۲۱- باب كفران العشير وكفر دون كفر فيه

عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى اللہ علیہ وسلم

خاوند کی ناشکری اللہ کی ناشکری سے کم درجہ کی ناشکری ہے

اس باب میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ۔

 

اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ ابواب سابقہ امور ایمان میں تھے اور یہ باب کفر کے بیان میں ہے اور ایمان اور کفر میں تضاد ہے، سو ان میں تضاد کی مناسبت ہے ۔

امام بخاری نے حضرت ابوسعید خدری کی اس حدیث کو کتاب الحیض میں روایت کیا ہے دیکھئے صیح البخاری: ۳۰۴۔

۲۹-حدثنا عبدالله بن مسلمة ، عن مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس قال قال النبي صلى الله عليه وسلم أريت النار فإذا أكثر أهلها النساء ، يكفرن قبل ایکفرن باللہ؟ قـال يـكـفرن العشير، ويكفرن الإحسان لوأحسنت إلى إحداهن الدهر، ثم رأت منك شيئا، قالت ما رايت منك خيراً قط۔.

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از مالک از زید بن اسلم از عطاء بن یسار از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوزخ دکھائی گئی، پس اس میں زیادہ عورتیں تھیں، وہ ناشکری کرتی ہیں کہا گیا: کیا اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ساری عمر احسان کرو پھر وہ تم سے تھوڑی سی کمی دیکھ لے تو کہے گی : میں نے تو تم سے کبھی اچھائی نہیں دیکھی۔

( صحیح مسلم : ۸۸۴ سنن ابوداؤد :۱۱۸۹، سنن نسائی : ۱۴۹۲)۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبداللہ بن مسلمہ القعنبی المدنی.

(۲) امام مالک بن انس ،ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے.

( ۳) ابواسامہ زید بن اسلم القرشی العدوی، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد شدہ غلام تھے یہ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت جابر ،حضرت انس، حضرت سلمہ بن اکوع‘ حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث روایت کرتے ہیں، اور ان سے امام مالک، الزہری، معمر، ایوب اور یحیی وغیرہم روایت کرتے ہیں ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ اور کثیر الحدیث ہیں ۱۳۳ ھ میں فوت ہو گئے ائمہ ستہ ان سے روایت کرتے ہیں.

( ۴ ) عطاء بن یسار المدنی الھلالی، یہ حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے آزاد شدہ غلام تھے، انہوں نے حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم اور دیگر سے سماع کیا ہے اور ان سے عمرو بن دینار اور زید بن اسلم وغیر ہما نے سماع کیا ہے ابن سعد، یحیی بن معین اور ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ ۱۴۳ھ یا ۴ ۱۴ ھ میں فوت ہو گئے.

( ۵ ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( عمدة القاری ج۱ص۳۲۱)

خاوند کا بیوی پر عظیم حق اور حدیث کے دیگر فوائد

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نعمتوں اور حقوق کی ناشکری حرام ہے کیونکہ دوزخ میں دخول، حرام کے ارتکاب سے ہوتا ہے آپ نے خاوند کی ناشکری اور اس کے احسان کے انکار پر دوزخ کے عذاب سے ڈرایا ہے، یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ گناہ کبیرہ ہیں اس سے معلوم ہوا کہ منعم اور حسن کا شکر ادا کرنا واجب ہے اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ خاوند کا بیوی پر بہت عظیم حق ہے ،جیسا کہ اس حدیث میں ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کر نے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔ ( سنن ابن ماجہ : 1852، المستدرک ج ۴ ص 182، مجمع الزوائد ج ۴ ص 310، شرح السنه ج ۵ ص ۵۸، الترغیب والترہیب ج ۳ ص۵۶ کنز العمال : ۴۴۷۷۵)

اسی وجہ سے تمام گناہوں میں سے خاوند کی ناشکری کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور خاوند کا جو بیوی پرحق ہے، اس کو بندوں پر اللہ کے حق کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس حدیث کے فوائد میں سے یہ ہے کہ رئیس کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کو وعظ کیا کرے اور نیکی پر ابھارا کرے اور تلامذہ کو چاہیے کہ اگر ان کی سمجھ میں استاذ کی کوئی بات نہ آئے تو اس سے وضاحت طلب کر لیا کریں نیز اس حدیث میں ناشکری پر کفر کا اطلاق ہے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ گناہوں سے کوئی شخص ایمان سے نکلتا ہے نہ کفر میں داخل ہوتا ہے ۔