أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

ان کے پاس ہمیشہ رہنے والے لڑکے گھوم رہے ہوں گی

” ولدان “ اور ” غلمان “ کے معانی اور مصادیق

الواقعہ : ٧١ میں ” ولدان مخلدون “ کے الفاظ ہیں ‘” ولدان “ ” ولید “ کی جمع ہے ‘ ان کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ مومنین کے کم عمر بچے ہیں ‘ لیکن یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سے پہلے الطور : ٢١ میں گزر چکا ہے کہ مومنوں کے کم سن بچوں کو ان ہی کے ساتھ جنت میں ملا دیا جائے گا اور بعض مومنوں کی اولاد نہیں ہوگی تو وہ دوسرے مومنوں کی کمسن اولاد کو ان کی خدمت پر کیسے مامور کیا جائے گا اور اس میں ان بچوں کے باپ کی بھی خفت ہوگی اور دوسراقول یہ ہے کہ وہ کفار کے کمسن بچے ہوں گے اور اس قول میں کوئی خرابی نہیں ہے اور ” مخلدون “ کا معنی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ رہیں گے یا ان پر موت اور فنا نہیں آئے گی ‘ یا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اسی کیفیت پر ہمیشہ برقرار رہیں گے اور ہمیشہ کم سن رہیں گے ‘ وہ بڑے ہوں گے نہ ان کو ڈاڑھی آئے گی۔ (تفسیر کبیرج ٠١ ص ٣٩٣)

ان کے متعلق قرآن مجید میں یہ آیت بھی ہے : ویطوف علیہم غلمان لھم کا نہم لو لو مکنون۔ ( الطور : 24) اور ان ( جنتیوں) کے گرد کم عمر لڑکے پھر رہے ہوں گے گویا کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہیں۔

اہل جنت کی خدمت کے لیے نو عمر خدام دئیے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لیے پھر رہے ہوں گے اور حسن و جمال اور صفائی اور رعنائی میں وہ ان موتیوں کی طرح ہوں گے جس کو ڈھک کر رکھا جاتا ہے ‘ مبادا کسی کو ہاتھ لگنے سے ان کی چمک دمک ماند پڑجائے۔

عکرمہ نے کہا ہے کہ ان لڑکوں کو اللہ تعالیٰ نے ولادت کے معروف طریقہ کے بغیر جنت میں ایک عمر پر پیدا کیا ہے ‘ یہ جنت میں گھومتے رہتے ہیں۔

حضرت علی بن ابی طالب اور حسن بصری نے کہا : یہ مسلمانوں کے وہ بچے ہیں جو کم عمر میں فوت ہوجاتے ہیں ان کی کوئی نیکی ہوگی نہ گناہ۔

سلیمان فارسی نے کہا : یہ مشرکین کے نابالغ بچے ہیں جو اہل جنت کے خادم ہوں گے۔

حسن بصری نے کہا : ان کی نہ کوئی نیکی ہوگی جس کی ان کو جزاء دی جائے اور نہ ان کوئی گناہ ہوگا جس کی ان کو سزا دی جائے ‘ ان کو اس جگہ رکھا جائے گا اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اہل جنت کو مکمل خوشی اور راحت پہنچائی جائے اور جب انسان کے آگے اور پیچھے خدام گھوم رہے ہوں تو اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ٧١ ص ٤٨١)

اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت میں اس طرح پیدا کیا ہے جس طرح بڑی آنکھوں والی حوروں کو جنت میں پیدا کیا ہے ‘ نہ وہ مریں گے ‘ نہ بوڑھے ہوں گے۔ (الدرالمثورج ٨ ص ٤١ )

اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت ہی میں پیدا کیا ہوتا کہ وہ اہل جنت کی خدمت کریں۔ (جتح القدیر ج ٥ ص ٩٩١)

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 17