کتاب الایمان باب 2 حدیث 8
8- حدثنا عبيدالله بن موسى قال أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلوة وإيتاء الزكوة ، والحج ، وصوم رمضان. [ طرف الحدیث: ۴۵۱۵]
امام بخاری نے کہا کہ ہمیں عبید اللہ بن موسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں حنظلہ بن ابوسفیان نے خبر دی از عکرمہ بن خالد از حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : (۱) اس کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں (۲) نماز قائم کرنا (۳) زکوۃ ادا کرنا ( ۴ ) حج کرنا ( ۵ ) اور رمضان کے روزے رکھنا ۔
( صحیح مسلم :۱۶، سنن ترمذی:2609 ابن منده: ۱۴۹ صحیح ابن خزیمہ : ۱۳۰۹ مسند ابویعلی: 5788 الشریعة لا جری :106 سنن بیہقی ج ۴ ص 81 مسند الحمیدی: ۷۰۳ معجم الکبیر: 13203 الکامل لابن عدی ج ۲ ص 660 حلیة اولیاء ج ۳ ص 62 مسند احمد ج ۲ ص ۱۱۹ طبع قدیم مسند احمد : 6015 – ج ۱۰ ص ۲۱۴ مؤسسة الرسالة بيروت )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبید اللہ بن موسی بن بازام العبسی الکوفی ،یہ ثقہ تابعی ہیں انہوں نے الاعمش اور بہت سے تابعین سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے امام بخاری امام احمد اور دیگر نے احادیث روایت کی ہیں یہ قرآن کے بہت بڑے عالم تھے یہ ۱۳ ۲ھ یا ۲۱۴ھ میں اسکندریہ میں فوت ہو گئے ۔ امام ابن قتیبہ نے’’ المعارف‘‘ میں کہا ہے کہ عبید اللہ احادیث کا سماع کرتے اور احادیث منکرہ روایت کرتے تھے اس وجہ سے اکثر لوگوں نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے علامہ نووی نے کہا ہے کہ صحیحین اور ائمہ حدیث کی دیگر کتب میں بہ کثرت ایسے بدعتوں کی روایات ہیں جو اپنی بدعت کی طرف دعوت نہیں دیتے تھے اور ہمیشہ سے متقدمین اور متاخرین ان کی روایات کو قبول کرتے رہے ہیں اور ان سے استدلال کرتے رہے ہیں اور ان کی روایات کو بغیر انکار کے سنتے اور سناتے رہے ہیں
(۲) حنظلہ بن ابی سفیان بن عبد الرحمان بن صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب بن حذافہ المکی القرشی ثقہ ہیں قابل حجت ہیں انہوں نے عطاء اور دیگر تابعین سے حدیث کا سماع کیا ہے اور ان سے ثوری اور دیگرا کابر نے حدیث کا سماع کیا ہے ۱۵۱ھ میں ان کی وفات ہو گئی تمام ائمہ ستہ نے ان کی احادیث کو روایت کیا ہے۔
( ۳) عکرمہ بن خالد بن العاص بن ہشام بن المغیر : بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم القرشي المخزومی المکی یہ بہت ثقہ میں انہوں نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر وغیرھما سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے عمرو بن دینار اور دیگر تابعین نے احادیث کو روایت کیا ہے عطاء کے بعد ان کی مکہ میں وفات ہوئی اور عطاء کی وفات ۱۱۴ھ یا ۱۱۵ھ میں ہوئی ان کے دادا العاصی ابوجہل کے بھائی تھے ان کو حضرت عمر نے غزوہ بدر میں قتل کر دیا تھا ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت عمر کے ماموں تھے صحابہ میں عکرمہ نام کے تین شخص ہیں : عکرمہ بن ابی جہل المخزومی، عکرمہ بن عامر العبدری اور عکرمہ بن عبید الخولانی صحیحین میں عکرمہ بن خالد نام کے صرف یہی راوی ہیں اور عکرمہ بن عبد الرحمن ہیں اور عکرمہ مولی ابن عباس میں
( ۴ ) چوتھے راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں ان کا تذکرہ ابھی گزر چکا ہے ۔( عمدۃ القاری ج1ص ۱۹۶)
اس حدیث کی باب کے ساتھ منا سبت یہ ہے کہ اس حدیث میں ارکان ایمان کا ذکر ہے ۔
آیا اسلام اور ایمان مترادف ہیں یا نہیں؟
امام بخاری نے اس حدیث کے عنوان میں ایمان کا ذکر کیا ہے اور اس عنوان کے بعد جو حدیث ذکر کی ہے اس میں اسلام کا ذکر ہے اس وجہ سے اکثر شارحین حدیث نے یہ کہا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک ایمان اور اسلام مترادف ہیں، لیکن تحقیق یہ ہے کہ ان دو لفظوں کو مترادف کہا جا تا ہے جن کا مفہوم واحد ہو جیسے لیث اور اسد مترادف ہیں کیونکہ دونوں کا معنی شیر ہے اور یہاں ایمان کا معنی تصدیق ہے اور اسلام کا معنی احکام شرعیہ کی اطاعت کرنا ہے لیکن ایمان اور اسلام متلازم ہیں اور دونوں کا مصداق واحد ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر متحقق نہیں ہیں ۔
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ۷۹۱ ھ اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوۓ لکھتے ہیں:
ایمان اور اسلام واحد ہیں کیونکہ اسلام خضوع اور انقیاد ( اطاعت ) ہے، یعنی احکام شرعیہ کو ماننا اور ان کی تصدیق کرنا اور یہی تصدیق کی حقیقت ہے اور اس کی تائیدان آیات سے ہوتی ہے:
فأخرجنا من كان فيها من المؤمنين فما وجدنا فيها غير بيت من المسلمين ( الذاریات :۔35۔36)
سو ہم نے ان سب کو نکال دیا جو اس بستی میں ایمان والے تھے پس ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا اور کوئی گھر نہ پایا ( الذاریات :۔35۔36)
پہلی آیت میں جن لوگوں کو اللہ تعالی نے ’’مؤمنین ‘‘فرمایا ہے ان ہی کو دوسری آیت میں ’’مسلمین ‘‘فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مؤمنین اور مسلمین واحد ہیں خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں صحیح نہیں ہے کہ کسی شخص کے متعلق یہ کہا جاۓ کہ وہ مومن ہے اور مسلم نہیں ہے، یا یہ کہا جائے کہ وہ مسلم ہے اور مومن نہیں ہے اور ہم نے جو یہ کہا ہے کہ یہ دونوں واحد ہیں اس سے ہماری یہی مراد ہے اور مشائخ کے ظاہر کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور ایمان متغائر نہیں ہیں یعنی وہ مفہوم میں تو متحد نہیں ہیں لیکن ان کا مصداق واحد ہے اور وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے، اسی طرح ’’ کفایہ‘ میں مذکور ہے کہ ایمان اللہ تعالی کے احکام اور اس کی خبروں کی تصدیق ہے اور اسلام اللہ تعالی کو خالق ماننا ہے اور اس کی اطاعت کرنا ہے اور یہ اطاعت اس وقت متحقق ہو گئی جب اللہ تعالی کے احکام کو قبول کر لیا جاۓ پس ایمان اسلام سے حکما الگ نہیں ہوتا لہذا یہ متغایر نہیں ہیں اور جس نے ان میں تغایر ثابت کیا اس سے کہا جاۓ گا کہ جوشخص ایمان لایا اور اسلام نہیں لایا یا اسلام لایا اور ایمان نہیں لا یا اس کا کیا حکم ہے؟ اگر اس نے دونوں کا الگ الگ حکم بیان کیا تو اس کا بطلان ظاہر ہو جاۓ گا۔
اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ قرآن مجید میں ہے:
قالت الأعراب امنا قل لم تؤمنوا ولكن قولواأسلمنا . ( الحجرات : ۱۴)
دیہاتیوں نے کہا: ہم ایمان لے آۓ آپ کہیے: تم ایمان نہیں لاۓ لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آۓ ۔( الحجرات : ۱۴)
یہ آیت اس مطلب میں صریح ہے کہ اسلام ایمان کے بغیر متحقق ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت میں ایمان کے بغیر اسلام معتبر نہیں ہوتا اور اس آیت میں اسلام سے مراد ظاہری اطاعت ہے جو باطنی اطاعت کے بغیر ہو جیسے کوئی شخص تصدیق بالقلب کے ۔ بغیر کلمہ شہادت پڑھ لے تو اس کا ایمان معتبر نہیں ہو گا ۔ (شرح عقائد نسفی ص ۹۵ – ۹۴ سکندرعلی بهادرعلی تاجران کتب کراچی )
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ علامہ تفتازانی کے نزدیک ایمان اور اسلام مترادف ہیں کیونکہ دونوں کا مفہوم واحد ہے جب کہ مشائخ کے نزدیک ان کے مفہوم تو متغائر ہیں لیکن دونوں کا مصداق واحد ہے اور ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے بغیر متحقق نہیں ہے
آیا ارکان اسلام میں سے کسی چیز کو ترک کرنا کفر ہے یانہیں؟
اس حدیث میں یہ بتایا ہے کہ توحید اور رسالت کی گواہی نماز قائم کر نے زکوۃ ادا کر نے روزے رکھنے اور حج کرنے پر اسلام کی بنیاد ہے اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کو ترک کر دے تو پھر وہ مسلمان رہے گا یا نہیں؟ اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے علامہ ابو الفرج عبد الرحمان بن شہاب ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں :
اسلام کی گرہ اور قواعد دین تین میں :’’ لا الله الا اللہ‘‘ اور ’محمد رسول اللہ‘‘ کی شہادت نماز قائم کرنا اور روزے رکھنا جس نے ان میں سے کسی ایک کو بھی ترک کیا تو وہ کافر ہے اور اس کا خون بہانا حلال ہے اور جس کے پاس مال بہت ہو اور وہ حج نہ کرے تو وہ کافر رہے گا، لیکن اس کا خون بہانا حلال نہیں ہو گا اور جو شخص بہت مال دار ہو اور زکوۃ ادا نہ کرے وہ کافر رہے گا اور اس کا خون بہانا حلال نہیں ہو گا ۔ (فتح الباری لابن رجب ج ۱ ص ۲۲ دار ابن الجوزی مکه مکرمه ۱۷ ۱۴ ھ )
حافظ ابن رجب حنبلی نے اس موقف پر درج ذیل احادیث سے استدلال کیا ہے:
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نماز ترک کرنے کے سوا اور کسی عمل کے ترک کرنے کو کفرنہیں قرار دیتے تھے ۔(سنن ترندی: 2622)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے درمیان اور شرک اور کفر کے درمیان نماز کو ترک کرنا ہے ۔ (صحیح مسلم : 82 سنن ترمذی: ۱۰۷۸ سنن نسائی : 464 )
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے پس جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا ۔ ( سنن ترمذی:2621، سنن ابن ماجه : ۱۰۷۹)
تارک نماز کے متعلق مذاہب
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس باب کی حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ان پانچ چیزوں میں سے کسی کو ترک کر دے وہ مسلمان نہیں رہے گا لیکن اس پر اجماع ہے کہ ان چیزوں میں سے کسی کو ترک کرنے سے بندہ کافر نہیں ہوگا اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک تارک نماز کو بہ طور حد قتل کیا جائے گا۔ بہ طور کفر نہیں قتل کیا جائے گا اگر چہ امام احمد اور بعض مالکیہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس کو بہ طور کفرقتل کیا جاۓ گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو یہ ارشاد ہے کہ جس نے نماز کوعمدا ترک کیا اس نے کفر کیا‘‘ ( المعجم الاوسط : ۳۳۷۲)۔سو یہ ڈانٹ ڈپٹ اور دھمکانے پر محمول ہے یا پھر اس میں یہ تاویل ہے کہ جس نے حلال اور جائز سمجھ کر نماز کو ترک کیا وہ کافر ہو گیا اور یا کفر سے مراد کفران نعمت ہے تاہم اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچوں نمازیں فرض عین ہیں امام ابوحنیفہ کے نزدیک تارک نماز کوقید میں رکھا جاۓ گا حتی کہ وہ ترک نماز سے تائب ہو اور نمازی بن جائے ۔ ( عمدة القاری ج ۱ ص ۲۰۰ دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
اس اعتراض کا جواب کہ ارکان اسلام میں جہاد کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟
ایک اعتراض یہ ہے کہ اسلام کے ارکان خمسہ میں جہاد کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے ارکان سے مراد وہ امور ہیں جو ہر حال میں فرض عین ہوں اور جہاد ہر حال میں فرض عین نہیں ہے جب اسلامی ملک پر دشمن حملہ کر دے تو اس کو بچانے کے لیے جہاد کرنا فرض عین ہے اور تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کرنا فرض کفایہ ہے ۔
یہ حدیث صحیح مسلم‘‘ میں بھی ہے اور ہم نے’’ شرح صحیح مسلم‘‘ میں اس حدیث کے تحت صرف اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے کہ حدیث کے الفاظ میں رد و بدل کرنا ممنوع ہے ۔( شرح صحیح مسلم: ۲۲ ۔ ج۱ ص364) اور اس حدیث کی شرح میں جن امور پر یہاں گفتگو کی ہے ان میں سے وہاں کسی چیز پر بحث نہیں کی ۔