کتاب الایمان باب 4 حدیث نمبر 10
۱۰- حدثنا آدم بن ابي إياس قال حدثنا شعبة عن بی عبد الله بن أبي السفر وإسماعيل، عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه۔
امام بخاری نے کہا کہ ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، از عبد اللہ بن ابو السفر، و اسماعیل از شعبی از حضرت عبد اللہ بن عمرو بن الله رضی اللہ تعالی عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( کامل ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور ( کامل ) مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کیے ہوۓ کاموں سے ہجرت کر لے ۔
قال أبو عبد الله وقال أبو معاوية حدثنا داؤد عن عامر قال سمعت عبد الله ، عن النبي صلى الله
عليه وسلم. وقال عبد الأعلى عن داؤد ، عن عامر عن عبد الله ، عن النبي صلى الله عليه وسلم
(طرف الحدیث: 6484 ]
امام ابوعبد اللہ بخاری نے کہا: اورابومعاویہ نے کہا: ہمیں داؤد نے حدیث بیان کی عامر سے انہوں نے کہا: میں نے عبد اللہ بن عمرو سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبد الاعلی نے کہا از داؤد از عامر از عبداللہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اس سے حدیث کی دوسندوں کا ذکر مقصود ہے )۔
( صحیح مسلم : ۴۰، سنن ابوداؤد:۲۴۸۱، سنن ترمذی: ٬۴۶۲۸ سنن نسائی :۰۱۱ ۵ السنن الکبری للنسائی : 11727 ادب المفرد : ۱۱۴۴ مسند الحمیدی: ۵۹۵ صحیح ابن حبان :196 المعجم الصغیر :460 تاریخ بغداد ج ۵ ص ۱۳۹ مسند احمد ج ۲ ص ۱۲۳ طبع قدیم مسند احمد : 6515 – ج۱ ص 66 مؤسسة الرسالة بیروت)
ان دونوں بابوں کی مناسبت ظاہر ہے کیونکہ پہلا باب ایمان کی شاخوں میں ہے اور اس باب میں ایمان کی دو شاخوں کا ذکر ہے: (۱) جس مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں (۲) مہاجر وہ ہے جوممنوعہ کاموں کو ترک کر دے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصاً حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کا تذکرہ
(۱) ابوالحسن آدم بن ابی ایاس ابوایاس کا نام عبد الرحمان ہے یہ خراسان کے رہنے والے تھے بغداد میں پلے بڑھے اور وہاں کے شیوخ سے احاد بیٹ لکھیں پھر کوفہ بصرہ حجاز اور مصر گئے اور عسقلان کو وطن بنا لیا اور وہیں ۲۲۰ھ میں وفات پائی ابوحاتم نے کہا: یہ بہت ثقہ امین اور عبادت گزار تھے اور اللہ تعالی کے نیک بندوں میں سے تھے وفات کے وقت ان کی عمر ۸۸ سال تھی ایک قول یہ ہے کہ نوے (۹۰) سے کچھ زیادہ سال تھی، کتب حدیث میں ان کے علاوہ اور کوئی آدم بن ابی ایاس نام کا راوی نہیں ہے’ صحیح مسلم سنن ترمذی اور سنن نسائی‘‘ میں آدم بن سلیمان الکوفی نام کا راوی ہے اور صحیح البخاری‘‘اور’’ سنن نسائی‘‘ میں آدم بن علی العجلی الکوفی نام کا راوی ہے رجال میں آدم بن عیینہ ہیں ان کی احادیث سے استدلال نہیں کیا جا تا۔
( ۲) شعبہ بن الحجاج بن الوردابو بسطام الازدی الواسطی ہیں یہ بصرہ کی طرف منتقل ہو گئے تھے ان کی امامت اور جلالت قدر پر اتفاق ہے سفیان ثوری نے کہا: شعبہ امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں امام احمد نے کہا: وہ اس فن میں یگانہ تھے 160ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے یہ ہکلا کر بولتے تھے صحاح ستہ میں شعبہ بن الحجاج نام کا اور کوئی راوی نہیں ہے’’ سنن نسائی‘‘ میں شعبہ بن دینار الکوفی نام کا ایک راوی ہے وہ بہت سچا ہے’’ سنن ابوداؤد ‘ میں شعبہ بن دینار نام کا ایک راوی ہے جو اپنے مولی ابن عباس سے روایت کرتا ہے وہ قوی نہیں ہے اور شعبہ بن عمر نام کا ایک راوی ہے جو حضرت انس سے روایت کرتا ہے وہ ضعیف ہے امام بخاری نے کہا: اس کی احادیث مناکیر ہیں۔
( ۳) عبد اللہ بن ابی السفر ہیں ابو السفر کا نام سعید بن یحمد سے یہ مروان بن محمد کی خلافت میں فوت ہو گئے تھے۔
( ۴ ) اسماعیل بن ابی خالد ھرمز کوفی ہیں انہوں نے متعدد صحابہ سے احادیث کا سماع کیا ہے ان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں اور تابعین کی ایک جماعت ہے اور ان سے ثوری اور کئی مشہور تابعین نے احادیث کا سماع کیا ہے یہ پختہ عالم صالح اور ثقہ تھے ان کو میزان کہا جا تا تھا یہ ۱۴۵ ھ میں کوفہ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۵) شعبی ( شین پر زبر ) یہ ابوعمرو عامر بن شراحیل الکوفی ہیں جلیل القدر تابعی اور ثقہ ہیں انہوں نے بہت سے صحابہ سے احادیث کا سماع کیا ہے ان میں حضرت ابن عمر، سعد اور سعید ہیں انہوں نے کہا: میں نے پانچ سو صحابہ کو پایا احمد بن عبد اللہ نے کہا: ان کی مرسل صحیح ہے ان سے قتادہ اور بہت سے تابعین نے احادیث کو روایت کیا ہے کوفہ میں قضاء کے منصب پر تھے حضرت عثمان کی خلافت کے چھٹے سال میں پیدا ہوۓ اور ۱۰۳ ھ یا ۱۰۴ھ یا ۱۰۵ ھ میں فوت ہوۓ اس وقت ان کی عمر ۸۰ سال سے اوپرتھی۔
(۲ ) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص بن وائل بن هشام بن سعید القرشی رضی اللہ تعالی عنہما ہیں زاہد اور عابد ہیں صحابی ابن صحابی ہیں یہ اپنے والد سے پہلے اسلام لائے تھے یہ علم میں بہت بڑے تھے اور بہت زیادہ عبادت کرتے تھے ان کے پاس حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ احادیث تھیں کیونکہ یہ احادیث لکھتے تھے اور حضرت ابو ہریرہ لکھتے نہیں تھے اس کے باوجود ان کی روایات حضرت ابوہریرہ سے بہت کم ہیں ان سے ۷۰۰ احادیث روایت کی گئی ہیں، جن میں سے سترہ احادیث میں امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں ۸ روایات کے ساتھ امام بخاری منفرد میں اور ۲۰ روایات کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں یہ ۲۵ ھ یا ۲۷ ھ میں مکہ طائف یا مصر میں فوت ہو گئے صحابہ میں ۱۸ شخص ہیں جن کا نام عبد اللہ بن عمرو ہے ۔ ( عمدة القاری ج۱ ص۲۱۶)
امام بخاری نے اس کے بعد دو معلق سندیں ذکر کی ہیں اور ان دونوں سے مراد یہ ہے کہ شعبی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے اس حدیث کا سماع کیا ہے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ یہ حدیث مزید دوسندوں سے مروی ہے اس سے یہ حدیث قوی ہوگئی ۔
یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور اس کی شرح میں ہم نے صرف یہ بیان کیا ہے کہ کئی اعمال کو افضل عمل فرمایا ہے ان میں تطبیق کس طرح ہو گی؟ دیکھئے: شرح صحیح مسلم : 76 ۔ ج۱ ص ۴۲۳ ۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بالکل واضح ہے۔
باب کی حدیث کی موید دیگر احادیث
ظاہر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا یہ وصف ان مسلمانوں کے لیے بیان فرمایا ہے جو اسلام کے تمام فرائض اور واجبات کو ادا کرتے تھے اور اسلام میں بندوں کے جو حقوق ہیں ان کا انہیں پتا نہیں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا اسی طرح یہ حدیث ہے:
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اسلام کی کیا تعریف ہے؟ فرمایا: تمہارا دل اللہ کے سامنے جھک جاۓ اور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ سے محفوظ رہیں ۔ ( مسند احمد ج ۴ ص 114 )
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے آۓ پھر کہا: میں آپ سے اللہ کے لیے سوال کرتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے ہمارے پاس کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ ! میں نے کہا: اور اسلام کی کیا علامت ہے؟ آپ نے فرمایا: تم یہ کہو : میں نے اپنا چہرہ اسلام کے لیے جھکا دیا اور میں خالی ہو گیا اور تم نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور ہر مسلمان ( کا مال عزت اور جان ) دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔ ( مسند احمد ج 5 س ۴ )
ترک معصیت پر ہجرت کے اطلاق کی توجیہ
نیز اس حدیث میں فرمایا: مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے ہجرت کرے ۔
ہجرت میں اصل یہ ہے کہ برائی کو چھوڑ دیا جاۓ اور اس سے انسان دور ہو جاۓ اور اچھائی کو انسان طلب کرے اور اس سے رغبت کرے اور جب کتاب اور سنت میں مطابق ہجرت کا ذکر کیا جاۓ تو اس سے مراد ہوتا ہے : دار شرک کو چھوڑ کو دارالاسلام کی طرف جانا اور اسلام کا علم حاصل کرنے اور اسلام کے احکام پرعمل کرنے میں رغبت کرنا اور جب ہجرت کا یہی معنی ہے تو پھر اصل ہجرت یہ ہے
کہ جن گناہوں سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے ان کو ترک کر دیا جاۓ ورنہ صرف دار شرک کو چھوڑ دینا اور گناہوں پر اصرار کرتے رہنا ہجرت تامہ اور کاملہ نہیں ہے ۔