (اچھائی) کے ساتھ سرانجام دینا ادب کے مفہوم میں شامل ہے۔ حتی کہ جانور کو ذبح کرنے بلکہ کا/فر کو قتل کرنے کے بھی آداب ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے بچوں کو ادب سکھانے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ انکا کردار بچپن سے ہی سنور جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
أَكْرِمُوا أَوْلَادَكُمْ، وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ.
اپنی اولاد کی قدر کرو اور انہیں اچھا ادب سکھاؤ۔
(سنن إبن ماجة، جـ4، صـ636، رقم: 3671، مؤسسة الرسالة العالمية، بيروت)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
لأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ.
آدمی کا اپنے بچو ں کو ادب سکھانا ایک صاع (پیمانے کا نام) صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔
(سنن ترمذي، جـ3، صـ503، رقم: 1951، دارالغرب الإسلامي، بيروت)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ.
کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔
(سنن ترمذي، جـ3، صـ503، رقم: 1952، دارالغرب الإسلامي، بيروت)

حضرت سیدنا داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یہ جاننا ضروری ہے کہ دین اور دنیا کے سب کاموں کی زیب و زینت ادب ہے اور مخلوقات کے ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔
(کشف المحجوب، انیسواں باب: مشاہدہ، صـ530، مکتبہ شمس و قمر، لاہور)

علمائے دین نے ادب کے موضوع پر کئی کتب تالیف فرمائی ہیں۔
فقہائے کرام نے اپنی کتب میں ہزارہا ایسے مسائل بیان کیے ہیں جن کی بنیاد ادب پر ہے۔
صوفیائے کرام کے نزدیک راہِ سلوک کی پہلی منزل ادب ہے۔
معرفتِ الہی کی راہ اُن ہی لوگوں پر کشادہ کی جاتی ہے جو بارگاہِ الہی کے آداب کو ملحوظ رکھ پاتے ہیں۔

غرض ادب کی بہت اہمیت ہے۔

:: ادب سے عاری سوشل میڈیائی نسل ::

ہمارے دور میں سوشل میڈیائی نسل کے ہاتھوں جو فساد پھیلا ہوا ہے اسکی بنیادی وجہ ادب سے دوری ہے۔
اس نسل کو گوگل اور مکتبہ شاملہ کی صورت میں کتب کا خزانہ ہاتھ آگیا ہے جس کے ذریعے ان کا علم تو بڑھا ہے مگر چونکہ ادب کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا لہذا انکے کورے اور بے قابو علم نے انہیں فتنے میں ڈال دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ انکی زبانوں اور تحریروں نے شورش اور فساد کو جنم دیا ہے۔
یہ لوگ:
• الٹے سیدھے استدلال کرتے ہیں۔
• غلط نتیجے اخذ کرتے ہیں۔
• یک لخت کسی کو فاسق، گمراہ اور کسی کو قلندرِ زمان و مکان بنادیتے ہیں۔
• بدمذہبیت اور سنیت ان کے نوکِ قلم پر ہوتی ہے، اصل و فرع کی تمیز کیے بغیر جسے چاہیں بدمذہب اورجسے چاہیں سنی قرار دیتے ہیں۔
• اکابر علما کو آئے روز مشورے دیتے رہتے ہیں۔
• کوئی حادثہ ہوجائے تو جذباتی تبصرے اور لا حاصل بحثیں چھیڑ دیتے ہیں۔
• سنی عالم دین کو مخاطب کرنے کا ڈھنگ نہیں رکھتے۔
• مخالف مذہب والے سے گالی گلوچ اور بداخلاقی سے پُر گفتگو کرتے ہیں۔
• اپنے موقف پر غضب کی ہٹ دھرمی رکھتے ہیں اور کسی ناصح کی نصیحت قبول نہیں کرتے۔

یہ سب ادب نہ سیکھنے کے نتائج ہیں۔
یاد رہے ادب سیکھنے کے دو ذرائع ہیں:
(1) اچھی تربیت (2) اچھی صحبت
انکی بد اخلاقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ انہیں گھر سے اچھی تربیت مل سکی اور نہ ہی کسی تربیت یافتہ کی اچھی صحبت میسر آسکی۔

جو نتائج ہم دیکھ رہے ہیں، ہمارے بزرگانِ دین اس سے ڈرتے تھے اور علم سے پہلے ادب سیکھنے کو فوقیت دیتے تھے تاکہ علم قابو میں رہے۔

رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
تَأَدَّبُوا ثُمَّ تَعَلَّمُوا.
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
ادب سیکھو پھر علم سیکھو۔
(الآداب الشرعية، فصل في فضل الأدب والتأديب، جـ3، صـ522، مؤسسة الرسالة، بيروت)

قال: طلبتُ الأدبَ ثلاثينَ سنَةً، وطلبتُ العِلمَ عِشرينَ سنةً، وكانوا يطلبونَ الأدبَ ثم العِلم۔
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
میں نے تیس سال ادب سیکھا اور بیس سال علم سیکھا اور پہلے کے بزرگ پہلے ادب سیکھتے تھے پھر علم سیکھتے تھے۔
(غاية النهاية في طبقات القراء، باب العين،رقم: 1858، جـ1، صـ399، دارالكتب العلمية، بيروت)

شريح بن مسلمة قال: سَمِعْتُ عَبْدُ اللهِ بْنِ المُبَارَك وَقَالَ: كادَ الأدَبُ أنْ يكونَ ثُلَثي الدِّينِ
حضرت شریح بن مسلمۃ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا:
ادب دین کا تہائی حصہ ہے۔
(صفة الصفوة، ذكر المصطفين من اهل مرو، جـ2، صـ330، دارالحديث، قاهرة)

عَنِ ابْنِ مُبَارَك أَنَّهُ قَالَ: نَحْنُ إِلَى قَلِيلٍ مِنَ الْأَدَبِ أَحْوَجُ مِنَّا إِلَى كَثِيرٍ مِنَ الْعِلْمِ۔
حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے ایک مقام پر مروی ہے:
ہمیں بہت زیادہ علم کے مقابلے تھوڑا ادب سیکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
(الرسالة القشيرية، باب الأدب، صـ317، دارالكتب العلمية، بيروت)

سَمِعْتُ الأسْتَاذَ أبا عَلِي الدقَاق يَقُول: اَلْعَبْدُ يَصِلُ بِطَاعَتِهِ إِلَى الْجَنَّة وبأدَبهِ ِفِي طاعَتِه إِلَى اللَّه تَعَالَى
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے استاذ (شیخِ طریقت) ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا:
بندہ اپنی طاعت کے ذریعے جنت تک پہنچ جاتا ہے اور طاعت میں ادب کی بدولت اللہ تعالی تک پہنچ جاتا ہے۔
(الرسالة القشيرية، باب الأدب، صـ316، دارالكتب العلمية، بيروت)

قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ، إِيتِ الْفُقَهَاءَ وَالْعُلَمَاءَ، وَتَعَلَّمْ مِنْهُمْ، وَخُذْ مِنْ أَدَبِهِمْ وَأَخْلَاقِهِمْ وَهَدْيِهِمْ، فَإِنَّ ذَاكَ أَحَبُّ إِلَيَّ لَكَ مِنْ كَثِيرٍ مِنَ الْحَدِيثِ۔
حضرت حبیب بن شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:
اے بیٹے! فقہا اور علما کی خدمت میں حاضر ہو اور ان سے علم سیکھو، اور ان کے ادب، اخلاق و سیرت کو حاصل کرو، اسلئے کہ یہ میرے نزدیک بہت ساری حدیثوں کے جاننے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(الجامع الأخلاق الراوي و آداب السامع، باب قطع التحديث عند كبر السن، جـ1، صـ79، مكتبة المعارف، الرياض)

سَمِعَ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ كَلَامَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ وَحَرَكَتَهُمْ، فَقَالَ: يَا أَصْحَابَ الْحَدِيثِ مَا هَذِهِ الْحَرَكَةُ عَلَيْكُمْ بِالْوَقَارِ.
حضرت وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ نے بعض اصحابِ حدیث کی کچھ (نازیبا) باتیں اور حرکتیں سنیں تو فرمایا: اے اصحابِ حدیث! یہ کیا حرکت ہے، تم پروقار لازم ہے۔
(الآداب الشرعية، فصل اهل الحديث هم الطائفة الناجية، جـ1، صـ234، مؤسسة الرسالة، بيروت)

قال عبدُ الرَّحمنِ بنُ مَهديٍّ: كنَّا نأتي الرَّجُلَ ما نريدُ عِلمَه، ليس إلَّا أن نتعَلَّمَ من هديِه وسَمتِه ودَلِّه.
حضرت عبد الرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ہم علما کی خدمت میں حاضر ہوتے، جس سے ہمارا مقصد علم نہیں بلکہ ان کا طریقہ، پُر وقار انداز اور نیک روش سیکھنا ہوتا۔
(الآداب الشرعية، فصل في سمت العلماء الذين يوخذ الخ، جـ2، صـ145، مؤسسة الرسالة، بيروت)

وكان عليُّ بنُ المَدينيِّ وغيرُ واحدٍ يَحضُرون عِندَ يحيى بنِ سَعيدٍ القَطَّانِ ما يريدون أن يَسمَعوا شيئًا إلَّا أن ينظُروا إلى هَدْيِه وسَمتِه.
حضرت علی بن المدینی و دیگر علما حضرت یحیٰ بن سعید قطان رحمۃ اللہ علیہ کے پاس (بعض اوقات) صرف اس لیے حاضر ہوتے تھے کہ ان کا طریقہ اور پر وقار انداز دیکھیں۔
(المرجع السابق)

قيل لابنِ المبارَكِ: أين تريدُ؟ قال: إلى البَصرةِ، فقيل له: مَن بَقِيَ؟ فقال: ابنُ عونٍ، آخُذُ من أخلاقِه، آخُذُ من آدابِه.
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا، کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ فرمایا: بصرہ جانے کا ارادہ ہے۔ پوچھا گیا: وہاں کون باقی ہے (جس سے آپ نے علم نہ لیا ہو)، فرمایا: وہاں ابنِ عون رحمۃ اللہ علیہ ہیں، (ان کی خدمت میں حاضر ہوکر) اُن سے اُن کے اخلاق اور آداب سیکھوں گا۔
(المرجع السابق)

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بزرگان دین علم سے پہلے ادب سیکھا کرتے تھے اور ہمارے دور کی سوشل میڈیائی نسل نے اسے عملا بالکل ترک کردیا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ
“کورا علم جو ادب سے خالی ہو فتنہ ہے۔”
اور یہ حقیقت بھی واجب التسلیم ہے کہ یہ خطرناک خرابی ہمارے معاشرے میں جڑوں تک پھیلی ہوئی ہے، اس کا تدارک علمائے ربانیین پر تسلسل کے ساتھ لازم ہے۔

مدرسین اگر اپنے شاگردوں میں اور مشایخ اپنے قریبی مریدوں میں یہ خرابی ملاحظہ کریں تو انہیں فراغتِ علمی و خلافتِ روحانی سے پہلے ادب کی منزلیں طے کروائیں ورنہ یقین کرلیجیے آپ امت میں فتنے چھوڑ کر جائیں گے۔

اور جو ادب نہ سیکھ پائے وہ علم سکھائے جانے کا اہل نہیں جیسے خنزیر کہ وہ گلے میں جواہرات پہنائے جانے کا اہل نہیں اور نا اہلوں کو علم سکھانا علم کی توہین ہے۔

اللہ عزوجل ہمیں ظاہر و باطن کا ادب اور علم و اخلاص کا سچا نور عطا فرمائے۔ آمین

ابو محمد عارفین القادری
28 نومبر 2023 ء
عروس البلاد کراچی