کتاب الایمان :: ایمان کا بیان
نحمده و نصلی ونسلم على رسوله الكريم
٢- كتاب الإيمان
ایمان کا بیان
اس سے پہلے امام بخاری نے یہ باب ذکر کیا تھا: ’باب كيف كان بدء الوحي ‘‘ یعنی وحی کی ابتداء کیسے ہوئی یا وحی کا ظہور اور غلبہ کیسے ہوا یہ امام بخاری کی ’’ الجامع الصحیح‘‘ کے مقدمہ کے قائم مقام تھا اسی لیے امام بخاری نے کتاب سے ابتدا نہیں کی بلکہ باب سے ابتداء کی پھر اپنی” الجامع الصحیح ‘‘ میں مختلف کتب ذکر کیں مثلا کتاب الایمان کتاب العلم کتاب الطہارات کتاب الصلوۃ کتاب الزکوۃ کتاب الحج، کتاب الصوم اور کتاب البیوع وغیرہ کتاب الایمان کو باقی کتب پر مقدم کیا کیونکہ تمام احکام شرعیہ کے قبول ہونے کا مدار ایمان پر ہے اور ایمان تمام اعمال کی شرط ہے اور شرط مشروط پر مقدم ہوتی ہے اس کے بعد کتاب العلم‘‘ کو ذکر کیا کیونکہ احکام شرعیہ پرعمل کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے اور علم سے ہی احکام ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہیں اس کے بعد ” کتاب الصلوۃ‘‘ کو ذکر کیا کیونکہ ایمان لانے کے بعد جو عبادت سب سے پہلے فرض ہوتی ہے وہ نماز ہے قرآن مجید میں ہے:
الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلوة (البقرہ:۳)
جو لوگ غیب کی خبروں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں ۔
سوایمان کے بعد نماز کا مرتبہ ہے اور چونکہ نماز کی ادائیگی طہارت پر موقوف ہے اس لیے کتاب الایمان‘‘ کے بعد پہلے کتاب الطہارات کا ذکر کیا اور اس کے بعد کتاب الصلوۃ کا ذکر کیا اور قرآن مجید میں بہت جگہ نماز کے بعد زکوۃ کا حکم دیا ہے اس لیے کتاب الصلوۃ کے بعد کتاب الزکوۃ کا ذکر کیا اور نماز بدنی عبادت ہے اور زکوۃ مالی عبادت ہے اور حج بدنی عبادت اور مالی عبادت کا مجموعہ ہے اس لیے کتاب الزکوۃ کے بعد کتاب الحج کا ذکر کیا اور اس کے بعد روزہ کا ذکر کیا اور کتاب الصوم درج کی کیونکہ احادیث میں ان چار عبادتوں کے ساتھ روزہ کا ذکر ہے اور ان چار عبادتوں کو مقدم کیا کیونکہ یہ چار عبادات وجودی ہیں اور روزہ عدمی ہے اور وجودی کو عدمی پر شرف ہوتا ہے ۔ عبادات کے بعد معاملات شروع کیے اور کتاب البیوع اور کتاب الاجارہ وغیرہ کو ذکر کیا۔
پھر ہر کتاب کے تحت کئی اور کتب کو ذکر کیا جیسے کتاب الطہارات میں کتاب الوضوء کتاب الغسل، کتاب الحیض اور کتاب لتیمم کو ذکر کیا اور کتاب الصلوۃ میں کتاب مواقیت الصلوۃ، کتاب الاذان، کتاب الجمعة کتاب صلوۃ الخوف’ کتاب العیدین کتاب الوتر کتاب الاستقاء ، کتاب الکسوف کتاب سجود القرآن کتاب تقصیر الصلوۃ’ کتاب التہجد کتاب السہو اور کتاب الجنائز کو ذکر کیا۔اسی طرح باقی کتب بھی کئی کئی کتب پر مشتمل ہیں اور وہ ضمنی کتب دراصل ابواب کے حکم میں ہیں ۔
ایمان کا لغوی معنی
علامه سید محمد بن محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی ۱۲۰۵ھ لکھتے ہیں :
ایمان کا معنی تصدیق ہے، علامہ زمخشری نے ’’الاساس‘‘ میں اسی پر اعتماد کیا ہے اورلغویین وغیرہ تمام اہل علم اس پر متفق ہیں، اورعلامہ زمخشری نے’’ کشاف‘‘ میں کہا ہے: جس پر کوئی شخص ایمان لایا اس نے اس کو تکذیب سے مامون اور محفوظ کر دیا اور ایمان کا معنی ہے: اذعان یعنی ماننا اور قبول کرنا اور یہ اعتراف کے معنی کو متضمن ہے الازھری نے کہا ہے: ایمان کی اصل ہے امانت کے صدق میں داخل ہونا جس طرح اس نے زبان سے تصدیق کی ہے اسی طرح دل سے بھی تصدیق کی تو وہ مومن ہے اور جس نے دل سے تصدیق نہیں کی وہ اس امانت کو ادا کر نے والا نہیں ہے جو اللہ تعالی نے اس کے پاس رکھی تھی وہ منافق ہے زجاج نے کہا: ایمان کا معنی شریعت کو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے جو لے کر آۓ اس کو قبول کرنا ہے اس کا اعتقاد رکھنا ہے اور دل سے اس کی تصدیق کرنا ہے امام راغب اصفہانی نے کہا: کبھی ایمان کا اطلاق اس شریعت پر کیا جاتا ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آۓ اور کبھی حق کے ماننے اور قبول کرنے کو ایمان کہا جاتا ہے اور ایمان تین چیزوں کا مجموعہ ہے : تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالارکان اور ان میں سے ہر ایک کو بھی ایمان کہا جا تا ہے ۔ ( تاج العروس شرح القاموس ج 9 ص 125داراحیاء التراث العربي بيروت )
ایمان کا شرعی معنی
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ۷۹۱ ھ لکھتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس چیز میں تصدیق کرنا جس کے متعلق ہدایہ معلوم ہو کہ اس کو آپ لے کر آئے ہیں اور اس کا دین ہونا مشہورہو،یعنی بغیر غور وفکر اور دلیل کے اس کا علم ہو جیسے اللہ تعالی کا واحد ہونا پانچ نمازوں کا فرض ہونا اور شراب کا حرام ہونا جو چیز اجمالی ہو اس کا اجمالی ملاحظہ کافی ہے اور جو چیز تفصیلی ہو اس کا تفصیلی ملاحظہ ضروری ہے حتی کہ اگر اس سے نماز کی فرضیت کا سوال کیا جاۓ اور وہ اس کی تصدیق نہ کرے یا اس سے شراب کے حرام ہونے کا سوال کیا جاۓ اور وہ اس کی تصدیق نہ کرے تو وہ کافر ہو گا ایمان کی یہ تعریف مشہور ہے اور جمہور علماء اسلام کا یہی موقف ہے ۔ ( شرح المقاصد ج 5 ص ۱۷۷ منشورات الرضی ایران 149ھ)
ایمان کی تعریف میں فقہاء اسلام کے مشہور مذاہب
اہل قبلہ کے ایمان کی تعریف میں حسب ذیل مذاہب ہیں :
(1) اکثر محققین اور امام ابوحنیفہ کا مذ ہب یہ ہے کہ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے اور اقرار اسلامی احکام کے اجراء کے لیے شرط ہے اور نیک اعمال کا کرنا درجات میں بلندی کا سبب ہے ۔
(۲) خوارج کا مذہب ہے : تصدیق اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور نیک عمل کے ترک کرنے یا نافرمانی کرنے سے انسان ایمان سے نکل جاتا ہے اور کفر میں داخل ہو جا تا ہے ۔
(۳) معتزلہ کا مذہب ہے: تصدیق اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان ایمان سے نکل جا تا ہے کیونکہ جز کی نفی سے کل کی نفی ہو جاتی ہے لیکن وہ کافر نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تکذیب نہیں کی ۔
(۴) ائمہ ثلاثہ اور محدثین کا مذہب ہے: تصدیق اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان ایمان سے نکلتا ہے نہ کفر میں داخل ہوتا ہے بلکہ فاسق ہوجاتا ہے ۔
(۵) مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد انسان کے لیے نیک عمل کرنا ضروری نہیں اور نہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے اسے کسی عذاب کا خطرہ ہے ۔ (شرح المقاصد ج ۵ ص ۱۷۹۔ ۱۷۸ مہذبا مرحبا منشورات الرضی ۱۴۰۹ھ )
ہم نے یہاں پر ایمان میں صرف وہ مذاہب ذکر کیے ہیں جن پر “صحیح البخاری‘‘ کی احادیث کا سمجھنا موقوف ہے، ائمہ ثلاثہ اور محدثین جن آیات اور احادیث سے ایمان میں کمی اور زیادتی پر استدلال کرتے ہیں وہ ہم احناف کے نزدیک ایمان کامل پرمحمول ہیں اور ہمارے نزدیک ایمان کامل میں اعمال داخل ہیں اس لیے ایمان کامل میں کمی اور زیادتی ہو سکتی ہے ہمارے نزدیک نفس ایمان میں اعمال داخل نہیں ہیں وہ صرف تصدیق کا نام ہے اور اس کا ائمہ ثلاثہ اور محدثین بھی انکار نہیں کرتے ۔
شرح صحیح مسلم میں ایمان کے مذاہب کے عنوانات
ہم نے’’ شرح صحیح مسلم‘‘ میں ایمان کی بہت زیادہ تفصیل بیان کی ہے اس میں ایمان کے مباحث کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
(1)ایمان کے لغوی معنی کی تفصیل اور تحقیق (2) ایمان کے شرعی معنی کی تفصیل اور تحقیق (3) نفس ایمان اور ایمان کامل کا بیان (۴) مومن ہونے کے لیے فقط جاننا کافی نہیں ہے بلکہ ماننا ضروری ہے (۵) ایمان کی حقیقت میں فقط تصدیق کے معتبر ہونے پرقرآن مجید سے استشہاد (۲) ایمان کی حقیقت میں فقط اقرار کے غیر معتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد (7) ایمان کی حقیقت میں اعمال کےغیر معتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد (8) ایمان میں کمی اور زیادتی کے ثبوت پر احادیث سے استشہاد (9) ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل کے جوابات (۱۰) ایمان کی تعریف میں خوارج کے دلائل کے جوابات(11) ایمان کی تعریف میں مرجئہ کے دلائل کے جوابات (12) ایمان کی تعریف میں اہل قبلہ کے مذاہب کا خلاصہ (۱۳) آیا اسلام اور ایمان مغائر ہیں یا متحد ؟ (14) مومن اور مسلمان کی تعریف
( شرح صحیح مسلم ج۱ص 270۔246 فرید بک سٹال لا ہور الطبع ثانی عشر ۱۴۲۵ھ )
اس جگہ پر ایک بحث یہ بھی ہے کہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک یہ کہنا جائز ہے کہ میں ان شاءاللہ مومن ہوں اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ کہنا جائز نہیں ہے بلکہ یہ کہنا ضروری ہے کہ میں یقینا مومن ہوں کیونکہ جس چیز کے ہونے میں شک ہو اس کے متعلق ان شاء اللہ کہا جا تا ہے اگر وہ کہے گا: میں ان شاء اللہ مومن ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کو اپنے ایمان میں شک ہے اور شک کے ساتھ وہ مومن نہیں ہوسکتا۔ تاہم انسان کو اپنے خاتمہ کے متعلق کچھ علم نہیں ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا یا نہیں اس لیے وہ اپنے خاتمہ کے اعتبار سے کہہ سکتا ہے کہ میں ان شاء اللہ مومن ہوں یعنی ان شاء اللہ میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔
( اس مسئلہ کی مفصل تحقیق کے لیے دیکھئے: تبیان القرآن ج ۴ ص ۵۵۳ ـ ۵۵۱ الانفال : ۴-۱)