اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نُهُوۡا عَنِ النَّجۡوٰى ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَيَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُؕ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُۚ يَصۡلَوۡنَهَاۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نُهُوۡا عَنِ النَّجۡوٰى ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَيَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُؕ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُۚ يَصۡلَوۡنَهَاۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ۞
ترجمہ:
اے رسول مکرم ! ) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجن کو (بری) سرگوشی اور رسول کی نافرمانی کرنے کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کرتے ہیں جن الفاظ کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں بھیجا اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ‘ ان کے لئے دوزخ کافی ہے وہ اسی میں داخل ہوں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے
یہودیوں اور منافقوں کو مسلمانوں کے خلاف سرگوشیں سے منع فرمانا
المجادلہ : ٨ میں فرمایا : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو بری سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا تھا پھر وہ اسی کام کی طرف لوٹے۔ الایۃ
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت یہود اور منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ وہ آپس میں سرگوشی کرتے تھے اور مسلمانوں کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارے کرتے تھے ‘ پھر مسلمان کہتے کہ شاید ان کو یہ خبر پہنچ گئی ہے کہ مہاجرین اور انصار میں سے ہمارے بعض بھائی قتل ہوگئے ہیں یا ان پر کوئی مصیبت آئی ہے یا وہ شکست سے دوچار ہوگئے ہیں اور اس سے مسلمانوں کو رنج پہنچتا ‘ جب یہودیوں اور منافقوں نے کئی بار ایسا کیا تو مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی تو آپ نے یہودیوں اور منافقین کو سرگوشیوں سے منع فرمایا اور جب وہ باز نہیں آئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
(اسباب النزول ص ٤٣٠۔ رقم الحدیث : ٧٩٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)
حضرت ابو سعید خدری (رض) نے کہا : ایک رات ہم آپس میں باتیں کررہے تھے ‘ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور فرمایا : یہ تم کیسی سرگوشیاں کررہے ہو ؟ کیا تم کو سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔ ہم تو مسیح الدجال کا ذکر کررہے تھے ‘ اس کے خوف کی وجہ سے۔ آپ نے فرمایا : کیا میں تم کو اس چیز کی خبر نہ دوں ‘ جس کا خوف مسیح الدجال سے بھی زیادہ ہے ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں ! یارسول اللہ ! ‘ آپ نے فرمایا : وہ شرک خفی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی وجہ سے (نیک) کام کرے۔
(مسند احمد ج ٣ ص ٣٠‘ حافظ ابن کثیر نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٥٥‘ دارالفکر ‘ بیروت)
یہودیوں کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کی صورت میں بددعا دینا اور آپ کا جواب
اس کے بعد فرمایا : اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کرتے ہیں جن الفاظ کے ساتھ آپ کو اللہ نے سلام نہیں بھیجا اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے اس قول کی وجہ سے اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ الایۃ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کے پاس آئے اور کہنے لگے : السام علیکم (تم پر موت آئے) ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو جواب دیا اور فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے انہوں نے کیا کہا تھا ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ‘ یا نبی اللہ ! انہوں نے سلام کیا تھا ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ! انہوں نے ایسے ایسے کہا تھا ‘ مجھے بتائو ! میں نے کیا کہا تھا ؟ صحابہ نے بتایا : آپ نے کہا تھا : السام علیکم “ آپ نے فرمایا : ہاں ! پھر اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تم کو سلام کرے تو تم کہو : علیک ‘ یعنی تم پر وہی نازل ہو جو تم نے کہا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٠١‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤٠ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہود آئے اور کہا : السام علیک یا ابا القاسم ! آپ نے فرمایا : وعلیکم ‘ میں نے کہا : السام علیکم اور اللہ تمہارے ساتھ ایسا یسا کرے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہرو اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ بد زبانی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے دیکھا نہیں ‘ وہ کیا کہہ رہے تھے ! آپ نے فرمایا : کیا تم نہیں دیکھتیں کہ میں ان پر وہی جواب لوٹا دیتا ہوں جو وہ کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : وعلیکم ‘ اور تم پر بھی وہی نھازل ہو ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : ” بمالم یحیک بہ اللہ “ (المجادلہ : ٨) یعنی اللہ آپ پر سلام بھیجتا ہے اور یہ کہتے ہیں : السام علیک اور السام کا معنی موت ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٢٧‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٩٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٩٨)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم کہو : وعلیکم (یعنی تم پر بھی وہی چیز نازل ہو جس کے نزول کی تم نے ہمارے لئے دعا کی۔ خواہ تم نے ہماری موت کی دعا کی ہو یا ہمارے دین پر مصیبت کے نزول کی دعا کی ہو) ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٩٢٦۔ ٦٢٥٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٦٣‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٢٠٧‘ سنن ترمذی رقم الحدیث :؍ ٣٢٩٦‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٩٩‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٩١٦)
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور کہا : السام علیک یا ابا القاسم۔ پس آپ نے فرمایا : وعلیکم ‘ پھر حضرت عائشہ (رض) نے غضب ناک ہو کر کہا : کیا آپ نے نہیں سنا یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! پس میں نے ان کو وہی جواب دیا ہے جو جواب ہم ان کو دیتے ہیں اور وہ یہ جواب ہم کو نہیں دیتے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٦٦ )
اہل ذمہ کو سلام کا جواب دینے میں فقہاء کے مذاہب
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
اہل ذمہ کو جواب دینے میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ‘ شعبی اور قتادہ کا موقف یہ ہے کہ ان کے سلام کا جواب دینا واجب ہے کیونکہ آپ نے انہیں جواب دینے کا حکم دیا ہے اور اشہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ ان کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے ‘ اگر تم جواب دینا چاہو تو کہو : ” وعلیک “ اور ابن طائوس کا مختار یہ ہے کہ تم جواب میں کہو : ” علاک السلام “ یعنی سلامتی تم پر سے اٹھ گئی ہے اور ہمارے بعض اصحاب کا مختاریہ ہے کہ اسلام (سین کی زیر) کہو ‘ یعنی تم پر پتھر برسیں اور جو امام مالک کا قول ہے وہ اتباع سنت کی وجہ سے زیادہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ یہودیوں نے آ کر کہا : السام علیک یا ابا القاسم ! آپ نے فرمایا : و علیکم
حضرت عائشہ نے کہا : تم پر موت ہو اور مذمت ہو ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! بد زبانی کرنے والی نہ بنو ‘ حضرت عائشہ نے کہا : آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں نے ان کے قول کو ان پر لوٹا نہیں دیا ؟ میں نے کہا : وعلیکم۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٦٥ )
یہودیوں کی گستاخیوں کے باوجود ان پر فوراً عذاب نازل نہ کرنے کی وجہ
اس کے بعد فرمایا : اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ‘ ان کے لئے دوزخ کافی ہے ‘ وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔
یہودیوں نے کہا : اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی ہوتے تو اللہ ہمارے اس قول (السام علیکم) کی وجہ سے ہمیں ضرور عذاب دیتا اور اس میں ان کی جہالت ہے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور وہ جانتے تھے کہ کبھی آنبیاء (علیہم السلام) کو غضب میں لایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو غضب میں لانے والوں پر فوراً عذاب نازل نہ کرنا اس کی مشیت اور مصلحت میں نہ ہو تو وہ قیامت اور آخرت میں عذاب نازل فرماتا ہے ‘ جیسا کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے : ان کے لئے دوزخ کافی ہے اور وہ اسی میں داخل کئے جائیں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔
اور میرے نزدیک ان پر عذاب نازل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے :
ترجمہ : (الانفال : ٣٣)… اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل فرمائے۔
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 8