کتاب الایمان باب 5 حدیث نمبر 11
۱۱- حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد القرشي قال حدثنا أبي قال حدثنا أبو بردة بن عبد الله بن آبي بردة ، عن أبي بردة ، عن أبي موسى رضى الله عنه قال قالوا يا رسول الله أی الإسلام أفضل؟ قال من سلم المسلمون من لسانه ويده .
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں سعید بن یحیی بن سعید القرشی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ میرے والد نے ہمیں حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں ابو بردہ بن عبد اللہ بن ابی بردہ نے حدیث بیان کی از برده از ابوموسی رضی اللہ عنہ وہ بیان کر تے ہیں کہ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اسلام کی کون سی خصلات سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔
( صحیح مسلم : 42، سنن ترمذی: ۲۵۰۴ سنن نسائی: ۱۵۰۱۴ مسند احمد ج ۴ ص ۳۸۵ طبع قدیم مسند احمد : ۱۹۴۳۵ – ج 32ص 177 مؤسسة الرسالة بيروت )ل)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصاً حضرت ابوموسی اشعری کا تذکرہ
(۱) سعید بن یحی بن ابان بن سعید بن العاصی بن امیہ بن عبد شمس الاموی امام ابن ماجہ کے علاوہ باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث کو روایت کیا ہے اور ان سے عبد اللہ بن احمد ابوزرعة ابو حاتم ابراہیم الحربی اور البغوی نے احادیث کو روایت کیا ہے یہ ۲۹۴ھ میں فوت ہو گئے تھے اور نسائی، یعقوب بن سفیان، سعید اور ان کے والد یحیی نے کہا: یہ دونوں ثقہ ہیں اور علی بن مدینی نے کہا کہ سعید بن یحیی نے کہا: وہ اپنے باپ کی بہ نسبت زیادہ ثابت ہیں صالح بن محمد نے کہا: وہ ثقہ ہیں مگر وہ غلطیاں کرتے تھے اور العاصی جنگ بدر میں قتل کر دیا گیا تھا ۔
(۲) سعید مذکور کے والد یحیی ہیں انہوں نے یحیی انصاری، ہشام بن عروہ اور دوسروں سے احادیث کا سماع کیا ہے ابن معین نے کہا: یہ اہل صدق میں سے ہیں اور ان سے روایت میں کوئی حرج نہیں ہے یعقوب بن سفیان نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ ۸۰ سال کی عمر گزار کر 174 ھ میں فوت ہو گئے تھے ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے کتب ستہ میں یحیی بن سعید نام کے چار راوی ہیں ایک یہ ہیں۔ دوسرے یجی بن سعید تمیمی ہیں۔ تیسرے یحیی بن سعید بن قیس الانصاری ہیں، چوتھے یحیی بن سعید بن فروخ القطان ہیں۔
(۳) ابو بردہ ان کا نام برید ہے ابن عبد اللہ بن ابی بردہ بن ابی موسی الکوفی ہے یہ اپنے باپ دادا الحسن اور عطاء سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ابن المبارک وغیرہ روایت کرتے ہیں ابن معین نے ان کو ثقہ قرار دیا ابوحاتم نے کہا: یہ پختہ نہیں ہیں ان کی حدیث لکھی جاتی ہے نسائی نے کہا: یہ قوی نہیں ہیں اور احمد بن عبد اللہ کوفی ثقہ ہیں اور کتب ستہ میں ان کے علاوہ اور کوئی برید نام کا راوی نہیں ہے۔’’ سنن اربعہ میں برید بن ابی مریم مالک کا ذکر ہے نسائی کی ’’ مسندعلی‘‘ میں برید بن اصرم مجہول ہے صحابہ میں برید نام کا کوئی شخص نہیں ہے۔
(۴) ابو بردہ یا ابوبردہ برید کے دادا ہیں ان کا نام عامر ہے ایک قول یہ ہے کہ حارث ہے انہوں نے اپنے والد سے حضرت علی بن ابی طالب سے حضرت ابن عمر سے حضرت ابن سلام سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہم اور دیگر سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے عمر بن عبد العزیز نے شعبی نے اور ان کے بیٹوں ابوبکر عبد اللہ ،سعید اور بلال اور ان کے پوتے برید بن عبد اللہ نے سماع کیا ہے ابونعیم نے کہا ہے کہ شریح کے بعد ابوبردہ کوفہ میں قاضی مقرر ہوۓ الواقدی نے کہا: یہ ۱۰۳ھ میں الکوفہ میں فوت ہو گئے ابن سعید نے کہا: یہ اور شعبی دونوں جمعہ کے دن فوت ہوۓ یہ ثقہ تھے اور کثیر احادیث کے حامل تھے صحابہ میں ابوبردہ نام کے سات شخص ہیں ان میں سے ابو بردہ بن نیار بھی ہیں اور راویوں میں صرف یہی ہیں۔
( ۵ ) ابوموسی عبد اللہ بن قیس بن سلیمان الاشعری رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، یہ بہت بڑے صحابی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زبید عون اور یمن کے ساحل پر امیر بنایا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو کوفہ اور بصر ہ پر عامل بنایا یہ اردن میں ابوعبیدہ کی وفات پر گئے اور حضرت معاویہ کے پاس دمشق میں گئے ان سے تین سو ساٹھ (۳۲۰) احادیث مروی ہیں ان میں سے پچاس پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور چار احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور پندرہ احادیث کے ساتھ امام مسلم منفرد ہیں ان سے حضرت انس بن مالک حضرت طارق بن شہاب اور کثیر تابعین نے احادیث کو روایت کیا ہے اور ان کے بیٹوں ابوبردہ ،ابوبکر ابراہیم اور موسی نے ان سے احادیث کو روایت کیا ہے یہ ۴۴ھ یا ۴۵ھ میں مکہ یا کوفہ میں فوت ہو گئے اس وقت ان کی عمر 63 سال تھی، یہ علماء صحابہ اورمفتیوں میں سے تھے صحابہ میں ابوموسی نام کے چار شخص ہیں ایک یہ ہیں دوسرے مالک بن عبادہ ہیں تیسرے ابن عبد اللہ ہیں اور چوتھے ابوموسی آلحکمی ہیں اور راویوں میں ابوموسی نام کی ایک جماعت ہے ۔’’ سنن ابوداؤد ‘‘ میں ان میں سے دو کا ذکر ہے اور ایک کا’’ سنن نسائی‘‘ میں ذکر ہے ۔
( عمدة القاری ج۱ ص ۲۲۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
یہ حدیث شرح صحیح مسلم ج۱ ص ۴۲۳ پر مذکور ہے اور اس کا نمبر 71 ہے اور چونکہ ۷۰ ۔ ۶۹ میں بھی یہی حدیث گزر چکی ہے
اس لیے اس کی شرح نہیں کی گئی اسی طرح صحیح بخاری: 10 میں بھی یہی حدیث گزرچکی ہے اس لیے یہاں پر بھی اس کی شرح نہیں کی جارہی ۔
*