کتاب الایمان باب 16 حدیث 24
١٦ – باب الحياء من الإيمان
حیاء امور ایمان سے ہے
٢٤- حدثنا عبدالله بن يوسف قال أخبرنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبداللہ، عن ابـيـه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر علی رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم دعه، فإن الحياء من الإيمان . [ طرف الحديث : 6118 ]
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں کہا: ہمیں امام مالک بن انس نے از ابن شہاب از سالم بن عبدالله از والد خود یہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو چھوڑو کیونکہ حیاء ایمان سے ہے ۔
( صحیح مسلم :36 سنن ابوداؤد : ۴۷۹۵ سنن نسائی : ٬۵۰۴۸ سنن ترمذی: 2615 سنن ابن ماجه: ۵۸ مسند الحمیدی: 625 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۵۲۲ مسند ابویعلی : ۵۴۲۴ الادب المفرد : 602 شرح السنه : 3594 مسند احمد ج ۲ ص ۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۵۵۴ – ج ۸ ص۱۵۶)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبد اللہ بن یوسف۔
(۲) امام مالک بن انس۔
( ۳) محمد بن مسلم بن شہاب زہری ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۴) سالم بن عبداللہ بن عمر القرشی العدوی، یہ جلیل القدر تابعی ہیں، امام مالک نے کہا: سالم کے زمانہ میں صالحین میں سے کوئی شخص ان کے مشابہ نہیں تھا۔ ابن راھویہ نے کہا: سب سے زیادہ صحیح سند یہ ہے: زہری، از سالم از عبد اللہ بن عمر ۔ یہ 106ھ یا ۱۰۸ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے، حضرت عبد اللہ بن عمر سے ان کے چار بیٹوں نے احادیث روایت کی ہیں : سالم، عبداللہ، حمزہ اور بلال۔
( ۵ ) حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ص۲۸۱)
حیاء کی دو قسمیں
حیاء کی ایک قسم جبلی اور فطری حیاء ہے، یہ انسان کا وہ وصف ہے جو اس کو قبیح اور رذیل کاموں سے روکتا ہے اور اس کو نیک کاموں پر ابھارتا ہے۔
حیاء کی دوسری قسم کسبی ہے، جس کو انسان اپنے اختیار اور ارادہ سے حاصل کرتا ہے، جیسے بندہ کا اس سے حیاء کرنا کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہوگا اور اس وجہ سے وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کو ترک کر دے اس کو شرعی حیا بھی کہتے ہیں ۔ اس کی یہ تعریف بھی ہے کہ جو کام شرعا ممنوع ہو اس کے کرنے سے انسان کے اندر انقباض اور گھٹن کی کیفیت پیدا ہو ۔
زیر بحث حدیث میں وہ شخص اپنے بھائی کو مطلقا حیاء کرنے سے منع کر رہا تھا حالانکہ جائز اور مشروع کاموں کو حیاء کی وجہ سے ترک کرنا مذموم ہے لیکن حرام اور مکروہ کاموں کو حیاء کی وجہ سے ترک کرنا محمود اور مستحسن ہے اس لیے اس شخص کا اپنے بھائی کو مطلقاً حیاء کر نے سے منع کرنا صحیح نہ تھا اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑو، کیونکہ حیاء بھی امور ایمان میں سے ہے ۔
حیاء کے متعلق دیگر احادیث
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سے حیاء کر نے کا معنی یہ ہے کہ تم سر کی حفاظت کرو اور سر جن چیزوں کو محیط ہے، ان کی حفاظت کرو اور پیٹ کی حفاظت کرو اور پیٹ جن کو جامع ہے ان کی حفاظت کرو اور تم موت کو اور جسم کے بوسیدہ ہونے کو یاد کرو اور جو آخرت کو یاد کرتا ہے وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دیتا ہے جس نے یہ کر لیا اس نے اللہ تعالی سے ایسی حیاء کی جیسی حیا کر نے کا حق ہے۔(مسند احمد ج 1 ص 387 سنن ترمذی: ۲۴۵۷ مسند البزار : ۲۰۲۵ المستدرک ج ۴ ص ۴۲۳)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: حیا سے خیر ہی خیر حاصل ہوتی ہے ۔( صحیح البخاری : 6117 صحیح مسلم : ۳۷)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے جو نبوت کا ابتدائی کلام پایا، وہ یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہوتو پھر جو چاہو کرو ۔ ( صحیح البخاری: ۰ 6120 )