فرمان حضرت خلیفہ دوم عمربن خطابؓ
”قیصر و کسریٰ اور ان کے رعب و دبدبہ کے مقابل حضرت امیر معاویہؓ ہیں”
تحریر: اسد الطحاوی

حضرت عمر بن خطابؓ جنکے بارے نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ کہ اللہ نے حق عمرؓ کی زبان پر رکھا ہے ؂

انکے نزدیک حضرت امیر معاویہؓ کا کیا مقام تھا اس پر کچھ دلائل دیتے ہیں :؂
امام طبری علیہ رحمہ ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنی سند سے :
حدّثني عبد الله بن أحمد بن شَبّوَيه، قال: حدّثني أبي، قال: حدّثني سليمان، قال: حدّثني عبد الله بن المُبارك، عن ابن أبي ذئب، عن سعيد المَقْبريّ، قال: قال عمر بن الخطاب: تذكرون كسرى وقيصرَ ودهاءَهما وعندكم معاوية!
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم قیصر و کسریٰ اور ان کے رعب و دبدبہ کی بات کرتے ہو جبکہ تمہارے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں
[تاريخ الطبري،ج4، ص39،وسندہ صحیح]

اسی طرح حضرت عمر بن خطابؓ کا ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے جسکو امام ابن حجر عسقلانی روایت کرتے ہیں :
امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ امام ابن مبارک کی کتاب الزھد سے با سند نقل کرتے ہیں :
وقال ابن المبارك في كتاب «الزهد» : أخبرنا ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جندب، عن أسلم مولى عمر، قال: قدم علينا معاوية وهو أبض الناس وأجملهم، فخرج إلى الحج مع عمر بن الخطاب، وكان عمر ينظر إليه فيتعجب منه، ثم يضع إصبعه على جبينه ثم يرفعها عن مثل الشراك، فيقول: بخ بخ، إذا نحن خير الناس أن جمع لنا خير الدنيا والآخرة. فقال معاوية: يا أمير المؤمنين، سأحدثك، إنا بأرض الحمامات والريف. فقال عمر: سأحدثك، ما بك إلطافك نفسك بأطيب الطعام وتصبحك حتى تضرب الشمس متنيك، وذوو الحاجات وراء الباب. قال: حتى جئنا ذا طوى فأخرج معاوية حلة فلبسها، فوجد عمر منها ريحا كأنه ريح طيب، فقال: يعمد أحدكم فيخرج حاجا تفلا حتى إذا جاء أعظم بلدان الله جرمة أخرج ثوبيه كأنهما كانا في الطيب فلبسهما. فقال له معاوية: إنما لبستهما لأدخل على عشيرتي يا عمر، والله لقد بلغني أذاك ها هنا وبالشام، فالله يعلم أن لقد عرفت الحياء في عمر، فنزع معاوية الثوبين، ولبس ثوبيه اللذين أحرم فيهما. وهذا سند قوي.

امام ابن مبارک اپنی کتاب الزہد میں فرماتے ہیں مجھے ابن ابی ذئب نے مسلم بن جندب کے حوالے سے حضرت عمر ؓ کے غلام اسلم سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں :
حضرت امیر معاویہؓ ہمارے پاس آئے اور حضرت معاویہؓ انتہائی خوبصورت اور بھرے ہوئے ملائم جسامت والے تھے ۔ تو یہ حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے۔ حضرت عمرؓ جب بھی حضرت معاویہؓ کی طرف دیکھتے تو انکی خوبصورتی پر تعجب و حیرانگی کا اظہار فرماتے تھے ۔ پھر حضرت عمرؓ اپنی انگلی انکی پیشانی پر رکھتے جب اٹھاتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے گھاس کی خوبصورت لکیر بنی ہو ۔
پھر حضرت عمر خوش ہو کر فرماتے تھے ”واہ واہ!”
اس وقت ہم لوگوں میں سب سے بہتر ہیں کہ ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو جمع کر دیا گیا ہے
پھر حضرت معاویہؓ نے انکو فرمایا اے امیر المومنینؓ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم حماموں والی اور سر سبز و شاداب زمین میں رہتے ہیں ۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا میں آپکو بتاتا ہوں آپکی پسندیدہ چیزیں کیا ہیں صبح تک سونا اور پھر حاجت مند لوگوں کے پاس آنا ، تو راوی کہتا ہے ہم ایک کنویں کے پاس پہنچے تو حضرت معایہؓ نے ایک بہترین جوڑا نکالا اور پہن لیا تو حضرت عمرؓ نے بڑی عمدہ قسم کی خوشبو محسوس کی اور فرمایا جو بھی حج کا ارادہ رکھتا ہے وہ پراگند ہ حالت میں حج کرنے جائے ۔ لیکن جب مکہ مکرمہ اللہ کے محترم ترین شہر میں پہنچے تو (ایسے ہی ) انتہائی خوشبو دار کپڑے پہنے ۔
تو حضرت معاویہؓ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا میں نے بھی اسکو اپنے اہل خانہ کے پاس جانے کے لیے ہی پہنا ہے ۔ اور مجھے آپ کی طرف سے مشکل ہوئی ہے یہاں بھی اور شام میں بھی ۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ میں کتنی حیاء دیکھی ہے ۔ پھر حضرت معاویہؓ نے وہ لباس اتار دیا اور وہ کپڑے پہن لیے جس میں انہوں نے احرام باندھا تھا
(حافظ ابن حجر کہتے ہیں ) یہ سند قوی ہے
[الإصابة في تمييز الصحابة، ج۶، ص ۱۲۲]

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی