أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّاَصۡحٰبِ الۡيَمِيۡنِؕ  ۞

ترجمہ:

جو دائیں طرف والے لوگوں کے لئے ہیں ؏

(دائیں طرف والوں کا) بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور ایک بڑا گروہ بعد کے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور بائیں طرف والے کیسے برے ہیں بائیں طرف والے۔ وہ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش۔ بیشک وہ اس سے پہلے بہت نعمتوں میں تھے۔ اور وہ گناہ کبیرہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا کو بھی ؟۔ آپ کہیے : بیشک تمام اوّلین اور آخرین۔ ضرور مقرر دن کے وقت پر جمع کیے جائے گے۔ پھر بیشک تم اے گمراہو جھٹلانے والو !۔ تم ضرور تھوہر کے درخت سے کھانے والے ہو۔ پھر اسی سے پیٹوں کو بھرنے والے ہو۔ پھر اس پر کھولتے ہوئے پانی کو پینے والے ہو۔ پس تم سخت پیاسے اونٹ کی طرح پینے والے ہو گے۔ یہ قیامت کے دن ان کے لیے ضیافت ہے۔ ہم نے تم کو پیدا کیا ہے سو تم کیوں تصدیق نہیں کرتے۔ بھلا یہ بتاؤ کہ تم جو منی (رحم میں) ٹپکاتے ہو۔ کیا اس سے تم ( انسان کی) تخلیق کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں۔ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت ( کا وقت) مقدر فرمادیا ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ کہ ہم تمہارے بدلے میں تم جیسے اور پیدا کردیں اور تمہیں از سر نو اس طرح پیدا کردیں جس کو تم بالکل نہیں جانتے۔ اور بیشک تم پہلے پیدائش کو خوب جانتے ہو تو کیا سبق حاصل نہیں کرتے۔ بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو۔ اس کو (حقیقت میں) تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ بلکہ ہم تو محروم ہوگئے۔ بھلا بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس ( پانی کو) سخت کڑوا بنادیں تو پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟۔ بھلا بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کے لیے درختوں کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔ ہم نے اس کو نصیحت بنایا اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز۔ سو آپ اپنے رب کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (دائیں طرف والوں کا) بڑا گروہ پہلے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور ایک بڑا گروہ بعد کے لوگوں میں سے ہوگا۔ اور بائیں طرف والے کیسے برے ہیں بائیں طرف والے۔ وہ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش۔ بیشک وہ اس سے پہلے بہت نعمتوں میں تھے۔ اور وہ گناہ کبیرہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو ہم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا کو بھی ؟۔ آپ کہیے : بیشک تمام اوّلین اور آخرین۔ ضرور مقرر دن کے وقت پر جمع کیے جائے گے۔ پھر بیشک تم اے گمراہو جھٹلانے والو !۔ تم ضرور تھوہر کے درخت سے کھانے والے ہو۔ پھر اسی سے پیٹوں کو بھرنے والے ہو۔ پھر اس پر کھولتے ہوئے پانی کو پینے والے ہو۔ پس تم سخت پیاسے اونٹ کی طرح پینے والے ہو گے۔ یہ قیامت کے دن ان کے لیے ضیافت ہے۔ (الواقعہ : 56۔39)

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 38