أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِى الۡاَ لۡبَابِ ۖۚ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ۛؕ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكُمۡ ذِكۡرًا ۞

ترجمہ:

ان کے لیے اللہ نے عذاب شدید تیار کر رکھا ہے، سو اے عقل مند ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ نے تمہاری طرف ( سراپا) نصیحت نازل کی ہے۔

الطلاق : ١٠ میں فرمایا : سوائے عقل مند ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔

اس آیت میں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انسان مومن اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ سے ڈر کر شرک کو ترک کر دے، تو پھر مومنوں کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دینے کی کیا توجیہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے کے کئی مراتب ہیں (١) اللہ سے ڈر کر شرک اور کفر کو شرک کرنا (٢) اللہ سے ڈر کر گناہ کبیرہ کو ترک کرنا (٣) اللہ سے ڈر کر گناہ صغیرہ کو ترک کرنا (٤) اللہ سے ڈر کر خلاف سنت اور خلاف اولیٰ کو ترک کرنا اور یہاں مراد یہ ہے کہ مومن اللہ سے ڈر کے جس مرتبہ میں بھی ہے اس سے اگلے مرتبہ کے حصول کی کوشش کرے۔

 

اس کے بعد فرمایا : اللہ نے تمہاری طرف ذکر ( سراپا نصیحت) نازل فرمایا ہے۔

اس آیت میں ذکر کی تفسیر میں کئی قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد شرف ہے، قرآن مجید میں ہے ،

وَ اِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِک (الزخرف : ٤) یہ ( قرآن) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے ( باعث) شرف ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد خود قرآن مجید ہے، قرآن کریم میں ہے :

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ (النحل : ٤٤) ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید نازل کیا ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت جبریل امین ہیں۔

اور صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کے اوپر ذکر کا اطلاق اس لیے فرمایا کہ آپ سراپا ذکر اور نصیحت ہیں اور مجسم نصیحت ہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کی واضح آیات فرماتے ہیں، جس میں حرام اور حلال کا ذکر ہے اور مومنوں کو اور تمام لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں اور نیک اعمال کی نصیحت کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 10