9۔ حدثنا عبدالله بن محمد قال حدثنا ابو عامر العقدي قال حدثنا سليمان بن بلال عن عبد الله بن دينار، عن أبي صالح ، عن ابی هريرة رضي الله عنه عن النبی صلى الله عليه وسلم قال الإيمان بضع وستون شعبة والحياء شعبة من الإيمان ۔

امام بخاری نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں ابو عامر العقدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی از عبداللہ بن دینار از ابوصالح از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کر تے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ، بھی ایمان کی شاخ ہے۔

( صحیح مسلم : 35 سنن ابوداؤد :4676 سنن ترمذی: 2614 سنن نسائی :۰۲۱ ۵ – 5020 – ۵۰۱۹ سنن ابن ماجہ : ۵۷ )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

(۱) ابو جعفر عبد اللہ بن محمد بن عبد اللہ بن جعفر بن الیمان بن اخنس الجعفی البخاری المسندی انہوں نے وکیع اور دیگر سے سماع کیا سے اور ان سے الذھلی وغیرہ نے سماع کیا ہے یہ ۲۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے امام بخاری ان سے روایت میں اصحاب ستہ سے منفرد ہیں مگر امام ترمذی نے امام بخاری کے واسطے سے ان سے ایک حدیث روایت کی ہے ۔

( ۲ ) ابو عامر عبد الملک بن عمر بن قیس العقدی البصری انہوں نے امام مالک وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے امام احمد نے سماع کیا تمام حفاظ ان کی جلالت اور ثقاہت پر متفق ہیں یہ ۲۰۴ھ یا ۲۰۵ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۳) ابوایوب سلیمان بن بلال القرشی التیمی المدنی’ یہ آل صدیق کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے عبداللہ بن دینار اور تابعین کی ایک جماعت سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے عبد اللہ بن المبارک وغیرہ نے سماع کیا

ہے امام محمد بن سعد نے کہا ہے: یہ بربری تھے یہ بہت حسین اور بہت عقل مند تھے اور شہر کے مفتی تھے ۱۷۲ھ یا 177 ھ میں ان کی مدینہ میں وفات ہو گئی صحاح ستہ میں ان کے سوا اور کوئی راوی نہیں ہے جس کا نام سلیمان بن بلال ہو۔

( ۴ )ابوعبد الرحمان عبد اللہ بن دينار القرشی العدوى المدنی، یہ حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے حضرت ابن عمر اور دیگر سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے حضرت ابن عمر کے بیٹے عبد الرحمان وغیرہ نے سماع کیا ہے یہ بالا تفاق ثقہ ہیں ۱۲۷ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔

( ۵ ) ابو صالح ذکوان السمان المدنی یہ گھی اور زیتوں کا تیل کوفہ میں لے جا کر فروخت کرتے تھے جوہرہ بنت الاحمس کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے صحابہ کی جماعت اور بہت سے تابعین سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے بھی تابعین کی ایک جماعت نے سماع کیا ہے ان میں سے عطا بھی میں اعمش نے ان سے ایک ہزار احادیث کا سماع کیا ہے ان کی توثیق پر سب متفق ہیں 101ھ میں مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہوگئی ’’ باب بدء الوحی‘‘ کی چوتھی حدیث میں ان کا مفصل تعارف گزر چکا ہے ۔

(6) چھٹے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ان کے اور ان کے والد کے نام میں تقریبا تیس قول میں زیادہ قریب نام عبد اللہ یا عبدالرحمن بن صخر دوسی ہے یہ پہلے شخص ہیں جن کی کنیت بلی کے ساتھ ہے یہ بلی کے ساتھ کھیلتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابو ہریرہ رکھ دی’ یہ اہل صفہ میں سے تھے فتح خیبر کے سال اسلام لائے تھے زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد شمس تھا اور اسلام میں ان کا نام عبد الرحمان تھا ان کی ماں کا نام میمونہ تھا ایک قول ہے : ان کا نام امیہ تھا رسول اللہ ﷺ کی دعا سے وہ بھی مسلمان ہو گئی تھیں حضرت ابوہریرہ نے کہا: میں یتیمی میں پلا بڑھا اور مسکینی میں، میں نے ہجرت کی میں بسرہ بنت غزوان کا مزدور اور خادم تھا اللہ نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی پس اللہ کی حمد ہے جس نے دین کے ذریعہ روزی دی اور ابو ہریرہ کوامام بنایا اور کہا: میں بکریاں چراتا تھا میری ایک چھوٹی سی بلی تھی جس سے میں کھیلتا تھا۔ میری اس کے ساتھ کنیت رکھ دی گئی ایک قول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کی آستین میں بلی تھی آپ نے فرمایا: یا ابا هر ‘‘ (اے بلی والے ) اس پر اجماع ہے کہ یہ صحابہ میں سب سے زیادہ احادیث روایت کر نے والے ہیں انہوں نے ۵۳۷۴ احادیث روایت کی ہیں جن میں سے تین سو پچیس احادیث پر بخاری اور مسلم متفق ہیں اور ۹۳ احادیث کی روایت میں امام بخاری منفرد ہیں اور ۱۹۰ احادیث کی روایت میں امام مسلم منفرد میں حضرت ابوہریرہ سے جن لوگوں نے احادیث کی روایت کی ہے ان کی تعداد ۸۰۰ سے زیادہ ہے ان میں صحا بہ بھی ہیں اور تابعین بھی صحابہ میں سے حضرت ابن عباس حضرت جابر اور حضرت انس ہیں رضی اللہ عنہم ۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۷ ھ یا ۵۸ ھ یا ۵۹ ہجری میں مدینہ میں فوت ہو گئے ۷۸ سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا صحابہ میں ان کے سوا ابو ہریرہ کی کنیت والا اور کوئی نہیں ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ص۲۰۶)

ایمان کی شاخوں کے متعلق متعد دروایات اور ان کی توجیہ

اس حدیث میں فرمایا ہے: ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں، بعض دوسری احادیث میں ساٹھ کے بجائے دوسرا عدد ذ کر ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں ۔الحدیث( صحیح مسلم : ۳۵)

ابن عجلان نے عبداللہ بن دینار سے روایت کیا ہے ساٹھ یا ستر شاخیں ہیں ۔ ( سنن ابن ماجہ: ۵۷ )

امام ترمذی نے عمارہ بن غزیہ سے روایت کیا ہے کہ ایمان کے ۷۴ باب ہیں ۔ ( سنن ترمذی: ۲۶۱۴)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ائمہ حدیث کے نزدیک ہر اطاعت ایمان میں داخل ہے خواہ وہ اطاعت فرائض میں ہو یا نوافل میں پھر ایمان کی شاخوں کی تعدادستر سے زائد میں منحصر نہیں رہے گی بلکہ یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاۓ گی ۔

اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(۱) ابتداء میں ایمان کی شاخیں ساٹھ کے عدد میں منحصر تھیں پھر جیسے جیسے احکام نازل ہوتے رہے ان شاخوں کی تعداد بڑھتی رہی ۔

(۲) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان کی شاخوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہی ہو لیکن ہر شاخ کے تحت پھر شاخیں ہوں اس وجہ سے ان کی تعداد زیادہ ہوگئی ۔

(۳) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساٹھ یاستر کا عدد تکثیر کے لیے فرمایا ہو نہ کہ حصر کے لیے جیسے کہتے ہیں : میں نے تم سے سو مرتبہ یہ بات کہی ہے یعنی بہت دفعہ یہ بات کہی ہے ۔

حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

ان شاخوں کی تعیین میں ائمہ دین نے کتابیں تصنیف کی ہیں ان میں سے امام عبداللہ حلیمی ہیں انہوں نے’’ فوائد المنہاج‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اور حافظ ابوبکر بیہقی ہیں انہوں نے ’’ شعب الایمان‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے اس کی 7 جلدیں ہیں اور امام ابوحاتم ہیں، انہوں نے’وصف الایمان وشعبہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ (عمدۃ القاری ۱ ص ۲۱۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

حیاء کا لغوی ،شرعی اور عرفی معنی اور حیاء کو باقی شاخوں سے ممتاز کرنے کی توجیہ

اس حدیث کے آخر میں فرمایا: اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

کسی کام کے کرنے سے انسان کو یہ خوف ہو کہ اس کام پر اس کو ملامت کی جاۓ گی اور اس وجہ سے اس کام کو کرنے سے اس کے اندر انقباض اور گھٹن کی کیفیت پیدا ہو تو اس کیفیت کولغت میں حیاء کہتے ہیں اور اس کی شرعی تعریف یہ ہے : حیاء وہ وصف ہے جو انسان کو برے کام سے اجتناب پر ابھارے اور حق دار کے حق میں تقصیر کر نے سے روکے اسی وجہ سے دوسری حدیث میں ہے: حیا کل کی کل خیر ہے اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ حیا تو ایک جبلی اور فطری وصف ہے جو غیر اختیاری ہوتا ہے تو اس کو ایمان کی شاخ کیوں فرمایا جب کہ ایمان تو اختیاری فعل ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے حیاء نیکی کی محرک ہے اور گناہ سے مانع ہے اور اس کے لیے نیت اور کسب کی ضرورت ہوتی ہے اس اعتبار سے یہ اختیاری چیز ہے اور اس کو ایمان کی شاخ فرمایا ہے ایک اور اعتراض یہ ہے کہ بسا اوقات انسان حیاء کی وجہ سے حق بات نہیں کہہ سکتا یا حق کام نہیں کر سکتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حیاء کا عرفی معنی ہے شرعی معنی نہیں ہے ایک سوال یہ ہے کہ ایمان کی باقی شاخوں میں سے صرف حیاء کا نام لے کر کیوں ذکر فر مایا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حیاء ایمان کی باقی شاخوں کی داعی اور محرک ہے کیونکہ حیا ء کر نے والا دنیا اور آخرت کی رسوائی سے ڈرتا ہے اس لیے وہ تمام نیک کاموں کو کرتا ہے اور تمام برے کاموں سے بچتا ہے ۔ (فتح الباری ج۱ ص 529 – 528 دارالمعرفہ بیروت ۱۴۲۶ھ )

واضح رہے کہ ایمان کی متعدد شاخوں سے یہ لازم نہیں آتا کہ اعمال ایمان میں داخل ہوں کیونکہ یہ شاخیں ایمان کے ثمرات ہیں یہ حدیث شرح صحیح مسلم :66۔ ج۱ ص۴۱۹ – ۴۱۵ میں بھی ہے اس میں ہم نے اس کی زیادہ تفصیل کی ہے اور وہاں اس کے یہ عنوانات ہیں:

(۱)ایمان کی شاخوں کی تعداد میں مختلف روایات میں راجح روایت کا بیان (۲) ایمان کی شاخوں کی تفصیل اور تعیین (۳) اقرارباللسان کے لحاظ سے ایمان کی شاخیں (۴) حیاء کا لغوی اور اصطلاحی معنی (۵) حیاء کا شرعی معنی وہاں ان معانی کی زیادہ تفصیل کی ہے ۔