أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَاۤ اَنۡتَ بِـنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُوۡنٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

( اے رسول مکرم ! ) آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں

تفسیر:

القلم : ٣، ٢ میں فرمایا : اے رسول مکرم ! آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں اور بیشک آپ کے یہ لا محدود و اجر ہے

کفار کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون کہنا اور اللہ تعالیٰ کا رد فرمانا

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس آیت میں کفار کے اس قول کا رد ہے کہ انہوں نے آپ کو مجنوں (دیوانہ) کہا تھا، قرآن مجید میں ہے :

وَقَالُوْا یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْنٌ (الحجر : ٦)

اور کفار نے کہا : اے وہ شخص ! جس پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے، بیشک تم ضرور مجنون ہو

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کے رد میں فرمایا :” مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ “ (الحجر : ٦) ( القلم : ٦) اور آپ کے مجنون نہ ہونے پر اللہ تعالیٰ نے تین دلیلیں قائم فرمائیں، ایک یہ کہ آپ کے اوپر آپ کے رب کی نعمت ہے اور آپ اللہ کے فضل سے صاحب عقل ہیں، آپ پر اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمت یہ ہے کہ آپ عرب میں سب سے زیادہ فصیح اور بلیغ ہیں، آپ کی عقل کامل ہے، آپ ہر عیب سے بری ہیں اور فضلیت والے وصف سے متصف ہیں، آپ کی سیرت کا حسن اور کمال آپ کی مخالفین کو بھی مسلم ہے، اور ایسی شخصیت والا کب مجنون ہوسکتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 2