کتاب الایمان باب 10 حدیث نمبر 17
۱۰- باب علامة الإيمان حب الأنصار
ایمان کی علامت انصار کی محبت ہے
۱۷- حدثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة قال اأخبرني عبد الله بن عبد الله بن جبر قال سمعت انــا عـن النبي صلى الله عليه وسلم قال ايةً الإيمان حب الأنصار واية النفاق بعض الأنصار۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالولید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم کو شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن جبر نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ایمان کی علامت انصار کی محبت ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے ۔
(طرف الحدیث:3784)
( صحیح مسلم : ۷۴ سنن نسائی:۵۰۲۰ سنن ابوداؤد الطیالسی :۲۱۰۱ السنن الکبری للنسائی:۱ ۸۳۳ مسند ابویعلی : 4308 شعب الایمان : ۱۵۱۰ شرح السنية : 3966 مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۰ طبع قدیم، مسند احمد :12316- ج۱۹ ص۳۲۶)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) ابوالولید الطیالسی ہشام بن عبد الملک البصری ،انہوں نے امام مالک، شعبۂ، سفیان بن عیینہ اور دیگر سے سماع کیا ہے اور ان سے ابوزرعہ، ابو حاتم اور اسحاق بن راھویہ وغیرہ نے سماع کیا ہے ابوزرعہ نے کہا: ابوالولید اپنے زمانہ کے جلیل القدر امام تھے امام احمد نے کہا: وہ حدیث میں ثقہ تھے 136ھ میں پیدا ہوۓ اور 227ھ میں فوت ہو گئے۔
(۲) شعبہ بن الحجاج، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۳) عبداللہ بن عبد اللہ بن جبرالا صاری المدنی، انہوں نے حضرت عمر اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہما سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک،مسعر اور شعبہ نے سماع کیا ہے۔
( ۴ ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔ ( عمدة القاری ج۱ ص 244 ) –
باب کے عنوان کی مؤید دیگر احادیث
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص اللہ پر ایمان نہیں لایا جو مجھ پر ایمان نہیں لایا اور وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا جو انصار سے محبت نہیں رکھتا ۔
( سنن ترمذی: ۲۵ دارقطنی ج۱ ص ۷۳۔ ۷۲ المستدرک ج ۴ ص ۶۰ مسند احمد ج 4 ص70 – ج ۵ ص ۳۸۱)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انصار سے محبت رکھی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے انصار سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ (انجم الاوسط :۹۹۹)
حضرت ابوسعید بنی اللہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے ۔(المعجم الاوسط 999)
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے۔(مجمع الزوائد ج 10 ص 29)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کی محبت کو بھی ایمان کی علامت قرار دیا ہے :
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو طعن اور تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، جس نے ان سے محبت رکھی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی ہے اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ہے ۔ ( سنن ترمذی: ۶۸۶۲ مسند احمد ج ۴ ص ۸۷ – ج ۵ ص ۵۷ – ۵۴)
ہم نے شرح صحیح مسلم : ۱۴۸ ۔ ج۱ ص ۵۲۹ میں بھی اس حدیث کی شرح لکھی ہے وہاں یہ بتایا کہ انصار ہے اس وجہ سے بغض رکھنا کفر ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار اور مددگار ہیں اور کسی اور وجہ سے ان سے اختلاف رکھنا کفر اور نفاق نہیں ہے، جیسے خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر مہاجرین اور انصار کا آپس میں اختلاف ہوگیا تھا، اور یہاں اس باب کی مؤید جن احادیث کا ذکر کیا ہے وہاں ان کا ذکر نہیں ہے ۔