۲۳- باب ظلم دون ظلم

ایک ظلم کا دوسرے ظلم سے کم ہونا

ظلم کا معنی ہے: دوسرے کی ملکیت میں تصرف کرنا یا کسی چیز کو اس کی جگہ میں نہ رکھنا’ سابق باب میں یہ بتایا تھا کہ دو مسلمانوں کا ناحق لڑنا دوزخ میں دخول کا سبب ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ظلم ہے اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ ظلم کی کئی انواع اور اقسام ہیں ۔

۳۲- حدثنا أبو الوليد قال حدثنا شعبة (ح) قال وحدثني بشر قال حدثنا محمد، عن شعبة ، سلیمان، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبداللہ قال لما نزلت ( والذين امنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم) (الانعام:۸۲) قال أصحاب رسول الله صلى اللہ عليه وسلم أينـا لـم يـظلم نفسه؟ ! فأنزل الله (ان الشرك لظلم عظيم) (لقمان:۱۳)اطراف الحدیث۔ 3360۔۳۴۲۸۔۳۴۲۹-4629۔۔6919۔6937۔4776۔)

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالولید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ( ح ) امام بخاری نے روایت کیا، اور مجھے بشر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد نے حدیث بیان کی از شعبه از سلیمان از ابراہیم از علقمہ از عبداللہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’ جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا‘‘(الانعام:۸۲ ) تو رسول اللہ میم کے اصحاب نے کہا: ہم میں سے کون اپنے آپ پر ظلم نہیں کرتا؟ تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ” بے شک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے ‘‘( لقمان: ۱۳ )۔

( صحیح مسلم : 124، سنن ترمذی: ۳۰۶۷ مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۷۴۔ ۷۳ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۱۸۵ مسند ابوداؤد الطیالسی  270۔السنن الکبری للنسائی 11165 مسند ابولاعلی : ۵۱۵۹ صحیح ابن حبان : ۲۵۳)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور مشہور تابعی علقمہ کا تعارف

اس حدیث کو امام بخاری نے دوسندوں سے روایت کیا ہے اور ان میں کل رجال آ ٹھ ہیں:

(۱) ابوالولید ہشام بن عبد الملک البصری.

( ۲ ) شعبہ بن الحجاج، ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے.

( ۳) بشر بن خالد العسکری ان سے امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد اور امام نسائی نے احادیث روایت کی ہیں اور ان کو ثقہ کہا ہے ۲۵۳ھ میں ان کی وفات ہوئی.

( ۴ ) محمد بن جعفر الھذلی، انہوں نے سفیان ثوری اور شعبہ سے سماع کیا ہے اور ان کی مجلس میں تقریبا بیس سال رہے اور ان سے امام احمد اور علی بن مدینی اور بندار وغیرہ نے سماع کیا ہے ابوحاتم نے کہا: یہ صدوق ہیں اور شعبہ سے روایت میں ثقہ میں یہ 193ھ میں فوت ہو گئے.

(۵) سلیمان بن مہران الاسدی الکاہلی، امام بخاری نے کہا: یہ 60 ھ میں پیدا ہوۓ اور ۱۴۸ ھ میں فوت ہوۓ انہوں نے حضرت انس بن مالک اور حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کو دیکھا ہے لیکن ان سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے انہوں نے ابووائل،معرور اور مجاہد وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے ابراہیم تیمی، ثوری اور شعبہ نے سماع کیا ہے.

(6) ابراہیم بن یزید بن قیس الکوفی, یہ اہل کوفہ کے ففیہ تھے، حضرت عائشہ کی خدمت میں گئے تھے، لیکن ان سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے، العجلی نے کہا: انہوں نے متعدد صحابہ کو پایا لیکن کسی سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے، یہ ثقہ تھے اور اپنے زمانہ کے مفتی تھے انہوں نے علقمہ، الاسود بن زید خالد، مسروق اور بہت سے مشائخ سے سماع کیا ہے اور ان سے شعبی، منصور اور الاعمش وغیرہ نے سماع کیا ہے الاعمش نے کہا: ابراہیم حدیث میں صراف تھے جن دنوں میں فوت ہوۓ ان دنوں یہ حجاج سے چھپے ہوۓ تھے، ان کے جنازہ میں صرف سات نفوس تھے ۵۸ سال کی عمر میں ۹۶ھ میں وفات پائی .

( ۷ ) علقمہ بن قیس بن عبداللہ بن علقمہ الکوفی’ یہ الاسود اور عبد الرحمان بن یزید کے چچا تھے، انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کی ہیں اور حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم سے احادیث روایت کی ہیں اور بھی متعدد صحابہ سے اور ان سے ابووائل، ابراہیم نخعی اور محمد بن سیرین وغیرہ نے احادیث روایت کی ہیں ان کی جلالت اور توثیق پر سب کا اتفاق ہے ابراہیم نخعی نے کہا: علقمہ حضرت ابن مسعود کے مشابہ تھے یہ 64ھ یا ۷۰ ھ میں فوت ہو گئے امام ابن ماجہ کے سوا باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.

(۸) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ان کا ذکر کتاب الایمان کے شروع میں ہوچکا ہے صحابہ میں عبد اللہ بن مسعود نام کے تین شخص میں ایک یہ ہیں دوسرے ابوعمر والثقفی ہیں تیسرے غفاری ہیں ۔( عمدة القاری ج۱ ص ۳۳۹۔ ۳۳۷)

الانعام:۸۲ میں ظلم سے مراد شرک ہے یا عام معصیت؟ ہر تقدیر پر دلائل اور اعتراضات کے جوابات

اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ’’ جولوگ ایمان لاۓ اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا‘‘۔(الانعام : ۸۲ ) صحابہ نے اس آیت میں ظلم کو اس کی تمام انواع پر محمول کیا، اللہ تعالی نے بتایا کہ اس سے مراد ظلم کی خاص قسم ہے اور وہ شرک ہے، حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے ۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ نفی اس چیز کی کی جاتی ہے، جس کا ثبوت ممکن ہو اور ایمان کے ساتھ تو شرک کی آمیزش ہو ہی نہیں سکتی’ پھر اس کی نفی کا کیا فائدہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شرک کی دو قسمیں ہیں: شرک جلی اور شرک خفی شرک جلی کی تو ایمان کے ساتھ آمیزش نہیں ہوسکتی، لیکن شرک خفی کی ایمان کے ساتھ آمیزش ہو سکتی ہے کیونکہ شرک خفی کا معنی ہے : ریا کاری اور دکھاوے کے لیے عمل کرنا اور اگر اس آیت کوظلم کے عام معنی پر محمول کیا جاۓ اور وہ معصیت ہے تو پھر اس آیت کا مصداق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کسی قسم کی کوئی معصیت نہ کی ہو یا پھر اس سے مراد حضرات انبیاء علیہم السلام ہیں، جنہوں نے کسی قسم کی کوئی معصیت نہیں کی ۔ اس پر پھر یہ اعتراض ہوگا کہ یہ پوری آیت اس طرح ہے:’’ جو لوگ ایمان لاۓ اور انہوں نے اپنے ایمان کوظلم ( کسی معصیت ) کے ساتھ نہیں ملایا ان ہی کے لیے امن اور سلامتی ہے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘( الانعام : ۸۲ ) پھر اس سے یہ لازم آۓ گا کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی کے لیے امن اور سلامتی نہ ہو اور ان کے سوا کوئی ہدایت یافتہ نہ ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ امن سے مراد ہے: کامل امن اور ہدایت سے مراد ہے : کامل ہدایت اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کامل امن اور کامل سلامتی انبیاء علیہم السلام ہی کو حاصل ہے۔

اور اگر اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہوتو اس کا معنی یہ ہو گا کہ جس نے ایمان لانے کے بعد شرک نہ کیا ہو، خواہ کوئی اور معصیت کی ہو تو اس کو امن اور اسلامتی حاصل ہو گی اس پر یہ اعتراض ہے کہ بعض فساق اور معصیت کر نے والوں کو دوزخ کا عذاب ہو گا تو پھر ان کو امن اور سلامتی تو حاصل نہ ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بھی دوزخ کے دائمی عذاب سے امن اور سلامتی حاصل ہوگی اور اس میں یہ دلیل ہے کہ مرتکب کبیرہ کو دائمی عذاب نہیں ہوگا اور اس آیت میں معتزلہ اور خوارج کا رد ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اور عام معصیت کا ارادہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ظلم سے مراد شرک لینے پر تو صحیح بخاری:۳۲ کی یہ حدیث ہے اور ظلم سے مراد عام معصیت لینے پر علامہ عینی نے’’مسند عبد بن حمید‘‘ کی یہ حدیث نقل کی ہے: ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق سوال کیا آپ خاموش رہے، حتی کہ ایک شخص آ کر مسلمان ہوا اور پھر فورا شہید ہو گیا آپ نے فرمایا: یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جو ایمان لاۓ اور انہوں نے اپنے ایمان کوظلم کے ساتھ نہیں ملایا ۔ ( عمدۃ القاری ج۱ص۳۴۱) یعنی و شخص چونکہ ایمان لاتے ہی شہید ہو گیا اس لیے وہ کسی بھی معصیت سے محفوظ رہا۔

* یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۳۵۔ ج۱ ص586 پر درج ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی، تبیان القرآن ج ۳ ص569 پر الانعام : 82 کی تفسیر ہے، وہاں اس آیت کا مصداق حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قرار دیا ہے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کا بھی ذکر کیا ہے لیکن اس حدیث کی شرح جو یہاں نعمۃ الباری میں کی گئی ہے وہ زیادہ مفصل اور مدلل ہے ۔ وللہ الحمد