کتاب الایمان باب 17 حدیث نمبر 25
sulemansubhani نے Wednesday، 3 January 2024 کو شائع کیا.
۱۷ – باب «فإن تابوا وأقاموا الصلوة واتوا الزكوة فخلوا سبيلهم » (التوبہ:۵)
پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو تم ان کا راستہ چھوڑدو (التوبہ:۵)
٢٥- حدثنا عبدالله بن محمد المسندي قال حدثنا أبو روح حرمي بن عمارة قال حدثنا شعبة،عن واقد بن محمد قال سمعت أبي يحدث عن ابـن عـمـر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول الله و يقيموا الصلوة ،ويؤتوا الزكوة فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماء هم وأموالهم إلا بحق الإسلام ، وحسابهم على اللہ ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبد اللہ بن محمد المسندی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوروح الحرمی بن عمارہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے از واقد بن محمد حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور بے شک محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں پس جب وہ یہ کام کر لیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیں گے سوا اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔
( صحیح مسلم : 22 سنن ابن ماجه : 3928 سنن نسائی : ۲۴۴۳ مسند ابویعلی : 2282 سنن بیہقی ج ۳ ص 92 المعجم الکبیر :1742 المعجم الاوسط 4298 ۔حلیة الاولیا ء ج ۴ ص ۲۲ تاریخ بغداد ج ۹ ص 315 مصنف عبد الرزاق:۱۰۰۲۱ مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۵ طبع قدیم، مسند احمد:14141 – ج ۲۲ ص 46 مسند احمد میں یہ حدیث حضرت جابر سے مروی ہے ۔ )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن جعفر المسندی، ان کا تعارف گزرچکا ہے.
( ۲ ) ابوروح الحرمی بن عمارہ، انہوں نے شعبہ وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے عبیداللہ بن عمر القواریری نے سنا ہے، ان سے امام ترمذی کے علاوہ باقی ائمہ ستہ نے احادیث روایت کی ہیں یحیی بن معین نے کہا: یہ بہت صادق میں ۲۰۱ ھ میں ان کی وفات ہو گئی .
( ۳) شعبہ بن الحجاج، ان کا تعارف ہو چکا ہے.
( ۴ ) واقد بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر، انہوں نے اپنے والد محمد بن زبیر سے روایت کی ہے، امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد اور امام نسائی نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.
(۵) محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر، امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ نے، ان کی توثیق کی ہے اور ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.
(6 ) حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۱ ص ۲۸۶)
تارک نماز کوقتل کرنے یا قتل نہ کرنے کے متعلق مذاہب ائمہ اور امام ابوحنیفہ کے مذہب کی ترجیح
اس حدیث کو روایت کرنے سے امام بخاری کا مقصد مرجئہ کا رد کرنا ہے، جو کہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد گناہ کرنے سے کوئی ضرر نہیں ہوتا۔
امام شافعی کے نزدیک جو شخص نماز کا تارک ہو، اس کو فورا قتل کر دیا جاۓ گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، امام احمد سے اکثر روایات یہ ہیں کہ تارک نماز کافر ہے اور ملت اسلامیہ سے خارج ہے اور اس کا حکم مرتد کا ہے اس کو نہ غسل دیا جاۓ گا، نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے خارج ہو جائے گی اور امام ابوحذیفہ اور مزنی نے یہ کہا ہے کہ اس کو قید کر لیا جائے گا حتی کہ وہ توبہ کرلے اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا’ امام شافعی اور امام احمد پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے تارک نماز کے قتل پر استدلال کیا ہے، لیکن وہ تارک زکوۃ کے قتل کا حکم نہیں دیتے، حالانکہ حدیث میں ان دونوں سے قتال کا ذکر ہے اور ان کا مذہب یہ ہے کہ مانع زکوۃ سے جبرا زکوۃ وصول کی جائے گی اور زکوۃ کو ترک کرنے پر اس کو تعزیر دی جاۓ گی ۔
فقہاء احناف کی طرف سے التوبہ : ۵ اور اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ اس آیت اور حدیث میں نماز اور زکوۃ کے تارک اور مانع سے قتال کا حکم دیا ہے، ان کوقتل کر نے کا حکم نہیں دیا اور قتال کا معنی ہے : ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ایک دوسرے سے جنگ کرنا اور جو شخص زکوۃ نہیں دے گا تو اس سے جبرا ز کوۃ وصول کی جائے گی اور اگر وہ جنگ پر آمادہ ہو تو اس سے جنگ کی جائے گی اس وجہ سے حضرت ابوبکر صد یق رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعین زکوۃ سے جنگ کی تھی اور یہ منقول نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر نے ان کو پکڑ کرقتل کردیا تھا۔( عمدة القاری ج۱ ص۲۹۰)
میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ جو تارک نماز کو قتل کرنے سے منع کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور وہ اپنے گھر میں محصور تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آۓ، اس وقت ان کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا انہوں نے کہا: ان محاصرہ کر نے والوں نے ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے لیے اللہ کافی ہے انہوں نے کہا: یہ مجھے کیوں قتل کر رہے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہوۓ سنا ہے کسی مسلمان کا خون بہانا صرف تین وجوں میں سے کسی ایک وجہ سے حلال ہوتا ہے، کوئی شخص اسلام کے بعد کفر کرے، یا شادی شدہ شخص زنا کرے، یا کوئی شخص دوسرے شخص کو ناحق قتل کرے ۔
( سنن ابوداؤد : ۴۵۰۲ ، سنن ترمذی: ۲۱۵۸ ، سنن نسائی :۱ ۴۰۳، سنن ابن ماجہ : ۲۵۳۳)
تارک نماز کے متعلق امام شافعی، امام احمد اور امام ابوحنیفہ کا مسلک ذکر کردیا گیا رہا امام مالک کا مسلک تو اس کے متعلق علامہ ابوعبد الله محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
امام مالک کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی اور اس نے نماز پڑھنے سے انکار کیا، اس کوقتل کر دیا جاۓ گا ۔(الی قولہ) ہمارے اصحاب کا اس میں اختلاف ہے کہ تارک نماز کو کس وقت قتل کیا جاۓ گا، بعض نے کہا: اس کو وقت مختار کے آخر میں قتل کیا جائے گا اور بعض نے کہا: اس کو وقت ضرورت کے آخر میں قتل کیا جاۓ گا یعنی جب عصر کے وقت میں سے صرف چار رکعت نماز پڑھنے کا وقت رہ جاۓ اور سورج غروب ہو جاۓ اور اس نے عصر نہ پڑھی ہو تو اس کو قتل کر دیا جاۓ گا اور یہی صحیح قول ہے۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ۸ ص ۱۴ دارالفکر بیروت 1415ھ)
اسلام میں ظاہر کے مطابق حکم دیا جاۓ گا اور باطن کو نہیں کھنگالا جاۓ گا
اس حدیث میں فرمایا ہے: سوا اسلام کے حق کے، یعنی ان کی جان اور ان کے مال سے تعرض نہیں کیا جاۓ گا ہاں! اگر انہوں نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو، یا کسی کے اعضاء ناحق کاٹے ہوں تو اس سے قصاص لیا جاۓ گا، یا کسی کی چوری کی ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاۓ اور چوری شدہ مال واپس لیا جائے گا یا کسی کا مال غصب کیا ہے تو اس سے وہ مال وصول کیا جاۓ گا ۔
نیز اس حدیث میں فرمایا: اور ان کا حساب اللہ پر ہے یعنی اگر دلائل شرعیہ سے ثابت ہوگیا کہ انہوں نے کسی کو ناحق قتل کیا ہے یا کسی کا مال غصب کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، لیکن اگر دلائل شرعیہ سے یہ ثابت نہ ہوسکا اور واقع میں اس نے کسی کی جان اور مال پر ناحق زیادتی کی ہو تو اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے کیونکہ ہم تو صرف ظاہر پر حکم کرتے اور باطن کا معاملہ تو صرف اللہ جانتا ہے ۔اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے رنگے ہوۓ چمڑے کے تھیلے میں سونے کی چند ڈلیاں بھیجیں جن سے ( کان کی) مٹی ہنوز صاف نہیں کی گئی تھی آپ نے وہ سونا چار افراد میں تقسیم کر دیا عینیہ بن بدر اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ تھے یا عامر بن الطفیل، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس سونے کے ان لوگوں سے زیادہ حق دار ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھ کو امین نہیں قرار دیتے حالانکہ میں آسمانوں میں امین ہوں اور صبح ، شام میرے پاس آسمانوں سے خبر آتی ہے پھر ایک شخص کھڑا ہوا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھی رخسار ابھرے ہوئے تھے اور پیشانی اٹھی ہوئی تھی ڈاڑھی گھنی تھی اور سرمنڈا ہوا تھا وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈریں، آپ نے فرمایا: تم پر افسوس ہے، کیا میں روۓ زمین پر سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا حضرت خالد بن ولید نے کہا: یارسول اللہ ! کیا میں اس شخص کی گردن نہ اڑادوں آپ نے فرمایا: نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو حضرت خالد نے کہا: کتنے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جن کے دل میں وہ بات نہیں ہوتی جس کو وہ زبان سے کہتے ہیں ( جیسے منافقین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں کو چیر کر دیکھوں اور نہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے پیٹ چاک کر دوں، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ موڑے کھڑا تھا، آپ نے فرمایا : اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جس کا منہ کتاب اللہ کی تلاوت سے تر رہے گا لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے اور میرا گمان ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر میں نے ان کو پایا تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود کو قتل کیا گیا تھا ۔
( صحیح البخاری:4351 صحیح مسلم : ۱۰۶۴ سنن ابوداؤد : 4764 سنن نسائی : ۲۵۷۸)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ باطن کی تفتیش کا حکم نہیں دیا،صرف ظاہر کے اعتبار سے حکم دینے کا مکلف کیا گیا ہے، اس مسئلہ کی زیادہ تحقیق کے لیے مطالعہ کریں تبیان القرآن ج ۵ ص ۸۲۹ التوبه : ۷۳ اور ص ۱۹۷ یوسف : 76 فرید بک سٹال لاہور ۔
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۲۔ ج۱ ص ۳۷۸ پر ہے وہاں اس کی زیادہ شرح کی گئی ہے اور اس کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
حضرت ابوبکر کے عہد میں مرتدین اور مانعین زکوۃ کا بیان (۴) مانعین زکوۃ کا شبہ (۳) مانعین زکوۃ کو مرتدین میں شمار کرنے کی توجیہ اور ان کے شبہ کا جواب (۴) قرآن مجید کے خطاب کرنے کی اقسام (۵) ضروریات دین کا انکار کفر ہے ۔ حدیث مذکور کی تفصیل میں دیگر احادیث (۷) باب مذکور کی حدیث سے استنباط شدہ دیگر مسائل ۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الایمان