15 – باب تفاضل أهل الإيمان في الأعمال

اعمال کے سبب سے اہل ایمان کی ایک دوسرے پر فضیلت

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں ایمان کی تین خصلتیں بیان کی گئی تھیں اور اس باب میں مومنین کی ایک دوسرے پر فضیلت کا بیان ہے اور ظاہر ہے کہ ان تین خصلتوں کے حصول میں مومنین ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور جس میں خصلتیں زیادہ ہوں گئی اس کا ایمان دوسرے سے افضل ہوگا ۔

۲۲- حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن أبيه عن ابی سعید الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله علیہ وسلم قال يدخل أهل الجنة الجنة، وأهل النار النار ثم يقول الله تعالى أخرجوا من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان فيخرجون منها قد اسودوا فيلقون في نهر الحياء أو الحياة . شك مالك، فينبتون كما تنبت الجنة في جانب السيل الم ترانها تخرج صفراء ملتوية؟

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے از عمرو بن یحیی المازنی از والد خود از حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے پھر اللہ تعالی فرماۓ گا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، جو جل کر سیاہ ہوچکے ہوں گے، پھر ان کو حیاء یا حیات کے دریا میں ڈال دیا جاۓ گا ( اس لفظ میں امام مالک کو شک ہے ) پھر وہ اس طرح تروتازہ ہو جائیں گے، جس طرح سیلاب کے کنارے مٹی میں بیج اگتا ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ پیچ در پیچ زرد رنگ میں مڑا ہوا نکلتا ہے؟

قال وهيب حدثنا عمرو الحياة وقال خردل من خير . [طرف الدیث: 6560

وہیب نے کہا: عمرو کی حدیث میں حیات کا لفظ ہے اورکہا رائی کے دانے کے برابر خیر ہو ۔

( صحیح مسلم : ۱۸۴ مسند ابویعلی : 1219 مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۱۸۵ سنن بیہقی ج ۱۰ ص۱۹۱ شعب الایمان:۳۱۶ السنه لابن ابی عاصم : ۸۴۲ الشریعہ للاجری ص 344 شرح السنه : ۴۳۵۷ مسند احمد ج ۳ ص ۵۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۱۵۳۳۔ ج۱۸ص ۹۲-۹۱)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور ایک شدید ضعیف راوی سے روایت کرنے کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ امام بخاری پر تنقید

(۱) اسماعیل بن عبد الله الاصحبی ،یہ امام مالک کے بھانجے تھے، انہوں نے اپنے ماموں، اپنے والد اور اپنے بھائی سے سماع کیا ہے نیز انہوں نے عبدالمجید، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن بلال اور دوسروں سے سماع کیا ہے اور ان سے امام دارمی، امام بخاری امام مسلم وغیرہم نے سماع کیا ہے ۔ ابوحاتم نے کہا: یہ سچا اور غافل ہے یحیی بن معین نے کہا: یہ اور ان کے والد دونوں ضعیف ہیں اور انہوں نے کہا: یہ دونوں حدیث کا سرقہ کر تے تھے اور انہوں نے کہا: اسماعیل بہت سچا ہے مگر ضعیف العقل ہے نیز یحیی بن معین نے کہا: یہ حدیث کو ادا کرنے کے طریقہ سے واقف نہیں۔ یہ دوسروں کی کتاب پڑھتا ہے، یہ خلط ملط کرتا ہے ،جھوٹ بولتا ہے اور کچھ بھی نہیں یہ دو پیسوں کے برابر ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا: اس کی روایت میں حرج نہیں، امام احمد بن حنبل نے بھی اسی طرح کہا ہے امام نسائی نے اس پر بہت جرح کی ہے، جس کا تقاضا ہے کہ اس کو ترک کر دیا جاۓ، اور ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ضعیف ہے الدارقطنی نے کہا: میں اس کو صحیح حدیث میں اختیار نہیں کرتا، ابن عدی نے کہا: انہوں نے اپنے ماموں سے ایسی غریب احادیث روایت کی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں ہے حاکم نے کہا: امام بخاری اور امام مسلم پر یہ عیب لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اس کی حدیث روایت کی ہے اور اس سے استدلال کیا ہے یہ رجب 226 ھ یا 227 ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) امام مالک بن انس ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( ۳) عمرو بن یحیی بن عمارہ الانصاری المازنی المدنی ، یہ اپنے والد اور دوسرے تابعین سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یحیی بن سعید انصاری اور دیگر تابعین روایت کرتے ہیں ابو حاتم اور امام نسائی نے ان کی توثیق کی ہے یہ ۱۴۰ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

( ۴ ) ابو یحیی بن عثمان الانصاری المازنی المدنی، انہوں نے حضرت ابوسعید اور حضرت عبداللہ بن زید سے سماع کیا ہے اور ان سے ان کے بیٹے اور زہری وغیرہ نے سماع کیا ہے۔

( ۵ ) حضرت ابوسعید سعد بن مالک الخدری رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔(عمدۃ القاری ج۱ ص ۲۷۲۔۲۷۱)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام بخاری کا دفاع کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اس حدیث کو عبد اللہ بن وہب اور معن بن عیسی نے بھی امام مالک سے روایت کیا ہے لیکن یہ حدیث موطا امام مالک میں نہیں ہے الدارقطنی نے کہا: یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔( فتح الباری ج۱ ص ۵ ۵۴ دار المعرفه بیروت 1426ھ )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ جس میں تھوڑا سا بھی ایمان ہوگا وہ دوزخ کی آگ سے نکل آۓ گا اور اس میں لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔

مشکل الفاظ کے معانی

اس حدیث میں’’ مثقال حبة‘‘ کا لفظ ہے’’ مثقال ‘‘ کا معنی ہے : میزان مینی دانہ کے وزن کے برابر اور خر دل ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے :رائی جو سرسوں کی مثل ہے اس سے مراد ہے: بہت کم مقدار کی چیز یعنی جس کے دل میں بہت کم ایمان ہو گا وہ بھی جنت میں داخل ہو گا اور اس حدیث میں’’ الحبة‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : سرسبز گھاس کا بیج یا صحرائی بیچ یہ دریا کے کنارے از خود اگتا ہے اور’’ حبة‘‘ کا معنی ہے : گندم یا جو کا دانہ اور اس میں’’ نهر الحياة ‘‘ کے الفاظ میں اس کا معنی ہے: آب حیات کا دریا اور ’’نهر الحیاء‘‘ کے الفاظ ہیں’’ الحیاء‘‘ کا معنی ہے: بارش جس سے حیات کا حصول ہوتا ہے اور صفراء‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: زرد یا پیلا اور’’ ملتویۃ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے :مڑا ہوا پیچ در پیچ ۔ ( عمدة القاری ج۱ ص ۷۳ ۲۔ ۲۷۲)

حدیث مذکور کی مؤید دیگر احادیث

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہر حال اہل دوزخ وہ ہیں جو دوزخ کے اہل ہیں، وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن جن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے ان کو آ گ جلاۓ گی, پس اللہ ان پر موت طاری کر دے گا, جب وہ کوئلہ ہوجائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جاۓ گی، حتی کہ ان کو گروہ در گروہ لایا جاۓ گا، پھر کہا جاۓ گا : اے جنت والو! ان پر پانی ڈالو پھر وہ اس طرح اگنے لگیں گے، جس طرح سبزہ کا بیج سیلاب کی مٹی اور کوڑے میں اگتا ہے، پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: لگتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گاؤں میں رہے ہوں ۔ ( صحیح مسلم : ۱۸۵، سنن ابن ماجہ :۰۹ ۴۳ )

اس حدیث میں جو ان پر موت طاری کر نے کا فرمایا ہے، ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ مراد ہو کہ ان کے حواس ماؤف کر دیے جائیں گئے، حتی کہ انہیں جل کر کوئلہ ہونے کا شعور نہیں ہوگا جیسے کسی انسان کو بے ہوش کر کے اس کی سرجری کی جاتی ہے تو اس کو درد کا ادراک نہیں ہوتا علامہ نووی نے بھی اس حدیث کا ایک یہی محمل بیان کیا ہے ۔

( صحیح مسلم بشرح النووی ج 1 ص ۱۰۲۶ مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اہل جنت کا سب سے کم حصہ وہ لوگ ہوں گے جن کو اللہ دوزخ سے نکال لے گا رب عز وجل ان سے اس لیے خوش ہو گا کہ انہوں نے اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ہو گا ان کو ایک میدان میں رکھا جائے گا وہ اس میں اس طرح اگیں گے، جس طرح سبزہ اگتا ہے، حتی کہ جب ان کی روحیں ان کے جسموں میں داخل ہوں گی تو وہ کہیں گے :اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دوزخ کی آگ سے نکال لیا اور ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں داخل کر دیا اب ہمارے چہروں کو بھی آگ سے پھیر دے پھر ان کے چہروں کو بھی آگ سے پھیر دیا جاۓ گا۔ ( مسند البزار( کشف الاستار ): ۳۵۵۴)

حدیث مذکور کے مسائل

(۱) ،اس حدیث میں مرجئہ کے خلاف اہل سنت کی دلیل ہے کیونکہ مرجئہ کہتے ہیں کہ مومن صاحب کبیرہ کو عذاب نہیں ہو گا اور اس

حدیث میں تصریح ہے کہ اس کو عذاب دیا جاۓ گا، حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہوجاۓ گا۔

(۲) اس حدیث میں خوارج اور معتزلہ کے خلاف اہل سنت کی دلیل ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ مومن صاحب کبیرہ کو دائمی عذاب ہوگا

اور اس حدیث میں تصریح ہے کہ اس کو دوزخ سے نکال لیا جاۓ گا ۔

(۳) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اعمال کامل ایمان میں داخل ہیں نہ کہ نفس ایمان میں اور جس نے جتنا زیادہ عمل کیا ہو گا اس کی کم

عمل کرنے والے پر اتنی ہی فضیلت ہوگی ۔

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 365۔ ج۱ ص796 – 795 میں بھی مذکور ہے، لیکن وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔