لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖؕ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰٮهُ اللّٰهُؕ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰٮهَاؕ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا – سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Wednesday، 3 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖؕ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰٮهُ اللّٰهُؕ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰٮهَاؕ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا ۞
ترجمہ:
صاحب حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جو تنگ دست ہو تو اس کو جو اللہ نے ( مال) دیا ہے اس میں سے خرچ کرے، اللہ کسی شخص کو اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو ( مال) دیا ہے اور عنقریب اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔
شوہر پر اس کی بیوی اور بچوں کے خرچ دینے کا وجوب
الطلاق : ٧ میں فرمایا : صاحب حیثیت کو چاہیے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، اور جو تنگ دست ہو تو اس کو جو اللہ نے ( مال) دیا ہے اس میں سے خرچ کرے، اللہ کسی شخص کو اتنا مکلف کرتا ہے جتنا اس کو ( مال) دیا ہے، اور عنقریب اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا کردے گا
اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ مطلقہ کا خرچ شوہر کی حیثیت کے مطابق اس پر واجب ہے، جو خوش حال ہو وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ دے اور جو تنگ دست ہو وہ اپنی گنجائش کے مطابق خرچ دے۔
اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تنگ دست ہے تو وہ یہ امید رکھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو خوش حال کر دے گا۔
شوہر پر بیوی کا خرچ واجب ہے، اس سلسلہ میں یہ آیت بھی ہے :
وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرہ : ٢٣٣) جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کی مائوں کا روٹی اور کپڑا ہے جو دستور اور رواج کے مطابق ہو۔
شوہر پر واجب ہے کہ وہ رواج اور دستور کے مطابق بیوی اور بچوں کا خرچ دے اور اگر شوہر پورا خرچ نہ دے تو بیوی کے لئے جائر ہے کہ وہ شوہر کے پیسوں میں سے اپنی ضرورت کے مطابق رقم نکال لے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : حضرت ہند بنت عتبہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حضرت ابو سفیان (رض) کنجوس آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو، سو اس کے کہ میں ان کی لا علمی میں ان کے پیسے نکال لوں، آپ نے فرمایا : تم دستور کے مطابق اتنے پیسے لے جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہیں۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٦٤، ٢٢١١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٥٣٢، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٤٣٤١، مسند احمد ج ٦ ص ٤٠، ٣٩)
حضرت عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو نضیر کے اموال اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور فے عطا فرمائے تھے، ان کے حصول کے لیے مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے، سو وہ اموال خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اموال میں سے اپنی ازواج مطہرات کو ایک سال کا خرچ دیا کرتے تھے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہتھیاروں اور سواریوں پر خرچ کرتے تھے۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٩٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٥٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٩٦٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٧١٩)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد خوش حالی رہے، تمہاری بیوی کہے گی : مجھے کھانا کھلائو ورنہ مجھے طلاق دو ، اور تمہارا خادم کہے گا : مجھے کھانا کھلائو ورنہ مجھے طلاق دو ، اور تمہارا خادم کہے گا : مجھے کھانا کھلائو ورنہ مجھے بیچ دو ، اور تمہاری اولاد کہے گی تم مجھے کس پر چھوڑ رہے ہو۔ (مسند رحمد رقم الحدیث : ٧٤٣٣، دارلفکر، بیروت، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٥٥ )
اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کرو، ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنے نفس پر خرچ کرو، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنی بیوی پر خرچ کرو، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینا رہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنی اولاد کرو، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نے فرمایا : اس کو اپنے خادم پر خرچ کرو، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے، آپ نے فرمایا : تم اس کے مصرف کو خود بہتر جانتے ہو۔
(سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٣٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٤٢٥، اس حدیث کی سن حسن ہے)
امام ابن حبان نے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ہے امام ابو دائود اور حاکم نے اولاد کو بیوی پر مقدم کیا ہے۔
( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٩١، المستدرک ج ١ ص ٤١٥ قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ١٥١٤ جدید، تلخیص الجبیر رقم الحدیث : ١٦٦٦ )
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ جب تم اس ترتیب پر غور کرو گے تو جان لو گے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے الاولیٰ فالاولیٰ پر الاقرب فالاقرب کو مقدم کیا ہے، اور آپ نے یہ حکم دیا ہے کہ انسان پہلے اپنے اوپر خرچ کرے پھر اپنی اولاد پر کیونکہ اولاد اسی کے جز کی طرح ہے اور جب وہ اس پر خرچ نہ کرے اور کوئی اور بھی ان پر خرچ کرنے میں اس کے قائم مقام نہ ہو تو وہ ہلاک ہوجائیں گے، پھر تیسرے درجہ میں بیوی کا ذکر فرمایا اور اس کو اولاد سے کم درجہ میں رکھا، کیونکہ اگر وہ اس کو خرچ نہیں دے گا تو اس کو فروخت کردیا جائے گا ( یہ غلام ہونے کی صورت میں ہے اور اگر وہ آزاد ہو تو کہیں اور نوکری کرلے گا) علامہ خطابی کا کلام ختم ہوا۔
ہمارے شیخ زین الدین نے کہا : ہمارے اصحاب کا یہی مختار ہے کہ نابغ اولاد کا خرچ بیوی کے خرچ پر مقدم ہے، علامہ نووی شافعی نے بیوی کے خرچ کو اولاد کے خرچ پر مقدم کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اولاد اس کا جز اور اس کا حصہ ہے اور بیوی اجتبیہ ہے۔ ( عمدۃ القاری ج ٨ ص ٤٣٥، ٤٢٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
بچوں اور بیوی کے بعد ماں باپ اور اجداد کا خرچ بھی واجب ہے بہ شرطی کہ وہ محتاج ہوں ” وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا) (لقمان : ١٥) اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے رہنا۔ ( ہدایہ اولین ص ٤٤٥ )
القرآن – سورۃ نمبر 65 الطلاق آیت نمبر 7