کتاب الایمان باب 18 حدیث نمبر 26
۱۸ – باب من قال إن الإيمان هو العمل
جس شخص نے یہ کہا کہ عمل ہی ایمان ہے
لقول الله تعالى (وتلك الجنة التي أورثتـمـوهـا بما كنتم تعملون﴾ (الزخرف:72) وقال عـدة مـن اهـل الـعـلـم فـي قوله تعالى «فو ربك لنسالنهم اجمعين، عما كانوا يعملون» (الحجر:93۔92 عن قول لا إله إلا الله. وقال (لمثل هذا فليعمل العاملون» (الصافات:61).
کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : یہ وہ جنت سے جس کا تم کو ۔ وارث بنایا گیا ہے ان اعمال کے سبب سے جو تم کرتے تھے (الزخرف: ۷۲) “
متعدد اہل علم نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے:
پس آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سے ضرور سوال کریں گے ۔ کہ وہ کیا عمل کرتے تھے (الحجر: ۹۳ ۹۲ ) یعنی یہ سوال لا الہ الا اللہ کے متعلق ہوگا اور اللہ تعالی نے فرمایا: اس کی مثل کے لیے عمل کرنے والوں کوعمل کر نا چاہیے O( الصافات :61) ۔
عنوان باب کی وضاحت اور امام بخاری کی ذکر کردہ آیات کی تفسیر
پہلے باب سے بھی امام بخاری کا مقصد مرجئہ کا رد کرنا تھا اور اس باب سے بھی امام بخاری کا مقصد مرجئہ کا رد کرنا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ عمل نہ کرنے سے اہل ایمان کو ضرر نہیں ہوگا اور ان آیتوں میں عمل ہی کو ایمان فرمایا گیا ہے اور احناف کے نزدیک اس جگہ ایمان سے مراد ایمان کامل ہے اور ایمان کامل میں اعمال داخل ہیں ۔
امام بخاری نے جس پہلی آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ عمل ہی ایمان ہے، اس میں مذکور ہے: یہ وہ جنت ہے، جس کا تم کو وارث بنایا گیا ہے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ وراثت کا معنی ہے : موت کے بعد مال ورثاء کے لیے چھوڑ جانا پس اللہ تعالی کسی کو وارث کیسے بناۓ گا اس پر تو موت کا آ نا محال ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وراثت کا حقیقی معنی یہی ہے لیکن یہاں بہ طور استعارہ مجاز مراد ہے یعنی جس طرح وارثوں کو مورث بغیر کسی عوض کے مال عطا کرتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی مؤمنوں کو بغیر کسی عوض کے جنت عطا کرتا ہے، اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں مورث سے مراد اللہ تعالی نہیں ہے بلکہ کافر ہے اور اللہ تعالی نے کافر کے لیے جو جنت بنائی تھی وہ چونکہ ایمان نہیں لایا اس لیے وہ اس جنت کو مؤمنوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے، جس طرح مورث اپنے مال کو وارثوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے ۔
اس آیت پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے: ان اعمال کے سبب سے جو تم کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں دخول کا سبب اعمال ہیں، حالانکہ حدیث میں ہے: کوئی شخص جنت میں اپنے عمل کی وجہ سے داخل نہیں ہوگا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا’ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: مجھ کو بھی نہیں سوا اس کے کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔(صحیح مسلم :2816 الرقم المسلسل : 6920 )
اس کا جواب یہ ہے کہ جنت میں دخول کے دوسبب ہیں، ظاہری سبب تو اعمال ہیں اور حقیقی سبب اللہ تعالی کی رحمت اور اس کا فضل ہے، اس آیت میں ظاہری سبب کا ذکر فرمایا ہے اور حدیث میں حقیقی سبب کا ذکر فرمایا ہے ۔
امام بخاری کا دوسرا استدلال اس آیت سے ہے: پس آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ کہ وہ کیا عمل کرتے تھے ۔
اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت کے معارض یہ آیت ہے:
فيومئذ لا يسئل عن ذنبه إنس ولا جان
پس اس دن کسی انسان کے گناہ سے سوال کیا جاۓ گا اور نہ کسی جن کے 0 ( الرحمن :۳۹)
اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ سوال نہیں کیا جاۓ گا کہ تم نے کیا کیا؟ بلکہ یہ سوال کیا جاۓ گا کہ تم نے کیوں کیا، دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن کئی احوال ہوں گے، بعض احوال میں سوال نہیں کیا جاۓ گا اور بعض اوقات میں سوال کیا جاۓ گا۔
امام بخاری کا تیسرا استدلال اس آیت سے ہے: اس کی مثل کے لیے عمل کر نے والوں کو عمل کرنا چاہیے ۔
اس پر یہ سوال ہے کہ اس کی مثل سے کس چیز کی مثل مراد ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے’’الفوز العظیم ‘‘ کا ذکر ہے یعنی بہت بڑی کامیابی اور وہ دوزخ سے نجات اور جنت میں دخول ہے تو اس کی مثل کے حصول کے لیے عمل کرنا چاہیے یعنی ایمان لانا چا ہے اور اعمال صالحہ کرنے چاہئیں ۔
٢٦- حدثنا أحمد بن يونس و موسى بن إسماعيل قالا حدثنا إبراهيم بن سعد قال حدثنا ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل أن العمل أفضل؟ فقال إيمان بالله ورسوله، قيل ثم ماذا؟ قال الجهاد في سبيل الله قيل ثم ماذا؟ قال حج مبرور
(طرف الحدیث 1519)
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں احمد بن یونس اور موسی بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن شہاب نے از سعید بن مسیب از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کی کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے رسول پر، کہا گیا: پھر کون ساعمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، کہا گیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: حج مبرور۔
( صحیح مسلم : 83 سنن نسائی : ۵۰۰۰ صحیح ابن حبان : 4595 معجم الکبیر ۶۹ ۳- ج ۱۳ المعجم الاوسط 8891 حلیۃ الاولیاء ج ۲ ص 270 سنن سعید ابن منصور : ۲۳۳۸ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی : ۱۳۹، مسند احمد ج ۵ ص ۴۵۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۷۸۳ ۲۳۔ ج ۵ ص ۴۵۱ مؤسسة الرسالة بیروت )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصا مشہور تابعی سعید بن المسیب کا تذکرہ
(۱) احمد بن عبد اللہ بن یونس الیربوعی التمیمی ، ان کے باپ عبد اللہ ہیں، لیکن ان کی شہرت اپنے دادا کی طرف نسبت ہے، انہوں نے امام مالک ابن ابی ذئب، لیث اور بہت سے محدثین سے سماع کیا ہے اور ان سے ابوزرعہ، ابو حاتم، امام بخاری، امام مسلم اور امام ابوداؤد نے سماع کیا ہے ابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ اور متقن تھے امام احمد نے ان کو شیخ الاسلام کہا، یہ ربیع الاخر ۷ ۲۲ھ میں فوت ہو گئے اس وقت ان کی عمر ۹۴ سال تھی۔
( ۲ ) موسی بن اسماعیل المنقری ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۳) ابراہیم بن سعد، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
( ۴ ) ابن شہاب زہری ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔
( ۵ ) سعید بن مسیب بن حزن بن ابی وہب القرشی المخزومی المدنی یہ امام التابعين اور فقیہ الفقہاء تھے ان کے باپ اور دادا دونوں صحابی تھے فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے حضرت عمر کی خلافت کے دو سال بعد یہ پیدا ہوۓ انہوں نے حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث کا سماع کیا یہ حضرت ابو ہریرہ کے داماد تھے اور تمام لوگوں سے زیادہ احادیث کے عالم تھے ان سے بہت تابعین نے احادیث کا سماع کیا ہے ان کی امانت اور جلالت پر اتفاق ہے یہ علم اور تقوی میں اپنے معاصرین پر مقدم تھے، ابن المدینی نے کہا: یہ تابعین میں حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے امام احمد نے کہا: یہ افضل التابعین تھے لیکن صحیح مسلم میں ہے کہ خیر التابعین اویس قرنی ہیں احمد بن عبد اللہ نے کہا: یہ مدینہ کے سات مشہور فقہاء میں سے تھے، یہ کانے تھے، ابن قتیبہ نے کہا: ان کے دادا حزن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا: تم سہل ہو انہوں نے کہا: نہیں میں حزن ( سخت اور رنج والا)ا ہوں، یہ تین دفعہ مکالمہ ہوا سعید نے کہا: ہم ہمیشہ اس تختی اور رنج کو پہچانتے ر ہے، ان کی اولاد بدخلق تھی انہوں نے چالیس حج کیے اور وظیفہ نہیں لیا، ان کے پاس چارسو دینار کا سرمایہ تھا، جس سے یہ زیتون کے تیل کی تجارت کرتے تھے، جابر بن اسود مدینہ کے حاکم تھے انہوں نے ان کو حضرت ابن الزبیر کی بیعت کے لیے بلایا انہوں نے انکار کیا تو انہوں نے ان کو ساٹھ کوڑے مارے اور مدینہ میں گشت کرایا ایک قول یہ ہے کہ جب انہوں نے ولید کی بیعت سے انکار کیا تو اس نے ان کو کوڑے مارے اور قید کیا، یہ ۹۳ ھ میں الولید بن عبد الملک کی خلافت میں مدینہ میں فوت ہوۓ اس سال بہ کثرت فقہا فوت ہوۓ تھے اسی وجہ سے اس سال کو سنۃ الفقہاء کہا جا تا ہے۔
(۶ ) حضرت ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ ہیں ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔
( عمدة القاری ج۱ ص 298۔ 297)
حدیث مذکور کے الفاظ کے لغوی اور شرعی معانی
اس حدیث میں’ افضل ‘‘ کا لفظ ہے اس سے مراد ہے: جس عبادت کا اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ ثواب ہو اور جہاد‘‘ کا لفظ ہے اس کا لغوی معنی مشقت ہے اور اس کا شرعی معنی ہے: اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے کفار سے قتال کرنا تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کرنا فرض کفایہ ہے اور اگر کفار اسلامی ملک پر حملہ کریں تو ان سے دفاع کے لیے جہاد کرنا فرض عین ہے اور اس میں حج مبرور کا لفظ ہے حج کا لغوی معنی ہے : قصد کرنا اور شرعی معنی ہے : بیت اللہ کی زیارت کا قصد کرنا اس میں دوفرض ہیں : وقوف عرفات اور طواف زیارت، حج کرنا زندگی میں ایک بار فرض ہے، اس کی شرط یہ ہے کہ مسلمان کے پاس اتنی رقم ہوا جس سے مکہ مکرمہ تک آنے جانے کا سفر ہو سکے اور اتنے عرصہ کے لیے اس کا اور اس کے اہل وعیال کی کفالت کا خرچ ہو اور وہ صحت مند ہو، مبرور وہ حج ہے، جس میں حج کرنے والا لوگوں کو کھانا کھلاۓ اور ان سے اچھی باتیں کرے ۔
اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے متعدد عبادات کو افضل عمل فرمایا ہے
اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت ابن مسعود کی روایت میں آپ نے فرمایا: افضل اسلام کھانا کھلانا ہے اور ہر شخص کو سلام کرنا ہے اور حضرت ابوموسی کی روایت میں ہے: افضل اسلام لوگوں کو اپنی زبان اور ہاتھ کے ضرر سے محفوظ رکھنا ہے اور حضرت ابوذر کی حدیث میں ہے: افضل اسلام اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ہے اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ افضلیت مختلف احوال اور مختلف اشخاص کے اعتبار سے ہے مثلا جو شخص جہاد کا اہل ہے اس کے لیے جہاد کرنا دیگر عبادات سے افضل ہے اور جس شخص کے والدین بے سہارا ہیں اگر وہ ان کو چھوڑ کر جہاد کے لیے جاۓ گا تو اس کے والدین ضائع ہو جائیں گے اس کے لیے والدین کی خدمت کرنا جہاد سے افضل ہے اور جب کفار کا مسلمانوں کے شہر پرحملہ اور غلبہ ہوتو تمام عبادات سے جہاد کرنا افضل ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ جن عبادات کو آپ نے افضل العمل فرمایا ہے اس سے مراد ہے: یہ فضل اعمال کے قبیل سے ہیں یعنی لوگوں کو اپنے ضرر سے محفوظ رکھنا اور ان کو کھانا کھلانا اور سلام کرنا وغیرہ یہ سب افضل اعمال ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی افضل عمل ہیں ۔