۱۳ – باب قول النبي صلى الله عليه وسلم (وأنا أعلمكم بااللہ )

نبی نام کا یہ ارشاد کہ مجھے تم سب سے زیادہ اللہ کا علم ہے

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اپنے دین کو بچانے کے لیے فتنہ سے بھاگنا چاہیے اور مسلمان اس وقت فتنہ سے بھاگے گا جب اس کا دین قوی ہو اور اس باب میں اللہ کی معرفت کا بیان ہے اور انسان کو جتنی زیادہ اللہ کی معرفت ہو گی اتنا ہی اس کا دین قوی ہوگا ۔

 

وان الـمـعـرفـة فـعـل القلب لقول الله تعالى( ولـكـن يـؤاخذكم بما كسبت قلوبكم﴾ (البقرہ 225)

اور یہ کہ معرفت دل کا فعل ہے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:” لیکن اللہ ( ان قسموں میں ) تمہارا مواخذہ فرماۓ گا، جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا‘ ‘( البقرہ:۲۲۵) ۔

امام بخاری نے فرمایا ہے کہ معرفت دل کا فعل ہے، یہاں معرفت سے مراد تصد یق ہے اور ماننا ہے اور وہ دل کا کسب اور اس کا فعل ہے۔

۲۰- حدثنا محمد بن سـلام البيكندي قال اأخبرنا عبدة عن هشام عن أبيه عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمرهم، أمرهم من الأعـمـال بـما يطيقون قالوا إنا لسنا كهيئتك يا رسول الله ! إن الله قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر ، فيغضب حتى يعرف الغضب في وجهه ، ثم يقول إن أتقاكم واعلمكم باللہ انا ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن سلام بیکندی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدہ نے خبر دی از ہشام از والد خوداز حضرت عائش رضی اللہ تعالی عنہا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعمال میں سے ہم کو کسی عمل کا حکم دیتے تو اس عمل کا دیتے، جس کی ہم کو طاقت ہو، صحابہ نے کہا: یارسول اللہ! ہم آپ کی شخصیت کی طرح نہیں ہیں بے شک اللہ نے آپ کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی کاموں کو معاف فرما دیا ہے ( یہ سن کر ) آپ غضب ناک ہوۓ حتی کہ آپ کے چہرے سے غضب کے آثار ظاہر ہوۓ پھر آپ نے فرمایا: بے شک تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا میں ہوں ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابوعبد اللہ محمد بن سلام بن الفرج اسلمی ،انہوں نے ابن عینیہ اور ابن المبارک اور دیگر اعلام سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے امام بخاری اور دیگر ائمہ نے سماع کیا ہے یہ ۲۲۵ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) ابومحمد عبدہ بن سلیمان بن حاجب الکوفی، امام احمد نے کہا: یہ ثقہ اور صالح میں العجلی نے یہ کہا: یہ صاحب قرآن ہیں، یہ کوفہ میں رجب ۱۸۸ھ میں فوت ہوۓ ۔

(۳) ہشام بن عروہ۔

(۴) ہشام کے والد عروہ بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ۔

( ۵ ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ان سب کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج1 ص 266)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم اور تقوی کے سب سے زیادہ ہونے کی توجیہ

نبی ﷺ اپنے اصحاب کو ان کاموں کا حکم دیتے تھے، جن کی ان کو طاقت ہو اور آپ کے اصحاب کو عبادت کرنے کی شدید حرص تھی، وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مشقت والی عبادات کر نے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کی مغفرت کا اعلان ہو چکا ہے اور چونکہ ان کی مغفرت کی ضمانت نہیں دی گئی اس لیے ان کو بہت زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ناراض ہوۓ اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالی سے سب سے زیادہ ڈرنے والے اور سب سے زیادہ اس کا علم رکھنے والے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والے ہیں، اس کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ آپ کو سب سے زیادہ اللہ تعالی کے اسماء اس کی صفات اس کے افعال اور اس کے احکام کی تفصیل کا علم ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ کو جو اللہ تعالی کا علم ہے وہ عین الیقین ہے کیونکہ آپ نے اللہ کو دیکھا ہے، بصر کی آنکھ سے یا بصیرت کی آنکھ سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے کہا: آپ نے اپنے دل سے اللہ تعالی کو دومرتبہ دیکھا ہے اور صحابہ کو جوعلم تھا وہ علم الیقین تھا اور عین الیقین علم الیقین سے قوی ہوتا ہے ۔

باب کی حدیث کی موید دیگر احادیث

مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسا کام کیا جس میں رخصت تھی تو کچھ لوگوں نے اس کام سے براءت کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد کے بعد فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اس کام سے بے زار ہوتے ہیں، جس کو میں کرتا ہوں پس اللہ کی قسم ! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔ ( صحیح البخاری :۰۱ ۷۳ السنن الکبری للنسائی : ۱۰۰۶۳)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں صبح کو حالت جنابت میں اٹھتا ہوں اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی صبح کو حالت جنابت میں اٹھتا ہوں اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، پھر میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! بے شک آپ ہماری مثل نہیں ہیں، آپ کے تو تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی کام معاف کر دیئے گئے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوگئے اور آپ نے فرمایا: بے شک مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ ان چیزوں کا علم رکھنے والا ہوں جن سے بچنا چاہیے ۔( صحیح مسلم : ۱۱۱۰ )

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حجروں میں گئے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی عبادت کے متعلق سوال کیا جب انہیں آپ کی عبادت کے متعلق خبر دی گئی تو انہوں نے اس کو کم گمان کیا اور انہوں نے کہا: کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم، اللہ تعالی نے تو آپ کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی کاموں کو معاف فرما دیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے کہا: بہر حال میں تو ہمیشہ تمام رات نماز پڑھتا رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں تو ہمیشہ روزے رکھتا رہوں گا اور ترک نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا: تم لوگوں نے فلاں فلاں بات کہی ہے سنو! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور روزے ترک بھی کرتا ہوں اور میں ( رات کو ) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں سو جو شخص میری سنت کو ( کم سمجھ کر ) اعراض کرے گا وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے ۔( صحیح البخاری: 5063 صحیح مسلم :۰۱ ۱۴ سنن نسائی :۳۲۱۶)