کتاب الایمان باب ۔۔۔۔ حدیث نمبر 31
۰۰۰ – باب «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا فأصلحوا بينهما (الحجرات: ۹) فسماهم المؤمنين
’’اگر مؤمنین کی دو جماعتیں آپس میں جنگ کریں تو تم ان کے درمیان صلح کراؤ‘‘(الحجرات:9) اللہ تعالی نے ان دونوں جماعتوں کو مؤمن فرمایا
اس باب سے امام بخاری کا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اہل قتال کو مؤمنین فرمایا ہے، حالانکہ اہل قتال مرتکب کبیرہ ہیں، اس سے اس سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے انسان ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
ان دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں اللہ کے ساتھ کفر کا بیان تھا اور اس باب میں اللہ کی معصیت کا ذکر ہے ۔
۳۱- حدثنا عبد لرحمن بن المبارك حدثنا حماد بن زيد حدثنا أيوب و يونس، عن الحسن ، عن الأحنف بن قيـس قـال ذهبت لانصر هذا الرجل فلقيني ابوبكرة فقال این تريد؟ قلت أنصر هذا الرجل، قال ارجع ، فإني سمعت رسول اللہ صلی الله عليه وسلم يقول إذا التقى المسلمان بسيـفيـهـمـا فـالـقـاتل و المقتول في النار فقلت یارسول الله هذا القاتل، فما بال المقتول؟ ! قال إنه كان حريصا على قتل صاحبہ۔اطراف الحدیث:6875-7083
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ عبد الرحمان بن المبارک نے ہمیں حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ایوب اور یونس نے از حسن از لاحنف بن قيس حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں اس شخص (حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ) کی مدد کے لیے گیا تو مجھے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے، پس مجھ سے پوچھا: تمہارا کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: میں اس شخص کی مدد کروں گا، انہوں نے کہا: واپس جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے : جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے لڑتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے پس میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قاتل ہے پس مقتول ( کے دوزخی ہونے ) کا کیا سبب ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔
(صحیح مسلم: ۲۸۸۸، سنن ابوداؤد :4269٬ سنن نسائی: ۴۱۳۴، سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۹۰ شرح السنتہ: ۲۵۴۹ الاحادوالمثانی: 1564، صحیح ابن حبان: ۵۹۴۵ حلیۃ الاولیاء ج ۶ ص 262 مسند احمد ج ۵ ص ۴۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۰۴۳۹۔ ج ۳۴ ص ۸۷ مؤسسة الرسالة بیروت )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف، خصوصا مشہور تابعی حسن بصری اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
(۱) عبدالرحمان بن المبارک بن عبداللہ العیثی ، یہ وہب بن خالد اور حماد بن زید وغیر ہما سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام بخاری، ابوزرعہ، امام ابوداؤد اور ابوحاتم روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا: یہ بہت سچے ہیں یہ ۲۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۲) حماد بن زید درہم البصری انہوں نے ثابت بنانی، ابن سیرین اور کثیر سے سماع کیا اور ان سے ابن المبارک اور یحیی القطان روایت کرتے ہیں عبد الرحمان بن مہدی نے کہا: اپنے زمانہ میں چار شخص امام تھے، سفیان ثوری کوفہ میں، مالک حجاز میں، اوزاعی شام میں اور حماد بن زید بصرہ میں یہ ۸۱ سال کی عمر میں ۱۷۹ھ میں فوت ہو گئے تھے ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے۔
( ۳ ) ایوب سختیانی، ان کا تعارف ہوچکا ہے۔
( ۴ ) یونس بن عبید بن دینار البصری، انہوں نے حضرت انس بن مالک، الحسن البصری اور محمد بن سیرین کی زیارت کی ہے اور ان سے سفیان ثوری اور حماد نے روایت کی ہے امام احمد اور یحیی نے کہا: یہ ثقہ ہیں ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے یہ ۱۳۹ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
( ۵ ) ابوسعید الحسن بن الحسن الانصاری البصری ان کی ماں کا نام الخیرہ تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی باندی تھیں، یہ اس وقت پیدا ہوۓ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال رہ گئے تھے، ان کی ماں کبھی کہیں چلی جاتیں اور یہ ان کے پیچھے روتے تھے تو حضرت ام المؤمنین ام سلمہ ان کو بہلانے کے لیے اپنا پستان ان کے منہ میں دے دیتی تھیں، حتی کہ ان کی ماں آ جاتیں لیکن حسن بصری حضرت ام المؤمنین کا دودھ پیتے رہتے تھے، ان میں جو فصاحت اور برکت تھی، وہ ان ہی کی برکت سے تھی حسن بصری نے وادی القری میں پرورش پائی، الحسن نے کہا: ہم خراسان کے جہاد میں گئے اور ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو صحابہ تھے، انہوں نے حضرت ابن عمر، حضرت انس، حضرت سمرہ اور قیس بن عاصم صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث کا سماع کیا ہے ۔ الفضیل بن عیاض نے ہشام بن حسان سے پوچھا: الحسن نے کتنے صحابہ کو پایا ؟ انہوں نے کہا: ۱۳۰ صحابہ کو، ابن سیرین نے کہا: تیس صحابہ کو، حسن کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع صحیح نہیں ہے ابن معین نے کہا: حسن نے حضرت ابوبکرہ سے سماع کیا ہے نہ حضرت جابر بن عبد اللہ سے نہ حضرت ابو ہریرہ سے، ابوزرعہ سے سوال کیا گیا: کیا حسن نے بدری صحابہ میں سے کسی سے ملاقات کی ہے؟ انہوں نے کہا: انہوں نے ان میں سے بعض کو دیکھا ہے، حضرت عثمان اور حضرت علی کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا: حسن نے حضرت علی کو مدینہ میں دیکھا ہے، پھر حضرت علی کوفہ اور بصر ہ چلے گئے اور اس کے بعد حسن نے ان سے ملاقات نہیں کی، ابوزرعہ نے کہا: حسن نے حضرت ابو ہریرہ سے سماع گیا نہ ان کو دیکھا اور جس نے حسن کی ابو ہریرہ سے روایت بیان کی اس نے خطاء کی اور نہ انہوں نے حضرت ابن عباس بن اللہ سے سماع کیا اور انہوں نے حضرت ابن عمر سے ایک حدیث سنی ہے، ابورجاء کہتے ہیں : میں نے حسن سے پوچھا: آپ مدینہ سے کب آۓ؟ انہوں نے کہا: جنگ صفین میں، میں نے پوچھا: آپ بالغ کب ہوۓ ؟ انہوں نے کہا: جنگ صفین میں، ابن سعد نے کہا: حسن،جامع عالم، فقیہ، ثقہ، امین، عابد اور فصیح وجمیل تھے، خصوصاً جب وہ مکہ آتے تو لوگ ان کو تعظیم سے بٹھاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہو جاتے، جن میں طاؤس، عطاء، مجاہد اور عمرو بن شعیب تھے، پھر وہ ان کے سامنے احادیث بیان کرتے، پھر ان میں سے بعض کہتے : ہم نے ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا، 116ھ میں ان کی وفات ہوئی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔
(۶ ) الاحنف بن قیس، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ کے عہد میں اسلام لاۓ، لیکن آپ کی زیارت نہیں کی یہ حضرت عمر کے پاس گئے تھے، حسن اور ابن سیرین ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث سنی ہیں اور ان سے حسن نے سنی ہیں، یہ کوفہ میں 67 ھ میں حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما خلافت میں فوت ہو گئے تھے۔
( ۷ ) حضرت ابوبکرہ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ ہیں، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جنگ طائف میں طائف کے قلعہ سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بکرۃ ) صبح میں آ گئے تھے، اس وجہ سے ان کی کنیت ابوبکرہ ہوگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کردیا۔ ان کا شمار آپ کے آزاد کردہ غلاموں میں ہوتا ہے، یہ فضلا صحابہ اور صالحین میں سے ہیں، عبادت میں بہت کوشش کر تے تھے ۵۲ھ میں بصرہ میں فوت ہوگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 132 احادیث روایت کی ہیں، ان میں سے آٹھ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور پانچ احادیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور امام مسلم نے ایک حدیث روایت کی ہے اور ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔( عمدة القاری ج۱ص ۳۳۴۔ ۳۳۲)
حدیث مذکور پر اعتراضات کے جوابات
اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے اپنے اجتہاد سے قتال کیا، ان میں قاتل اور مقتول تھے اور وہ جنت میں ہوں گے، جیسے جنگ جمل اور جنگ صفین میں شہید ہونے والے صحابہ، حالانکہ اس حدیث میں مطلقا فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ان مسلمانوں کے متعلق ہے، جن کی جنگ کسی اجتہاد پر مبنی نہ ہو، محض ہوائے نفس کی بناء پر ہو اور دونوں فریقوں کا موقف شر اور باطل ہو ۔ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت علی کی حضرت معاویہ سے جنگ اجتہاد پر مبنی تھی تو حضرت ابوبکرہ نے حضرت علی کی مدد کے لیے جانے سے کیوں منع کیا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوبکرہ کا منع کرنا بھی اجتہاد پر مبنی تھا, تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہیں, اس سے معتزلہ کی تائید ہوتی ہے کہ قاتل اور مرتکب کبیرہ کو دوزخ میں ڈالنا واجب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا محمل یہ ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں دوزخ کے عذاب کے مستحق ہیں اور اللہ تعالی اپنے فضل سے ان میں سے جس کو چاہے گا معاف فرما دے گا چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث میں آپ نے مقتول کے دوزخی ہونے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا حالانکہ اس کے قتل پر حرص تو گناہ کبیرہ نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حرام کام کی حرص اور اس کا ارادہ بھی گناہ کبیرہ ہے اگرچہ یہ ارتکاب حرام سے کم درجہ کا ہے، جب کہ وہ مقتول بھی قاتل پر تلوار سے حملہ کر رہا تھا اور یہ بہرحال گناہ کبیرہ ہے، پانچواں اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے دونوں کو مومن فرمایا ہے اور حدیث میں آپ نے دونوں کو مسلم فرمایا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ تنبیہ ہے کہ مسلم اور مومن واحد ہیں ۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۱۲۴ ۔ ج ۷ ص ۹۶ ۷ ۔ ۸۸ ۷ میں بھی مذکور ہے اور وہاں اس کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
صحابہ کرام کی باہمی جنگوں کے متعلق اہل سنت کا موقف
(۲) ایام فتنہ میں قتال کرنے کا شرعی حکم
(۳) حضرت معاویہ پر علامہ عینی کے اعتراض کا جواب
(۴) حضرت معاویہ کے فضائل ۔