أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا وَلَا يُنۡزِفُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

جس سے نہ ان کے سر میں درد ہو اور نہ ان کی عقل میں فتور ہو

الواقعہ : ٩١ میں فرمایا : جس سے نہ ان کے سر میں درد ہو اور نہ ان کی عقل میں فتور ہو۔

” صداع “ کا معنی ہے : سر میں درد ہونا اور ” نزف “ کا معنی ہے : عقل کا ماؤف ہوجانا۔

یعنی جنت کی شراب میں صرف لذت ہوگی ‘ اس کے پینے سے سر میں درد ہوگا ‘ نہ عقل میں کوئی کمی آئے گی نہ عقل خراب ہوگی نہ ان کو نشہ ہوگا۔

حجرت ابن عباس (رض) نے فرماے : خمر (انگور کی شراب) میں چار وصف ہوتے ہیں ‘ اس سے نشہ آتا ہے ‘ سر میں درد ہوتا ہے ‘ قے ہوتی ہے اور پیشاب آتا ہے اور جنت کی شراب ان تمام خرابیوں سے پاک ہوگی۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 19